دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Har Sahabi e Nabi Jannati Jannati | ہر صحابی نبی جنتی جنتی

book_icon
ہر صحابی نبی جنتی جنتی

  صحابیِ رسول کا مَرتبہ

            ’’صحابیِ رسول ‘‘ہونا اللّٰہ  پاک کی بہت بڑی نعمت ہے، بڑے سے بڑا ولی، صحابی کے مرتبے کو نہیں  پاسکتا، ہر صحابی عادِل اور جنتی ہے۔کوئی شخص بھلے کتنی ہی عبادت کرلے وہ کبھی بھی صحابی نہیں  بن سکتاکیونکہ ’’صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے حضورِ انور(صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   )کی صحبت پائی ،حضور (صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   )سے علم و عمل حاصل کیے،حضور ( صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کی تربیت پائی وہ تو انسان کیا فرشتوں  سے بھی بڑھ گئے۔‘‘ (مِراٰت ج ۸ص۳۴۰)فرشتوں  سے افضل میں  وہی تفصیل ہے جو صفحہ4پر گزر چکی۔

صحابہ وہ صحابہ جن کی ہر دن عید ہوتی تھی     خدا کا قُرب حاصل تھا نبی کی دید ہوتی تھی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

  صحابی سے کوئی بھی ولی بڑھ نہیں  سکتا

            ’’بہارِ شریعت ‘‘میں  ہے: تمام صحابۂ کرام(رَضِیَ اللہُ عَنْہُم ) اہلِ خیروصلاح(یعنی بھلائی والے) اور عادِل ہیں ۔ اِن کا جب ذِکر کیا جائے تو خیر (یعنی بھلائی) ہی کے ساتھ ہونا ’’فرض ‘‘ ہے ۔ کسی صحابی کے ساتھ سُوء ِعقیدت(یعنی برا عقیدہ رکھنا)بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم(یعنی جہنم کا حقدار ہونا) ہے کہ وہ (بداعتقادی) حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے ساتھ بغض(یعنی دشمنی )  ہے ، کوئی ’’وَلی‘‘ کتنے ہی بڑے مرتبے کاہو،کسی صحابی کے رُتبے کو نہیں  پہنچتا ۔ (بہارِ شریعت جلد اوّل ص252 تا 253 سے مختصراً)

کانامُردہ

مکتبۃُ المدینہکے 48 صَفحات کے رسالے ـ: ’’قبروالوں  کی 25 حکایات‘‘ صفحہ 26 پر ہے: ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :میرا ایک پڑوسی گمراہی کی باتیں  کیا کرتا تھا، اُس کے مرنے کے بعد میں  نے اسے خواب میں  دیکھا کہ کانا ہے۔ میں  نے پوچھا : یہ کیا معاملہ ہے ؟ جواب دیا: میں  نے صَحابۂ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان )  کی مبارک شان میں ’’ عیب‘‘ نکالے ، اللہپاک نے مجھ کو’’ عیب دار‘‘کردیا! یہ کہہ کر اُس نے اپنی پھوٹی ہوئی آنکھ پر ہاتھ رکھ لیا۔ (شرحُ الصُّدورص۲۸۰)

صحابہ کا فرشتے استقبال کریں  گے

            تمام صحابۂ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) اعلیٰ و اَدنیٰ (اور اُن میں  اَدنیٰ کوئی نہیں )سب جنتی ہیں ، وہ جہنم کی بھنک( بِھ۔نَکْ۔یعنی ہلکی سی آواز بھی ) نہ سُنیں  گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں  میں  رہیں  گے، محشر کی وہ بڑی گھبراہٹ اُنہیں  غمگین نہ کرے گی ، فرشتے اُن کا استقبال کریں  گے کہ یہ ہے وہ دِن جس کا تم سے وعدہ تھا۔ یہ سب مضمون قرآنِ عظیم کا ارشاد ہے۔(بہارِ شریعت ج اوّل ص۲۵۴)  اللہ پاک پارہ 17 سُوْرَۃُ الْانبیاءآیت نمبر 101 سے 103 میں  اِرشاد فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚ-وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ(۱۰۲) لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُؕ-هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۱۰۳)

ترجَمۂ کنزالایمان:بے شک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جہنَّم سے دور رکھے گئے ہیں  ، وہ اس کی بھنک نہ سُنیں  گے اور وہ اپنی مَن مانتی خوا ہشوں  میں ہمیشہ رہیں  گے۔ انہیں  غم میں  نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اور فرشتے اُن کی پیشوائی کو آئیں  گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دِن جس کا تم سے وعدہ تھا۔

’’میں  اُنہیں  میں  سے ہوں ‘‘

            حضرتِ مولیٰ علی شیر خدا رضی اللہ عنہ نے سُوْرَۃُ الْانبیاء کی آیت نمبر 101تلاوت فرمائی:

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱)

ترجَمۂ کنزالایمان: بے شک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنّم سے دُور رکھے گئے ہیں۔

پھر ارشاد فرمایا: میں  اُنہیں  میں  سے ہوں ، (حضراتِ) ابوبکر، عمر،عثمان،اورطلحہ،زبیر، سعد، سعید،  عبد الرحمٰن بن عوف، ابو عبیدہ بن جراح  رضی اللہ عنہم (بھی) اُنہیں  میں  سے ہیں ۔ (تفسیرِبیضاوی ج۴ص۱۱۰)

            اللہپاک پارہ19 سُوْرَۃُ النَّمل  آیت 59میں  فرماتا ہے:

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰىؕ

ترجَمۂ کنزالایمان: تم کہو سب خوبیاں  اللہ کو اور سلام اس کے چُنے ہوئے بندوں  پر۔

            صَحابی ابنِ صحابی حضرتِ عبدُاللّٰہ بن عباس  رضی اللہ عنہمابیان کردہ آیتِ مبارکہ کے اس حصے:

’’ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى  ‘‘ (ترجَمۂ کنزالایمان: اور سلام اس کے چُنے ہوئے بندوں  پر) کی تفسیر میں  فرماتے ہیں  :’’ چنے ہوئے بندوں  سے نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کے صحابۂ کرام مراد ہیں  ۔‘‘(تفسیر طبری ج۱۰ص۴ رقم۲۷۰۶۰)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن