30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فضیلت کے اعتبار سے صحابۂ کرام کی ترتیب
حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں :بعد اَنبیا ء و مرسلین، تمام مخلوقاتِ الٰہی اِنس و جن و مَلک(یعنی انسان،جن اورفرشتوں )سے اَفضل صدِّیقِ اکبر ہیں ، پھر عمر فاروقِ اعظم، پھر عثمانِ غنی، پھر مولیٰ علی پھربقیہ عشرۂ مُبشَّرہ وحضراتِ حسنین و اصحابِ بدر و اصحابِ بَیْعۃُ الرّضوان رضی اللہ عنہم کے لیے اَفضلیت ہے اور یہ سب قطعی (یعنی یقینی)جنتی ہیں ۔(بہارِشریعت ج ۱وّل ص۲۴۱،۲۴۹،بتغیر قلیل) عبارت میں فرشتوں سے مراد عام فرشتے ہیں کیونکہ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تمام فرشتوں سے افضل نہیں ہیں بلکہ فرشتوں میں سب سے اعلیٰ درجے والے فرشتے جنہیں ’’ملائکہ مقربین‘‘ کہا جاتا ہے، جن میں عرش اٹھانے والے اور’’ رسول فرشتے ‘‘ جیسے: جبرئیل و میکائیل و اسرافیل و عزرائیل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام داخل ہیں ، یہ فرشتے تمام صحابۂ کرام سے افضل ہیں ۔
صحابہ کا گدا ہوں اور اہلِ بیت کا خادِم
یہ سب ہے آپ ہی کی تو عنایت یَا رَسْوْلَ اللہِ (وسائل بخشش ص۳۳۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُوْرَۃُ الْبَقَرَہ کی آیت 13میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤجیسے اور لوگ ایمان لا ئے ہیں ، تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایما ن لے آئیں سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں ۔
صَحابی ابنِ صحابی حضرتِ عبدُاللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہما جنہیں دُعائے مصطفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی برکت سے علمِ تفسیر حاصل ہو ا، سُوْرَۃُ الْبَقَرَہ کی آیت 13کے اِس حصے ’’ كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ‘‘ (ترجَمۂ کنزالایمان: جیسے اور لوگ ایمان لائے ہیں ) کی تفسیرمیں فرماتے ہیں : ’’جیسے حضرتِ ابوبکر صِدِّیق،حضرتِ عمر فاروق،حضرت ِ عثمانِ غنی اورحضرتِ علی رضی اللہ عنہم ایمان لائے۔(ابن عساکر ج۳۹ص۱۷۷) اِن چاریاروں کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اِن کے ایمان کا خلوص اُس وقت عوام و خواص میں مشہور ہوچکاتھا۔‘‘ (تفسیر عزیزی پارہ اوّل ص۱۳۷)
امام اہلِ سنت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
جناں بنے گی محبانِ چار یار کی قبر جو اپنے سینے میں یہ چار باغ لے کے چلے
الفاظ معانی:جنان:جنتیں ،محبان:مَحَبَّت کرنے والے۔
شرحِ کلامِ رضا: جو اپنے سینوں میں باغِ رسالت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اِن چارو ں مہکتے پھولوں (یعنی چاریاروں )کی محبت قبروں میں ساتھ لے جائیں گے ، اللّٰہ ربُّ العزّت کی رَحمت سے اُن کی قبریں جنت کے باغ بن جائیں گی۔
اللہ!میرا حشرہو بوبکر اور عمر
عثماں غنی و حضرتِ مولیٰ علی کے ساتھ
(وسائل بخشش ص۲۰۹)
ہر صحابیِ نبی جنّتی جنّتی سب صَحابیات بھی جنَّتی جنَّتی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تابعی بزرگ حضرتِ عبدُاللّٰہ بن وَہب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے فرمایا: جب نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیارے پیارے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مُلکِ شام آئے تو ایک راہب(یعنی عیسائی عبادت گزار) سے سامنا ہوا ، راہب نے اُنہیں دیکھ کر کہا: اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! حضرت عیسٰی روحُ اللّٰہ عَلَیْہِ السَّلَامکے حواری (یعنی ساتھی)جنہیں سولی دی گئی اور آروں سے چیرا گیا وہ بھی مُجاہَدے (یعنی عبادت و ریاضت)میں اِس مقام تک نہیں پہنچے، جس مقام تک حضرتِ محمد عربی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پہنچے ہوئے ہیں ۔ حضرتِ عبدُاللّٰہ بن وَہب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے حضرت سیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ سے عرض کی :(راہب نے جن کی تعریف کی تھی) آپ اُن صحابۂ کرام کے نام بتا سکتے ہیں ؟تو اُنہوں نے حضرتِ ابو عبیدہ بن جراح، حضرتِ معاذبن جبل،حضرتِ بِلال اور حضرتِ سعدبن عبادہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا نام لیا ۔ (اللّٰہ والوں کی باتیں ج۶ ص۴۶۱) اللّٰہ ربُّ العزّت کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
آل و اصحابِ نبی سب بادشہ ہیں بادشاہ میں فَقط ادنیٰ گدا اَصحاب و اہل بیت کا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع