30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مزاح کرنا۔ کبھی پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلِہ وسلم سے تو کبھی آپس میں۔
چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں: كَانَ اَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَادَحُونَ بِالْبِطِّيخِ، فَاِذَا كَانَتِ الْحَقَائِقُ كَانُوا هُمُ الرِّجَالَ یعنی آقا صلی اللہ علیہ واٰلِہ وسلم کے صحابہ (بطور مزاح) ایک دوسرے کی طرف خربوزہ پھینک کر کھیلا کرتے تھے لیکن جب حقائق میں غور و فکر کی بات آتی تو وہ مردِ میدان تھے۔( 1)
خوش رو انسان کی 6نشانیاں
پیارے بھائیو!پیچھے بیان ہو چکا کہ مزاح فطرت انسانی کا تقاضہ ہے، تو جہاں یہ فطرت انسانی کا تقاضہ ہے وہیں یہ انسان کے خوش رو ہونے کی دلیل بھی ہے۔
حضرت ربیعہ بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْمَرْوُءة سِتُّ خِصَالٍ یعنی خوش رو انسان کی 6خوبیاں ہیں جن میں سے 3 حالت اقامت کی ہیں اور 3حالت سفر کی ہیں، حالت اقامت کی خوبیاں یہ ہیں:(1):تلاوت قرآن(2):مساجد کی آباد کاری(3):مہمان نوازی۔جب کہ سفری خوبیاں یہ ہیں(4):اپنا زاد راہ اپنے سفر کے ساتھی پر خرچ کرنا (5):اس کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا (6):اس کے ساتھ گناہ سے بچتے ہوئے ہنسی مزاح کرنا۔( 2)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت چونکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلِہ وسلم نے فرمائی جو کہ اخلاقِ حسنہ کے جامع تھے، لہٰذا انہوں نے اپنے اصحاب کو بھی اخلاق کی اعلیٰ بلندی پر قائم فرمایا، اسی لیے یہ حضرات سب سے زیادہ خوش اخلاق و خوش رو تھے۔
[1] ...الادب المفرد، صفحہ:140، حدیث:266۔
[2] ... شرح السنہ للبغوی، باب المزاح، جلد:13، صفحہ:184۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع