30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دلیل موجود ہے کہ کبھی کبھار مزاح کرنا جائز ہے۔( 1)
وہ جس کی آنکھ میں سفیدی ہے؟
حضرت زید بن اسلم رحمۃ اللہ علیہ بيان كرتے ہیں:حضرت بی بی اُمّ اَیمن رضی اللہ عنہا بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلِہ وسلم میں حاضرہوئیں اورعرض کی کہ میرے خاوندآپ صلی اللہ علیہ واٰلِہ وسلم کو یا د کرتے ہیں۔اِرشَاد فرمايا : كون ؟ وہی جس کی آنکھ میں سفیدی ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ پاک کی قسم ! ان کی آنکھ میں کو ئی سفیدی نہیں ہے(وہ سمجھیں شاید سرکار صلی اللہ علیہ واٰلِہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ان کو کم نظر آتا ہے)۔ارشاد فرمایا:ہاں۔اس کی آنکھ میں سفیدی ہے۔انہوں نے عرض کی : اللہ پاک کی قسم !ان کی آنکھ میں کو ئی سفیدی نہیں ہے۔ اِرشَاد فرمایا:کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کی آنکھ میں سفیدی نہ ہو۔( 2)
نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلِہ وسلم کی مراد وہ سفیدی تھی جوآنکھ کے سیاہ حلقے کو گھیرے ہوتی ہے(جبکہ خاتون یہ سمجھیں کہ شاید ان کے آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے)۔( 3)
ہاں سارے کے سارے داخل ہو جاؤ
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلِہ وسلم کی خدمت میں غزوہ تبوک میں حاضر ہوا، جب کہ آپ چمڑے سے بنے ہوئے سائبان میں قیام پذیر تھے۔ میں نے سلام کیا، تو انھوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا (اندر)آجاؤ میں نے عرض کیا: پورا کا پورا آجاؤں؟ آپ نے فرمایا: ہاں پورے کے
[1] ...شرح سنن ابی داود لابن رسلان، جز:19، صفحہ:155، زیرِ حدیث:4999۔
[2] ...الفاکہ لابن بکار، جز :1،حدیث:3۔
[3] ...شرح سنن ابی داود لابن رسلان، جز:19، صفحہ:160، زیرِ حدیث:5002۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع