30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے لیث بن ابو سلیم کو ضعیف قرار دیا ہے۔(1)
کشف الخفاء میں ہے:
رَوَاهُ الْتِّرْمَذِيُ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ عَن اِبنِ عَبَاسٍ رَفَعَه یعنی اس حدیث پاک کو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے۔ (2)
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ اس حدیث پاک کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے الادب المفرد میں، امام ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ نے حلیۃ الاولیاء میں، امام ہروی رحمۃ اللہ علیہ نے ذم الکلام میں، امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے تذکرۃ الحفاظ میں، (اس سند) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمِحَارِبِيِّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ اَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ اَبِي بَشِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مرفوعا روایت کیا ہے۔
اس روایت کے 2مرکزی راویوں پر آئمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے۔
(1):پہلا راوی: عبد الرحمن بن محمد ہے ۔یہ مدلس راوی ہیں۔
امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: لَا بَأْسَ بِه وَكَانَ يُدَلِّسُ یعنی ان کی روایت لینے میں کوئی مسئلہ نہیں البتہ یہ تدلیس کرتے ہیں۔(3)
ہم کہتے ہیں:امام صاحب کے ان الفاظ کہ لَا بَأْسَ بِه معترض کو فائدہ نہیں دیں گے کیونکہ یہ راوی اپنی روایات میں تدلیس سے کام لیتا ہے اگر اس کے مقابلے میں کوئی صحیح
[1] ... المغنی عن حمل الاسفار، صفحہ:637۔
[2] ...كشف الخفاء جلد:2، صفحہ: 360۔
[3] ...تقريب التہذيب، صفحہ: 349، رقم:3999۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع