30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیان کرتے ہوئےارشاد فرمایا: وَيْلٌ للَّذِيْ يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ، وَيْلٌ لَهُ، وَيْلٌ لَهُ یعنی اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جو بات کرتا ہے اس میں جھوٹ بولتاہے تاکہ لوگوں کو ہنسا سکے اُس کے لیے تباہی اور ہلاکت ہے۔ ( 1)
علامہ محمد بن اسماعیل حسنی کحلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کسی کو ہنسانے کے لیے بھی جھوٹ بولنا حرام ہے اور جس طرح بولنے والے کے لیے حرام ہے اِسی طرح اگر سننے والوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ ہمیں ہنسانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے تو سننے والوں کو اس کی بات سننا حرام ہے،حرام اس لیے ہے کہ وہ اس کے جھوٹ کا اقرار کر رہے ہیں حالانکہ اُن پر واجب تھا کہ اس کی اس بات کی کاٹ کرتے اب انہوں نے نہیں کی لہذا یہ بھی اسکے جرم میں شریک ہو گئے۔( 2)
امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اِس حدیث پاک سے آپ صلی اللہ علیہ واٰلِہ وسلم کی مراد وہ بات ہے جس میں کسی مسلمان کی غیبت ہو یا جس سے کسی مسلمان کے دل کو اذیت پہنچتی ہو محض مزاح مراد نہیں ہے۔( 3)
یعنی محض مزاح ناجائز نہیں بلکہ وہ مزاح ناجائز ہے جس میں مسلمانوں کی غیب کی جائے یا کسی مسلمان کا دل دکھایا جائے اور اس میں جھوٹ سے کام لیا جائے۔
بہر حال ایسا مسخرا جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے ، جب تک اس کام کو چھوڑ نہیں دیتا کامل ایمان والا نہیں بن سکتا ۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لَا يَبْلُغُ رَجُلٌ حَقِيقَةَ الْاِيمَانِ حَتَّى يَدَعَ الْكَذِبَ فِي الْمِزَاحِ یعنی بندہ تب تک ایمان کی
[1] ...ابو داود، کتاب الادب، باب فی التشدید فی الکذب، جلد:7، صفحہ:342،حدیث:4990۔
[2] ...سبل السلام شرح بلوغ المرام، جلد:8، صفحہ:262-263، زیرِ حدیث:1431۔
[3] ...احیاء العلوم، کتاب آفات اللسان، الآفۃ الرابعۃ عشرۃ الکذب...الخ، جلد:3، صفحہ:140۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع