30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور پھر اللہ پاک کے آخری نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی قبر شریف کے قریب ہی پہلو میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ دفن کیے گئے۔ ([1])
خود کو چھوٹا سمجھ کر جواب دینے سے مَت رُکیے!(حکایت)
سُوال:اگر کوئی بڑا سُوال کرے اور چھوٹے کو اس کاجواب معلوم ہو تو اُسے کیا کرنا چاہیے؟ ([2])
جواب:اسے جواب دینا چاہیے چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے ایک مَرتبہ لوگوں سے کسی آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر پوچھی ، کسی کی جانب سے کوئی جواب نہ آیا تو کم عمر صحابی بلکہ صحابی ابنِ صحابی حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَانے عرض کیا : اِس کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ ہے ، حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے انہیں محبت دیتے ہوئے فرمایا : اے میرے بھتیجے! اگر تمہیں معلوم ہے تو ضرور بتاؤ اور خود کو چھوٹا مَت سمجھو۔ ([3])اِس حکایت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی بڑا سُوال کرے اور آپ چھوٹے ہوں مگر آپ کو جواب معلوم ہو تو خود کو چھوٹا سمجھ کر جواب دینے سے مَت رُکیے ، اگر آپ کا جواب غَلَط ہوا تو آپ کو صحیح جواب معلوم ہوجائے گااور اس صورت میں بھی آپ ہی کا فائدہ ہے۔
فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا مختصر تعارف
حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا نام مُبارَک عُمر اور لقب فاروقِ اعظم ہے ۔ ([4]) آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ہیں۔ ([5]) اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن کا لقب سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ہی کو دیا گیا۔ ([6]) آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جنتی صحابی
[1] طبقات ابن سعد ، عمر بن الخطاب ، ذکر استخلاف عمررَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، ۳ / ۲۰۷ ، رقم : ۵۶۔ تاریخ الخلفاء ، ابوبکر الصدیق ، فصل فی مرضه و وفاته...الخ ، ص۶۶ملتقطاً ۔
[2] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
[3] بخاری ، کتاب التفسیر ، باب قوله : ایود احدکم ان تکون له جنة ...الخ ، ۳ / ۱۸۵ ، حدیث : ۴۵۳۸۔
[4] تاریخ المدینة المنورة لابن شبة ، عمر بن الخطاب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، تسمیته بالفاروق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، الجزء : ۲ ، ۱ / ۶۶۲۔
[5] تاریخ المدینة المنورة لابن شبة ، عمر بن الخطاب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، ذکر ابتداء خلافته رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، الجزء : ۲ ، ۱ / ۶۷۳۔
[6] تاریخ المدینة المنورة لابن شبة ، عمر بن الخطاب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، اول من سمی عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، امیر الؤمنین ، الجزء : ۲ ، ۱ / ۶۷۷-۶۸۰ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع