30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کر دیا وہی اصل مال ہے اور یہ اس وقت کام آئے گا کہ جب ہمیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی اور اس کے علاوہ جو مال ہے اسے ہم کھا کر ہضم اور پہن کر پُرانا کر دیں گے ۔ ([1])
سب سے عمدہ اونٹ راہِ خدا میں دے دیا(حکایت)
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو ذَر غِفاری رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ میں چاہتا ہوں آپ کی صحبت میں رہوں اور آپ کی خدمت کروں۔ حضرتِ سَیِّدُنااَبُو ذَر غِفاری رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے فرمایا : اس کے لیے ایک شرط ہے کہ جب میں تمہیں اپنے مال میں سے راہِ خُدا میں خرچ کرنے کا کہوں تو سب سے عمدہ مال خرچ کرنا ۔ اس نے کہا : ٹھیک ہے۔ پھر ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کو کسی نے مشورہ دیا کہ حضور! دَریا کے کنارے کچھ غریب لوگ آباد ہیں اگر ان میں گوشت وغیرہ تقسیم ہوجائے تو ... آپرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے فرمایا : ٹھیک ہے۔ پھر جو شخص خدمت کے لیے حاضر ہوا تھا اسے حکم دیا کہ میرے اونٹوں میں سے سب سے عمدہ اونٹ نحر کرو اور اس کا گوشت ان غریبوں میں بانٹ دو اور جتنا ان سب کو دو اتنا ہی حِصَّہ مجھے بھی دے دو۔ چنانچہ اس نے ایک بہترین اونٹنی لا کر دِکھائی اور پوچھا کہ میں اسے نحر کر دوں؟آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے فرمایا : یہ سب سے بہترین تو نہیں ہے ، میرے پاس اس سے بھی بہتر اونٹ ہے۔ خادم نے عرض کی : حضور! پہلے میں نے سوچا اسی کو لے لوں کہ یہ سب سے بہترین ہے لیکن میں اس اونٹنی کو اس لیے لایا ہوں کہ وہ اونٹ حضور کی ضَرورت کا ہےاور سواری کے لیے کام آتا ہے۔ آپرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُنے فرمایا : تم نے میری ضرورت کی وجہ سے اس کو چھوڑا ہے؟ وہ کہنے لگا : جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے فرمایا : نہیں اسی کو نحر کرکے تقسیم کرو۔ میں تمہیں بتاتاہوں کہ میری ضَرورت کا دِن کون سا ہے؟پھر اِرشاد فرمایا : میری ضَرورت کا دِن وہ ہے جس دِن میں اِنتقال کے بعد قبر میں رکھ دیا جاؤں گا۔ ([2]) ظاہر ہے جب سب سے عمدہ چیز راہِ خدا میں دی ہوگی تو اس کا ثواب بھی زیادہ ملے گا۔ چوتھے
[1] رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : اِنسان کہتا ہے : میرا مال ، میرا مال اور تمہارے لئے تو تمہارا مال وہی ہے جو تم نے صَدَقہ کر کے باقی رکھا یا کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پُرانا کر دیا۔
( مسلم ، کتاب الزھد والرقائق ، باب الدنیا سجن للمؤمن وجنة للکافر ، ص۱۲۱۰ ، حدیث : ۷۴۲۰)
[2] تاریخ ابن عساکر ، ابوذر الغفاری ، ۶۶ / ۲۰۵-۲۰۶ ، رقم : ۸۴۹۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع