30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خدا جانے احمقوں اور بے وقوفوں کی جنَّت سے کیا مُراد ہے؟ ایک محاورہ یہ بھی بولا جاتا ہے : “ ماں کی دُعا جنَّت کی ہوا “
بہرحال اگر کوئی جنَّت کی توہین کرے گا تو کافر ہو جائے گا۔ ([1]) لیکن کوئی مسلمان جنَّت کی توہین کیوں کرے گا؟ لہٰذا ایک دَم کفر کا حکم نہیں دیں گے کہ اس کی مُراد معلوم نہیں۔ جنَّت کے لفظی معنیٰ باغ کے ہیں لیکن عام بول چال میں باغ کو جنَّت نہیں بولاجاتا کیونکہ جب جنَّت کا لفظ بولتے ہیں تو ایک مخصوص تصور پیدا ہوتا ہے۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ ہم آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے پیچھے پیچھے اصلی جنَّت میں جائیں گے۔
باغِ جنَّت میں محمد مسکراتے جائیں گے
پھول رَحمت کے جھڑیں گے ہم اُٹھاتے جائیں گے
(امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : ) یہ جملہ مُحاوَرةً ہی بولا جاتاہے جیسے بعض علاقوں کو جنَّت نظیر یا جنَّت کی مثل بولا جاتا ہے یہاں پر بھی یہی مقصود ہوتا ہے کہ کوئی عجیب باتیں کرتا ہے تو لوگ اسے عُرفاً اور مُحاوَرةً کہتے ہیں کہ کیا احمقوں کی جنَّت میں رہتے ہو؟
اگر بلی دُودھ میں منہ ڈال دے تو کیا حکم ہے؟
سُوال: اگر بلی دُودھ میں منہ ڈال دے تو دودھ کا کیا کِیا جائے؟ (سیالکوٹ کے ایک اسلامی بھائی کا سُوال)
جواب: بلی کے دُودھ میں منہ ڈال دینے سے دُودھ ناپاک نہیں ہو جاتا پاک رہتا ہےلہٰذا اِستعمال کیا جاسکتا ہے “ البتہ اگر بلی نےابھی ابھی چوہا کھایا ہے اور خون اس کے منہ پر لگا ہوا ہے اور اسی حالت میں اس نے فوراً اپنا منہ دُودھ میں ڈال دیا تو دودھ ناپاک ہوجائے گا “ ([2]) اب نہ اسے پی سکتے ہیں اور نہ ہی کسی حلال جانور کو پلا سکتے ہیں۔ یاد رَکھیے! گھر میں رہنے والے جانور جیسے بلی ، چوہا ، سانپ اور چھپکلی کا جھوٹا مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے۔ ([3]) اگر بلی دودھ میں منہ ڈال دے جس کی وجہ سے اسے پینے میں طبعی طور پر کراہت آئے اور پینے کا دل نہ کرے تو اسی بلی کو وہ دودھ پینے دیا جائے اور اگر اس کے
[1] کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ، ص۵۱۵۔
[2] فتاویٰ ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب الثالث فی المیاہ ، الفصل الثانی...الخ ، ۱ / ۲۴ ماخوذاً ۔ بہارِ شریعت ، ۱ / ۳۴۳ ، حصہ : ۲ ماخوذاً۔
[3] فتاویٰ ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب الثالث فی المیاہ ، الفصل الثانی...الخ ، ۱ / ۲۴ ۔ بہارِ شریعت ، ۱ / ۳۴۳ ، حصہ : ۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع