30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسوں کو ہی قاری سمجھ رہے ہوتے ہیں حالانکہ ان میں سے ہر ایک کا قاری ہونا ضروری نہیں بلکہ ان میں سے بعض مخارِج کے مُعاملے میں توڑ پھوڑ مچا ر ہے ہوتے ہیں البتہ اگر کوئی اِس طرح خوبصورت اَنداز میں قرآن پڑھنے والاواقعی قاری ہو تواس کے پیچھے بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ یاد رَکھیے! اصل قاری وہ ہے جس کی کم از کم اتنی قراءت دُرُست ہو جس سے نماز صحیح ادا ہوسکے۔ بہرحال جس کی قراءت دُرُست نہ ہو وہ کسی جامع شرائطِ امامت قاری کے پیچھے نماز پڑھے اور سیکھتا بھی رہے اوروہ التحیات بھی سیکھ کر یاد کرلے کہ اس کا بھی نما زمیں پڑھنا واجب ہے۔ ([1])
سُوال: دو مُردار کھائے جاتے ہیں : ایک مچھلی اور دوسرا ٹڈی ، سُوال یہ ہے کہ اگر مچھلی سمندر یا دریا میں خود ہی مَرجائے تو اس کو ایسے ہی پکڑ کر کھا سکتے ہیں یا زندہ مچھلی کو شِکار کر کے اس کے مَرنے کے بعد کھانا ہوگا؟ نیز ٹِڈی بھی اگر خود بخود مَر کر ہمارے گھر میں گِر جائے تو اس کو ایسے ہی پکاکر کھا سکتے ہیں یا اس کو بھی پکڑ کر شکار کر کے کھائیں؟
جواب: بہارِ شریعت میں ہے : ہمارے لیے دو مَرے ہوئے جانور اور دو خون حلال ہیں ، دو مُردے مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تِلّی ہیں۔ ([2])مچھلی اگر کسی سبب سے مَری جیسا کہ پانی میں کیمیکل ڈال دیا اور اس کی وجہ سےمچھلی مَر گئی یا پانی میں اتنی ہیٹ دی کہ اس کی گرمی سے مچھلی مَر گئی یا اس طرح کے کسی اور سبب سے مَری تو حلال ہے(3)اور اگر طبعی موت مَری یعنی پانی کے اندر ہی فطرتی طور پر مَر کر اُلٹی تیر گئی تو یہ حرام ہے۔ (4) البتہ ٹڈی کا مسئلہ مچھلی کی طرح نہیں ہے۔ دُرِّمختار میں ہے : ٹڈی کسی بھی طرح مَری چاہے قدرتی موت مری ہو یا کسی اور وجہ سے مَر گئی ہو وہ حلال ہے۔ (5)
”احمقوں کی جنَّت“ کا کیا مطلب ہے؟
سُوال: بعض لوگ آپس میں کہتے ہیں : “ آپ کیا احمقوں کی جنَّت میں رہتے ہیں “ ان کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:جی ہاں اِس طرح کے محاورے بولے جاتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ “ کیا بے وقوفوں کی جنَّت میں بستا ہے “ اب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع