30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُودھم مچاتے ، بیہودہ فِقْرے کَسْتے ، مزید اس پر ہنستے ، قہقہے لگاتے اور زور زور سے تالِیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں ۔ اس قسم کی حَرکتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گویاشرم و حیا کا عنصر بالکل خَتْم ہوچکا، نِجی مُعامَلات ہوں یا اِجْتمِاعی تقریبات، مَحلّہ ہو یا با زار ہر جگہ شرم و حیا کا قَتْلِ عام اور بے حيائی کی دھوم دھام ہے ، جس کو دیکھو بڑھ چڑھ کر بے حيائی کا شیدائی نظر آرہا ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو عَقْلِ سلیم عطا فرمائے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بدنِگاہی بھی بدکاری کا ایک بَہُت بڑا سَبَب ہے ۔ انسان جب فَحاشی وعُریانی (Nudity & Obscenity)پرمَبنی نَظارے دیکھتا ہے تو اس کے شَہوانی جَذبات بھڑک اٹھتے ہیں اور پھر وہ اپنی خواہِش کو پوراکرنے کے لئے بسا اوقات ہر حد سے گزرجاتاہے ۔ موجودہ دور میں میڈیا اس بدنِگاہی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بہت ساری مُعاشرتی برائیوں کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ فِلْموں، ڈِراموں میں جِنْسی جَذبات کو برانگیختہ کرنے (اُبھارنے )والے مَنَاظِر دِکھائے جاتے ہیں تاکہ لوگ جَذبات سے مَغْلُوب ہوکریہ سب دیکھیں لیکن اس بات سے آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں کہ اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں، عورتوں کی عِصْمَت دَرِی جیسے واقعات پر مگر مچھ کے آنسو تو بہائے جاتے ہیں مگر اس بات پر کوئی غورکرنے کے لئے تیار نہیں کہ یہ ان فِلْموں، ڈِراموں ہی کے ذریعے پھیلنے والی فَحاشی کا نتیجہ ہے ، حُقُوقِ نِسْوَاں کا ڈَھول تو بَہُت پیٹا جاتا ہے مگر اسی عورت کو چند سِکّے کمانے کے لئے ماڈلز(Models)کے نام پر جِنْسِ بازار بنا دیا جاتا ہے ۔ اِسلام نے تو عورت کو عِزت دی، پردہ کی صُورَت میں عِصْمَت دی، گھر کی چاردِیواری کی صورت میں حفاظت کا مَضْبُوط قَلْعَہ دیامگر ہم نے آزادی، تَرَقّی اور حُقُوقِ نِسْوَاں کے بظاہر خُوش کُن نعرے دے كر اسے ذلیل و رُسْوا کرکے رکھ دیا ۔ اب نہ اس کی عزت محفوظ ہے نہ عِصْمَت ۔
د ل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اِس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چَراغ سے
پیارے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ بدنگاہی کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔ لہٰذا اپنی ناموس کی حفاظت چاہتے ہیں تو اپنی نگاہوں کو بند کر لیجئے ورنہ یاد رکھئے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، محبوب رب العزت صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : آنکھیں بھی بدکاری کرتی ہیں ۔ (مسند احمد، ۲ /۸۴، حدیث : ۳۹۱۲) اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ آنکھوں کی بدکاری دیکھنا ہے ۔ (ابو داود، کتاب النکاح، باب فی ما یؤمر بہ من غض البصر، ۲/۳۵۸، حدیث : ۲۱۵۳)
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی فرماتے ہیں : جو آدمی اپنی آنکھوں کو بند کرنے پر قادر نہیں ہوتا وہ اپنی شرمگاہ کی بھی حفاظت نہیں کرسکتا ۔ (احیا ء علوم الدین، کتاب کسرالشھوتین، ۳ /۱۲۵)
آقا کی حیا سے جھکی رہتی تھیں نگاہیں
آنکھوں پہ مِرے بھائی لگا قفل ِ مدینہ
حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی تحریر فرماتے ہیں : جو کوئی اپنی آنکھوں کو نظر حرام سے پُر کرے گا قیامت کے روز اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی آنکھوں کو آگ سے بھر دے گا ۔ (مکاشفۃ القلوب، الباب الاول فی بیان الخوف، ص۱۰)
حضرت سیِّدُنا علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ عورت کے مَحاسن (یعنی خوبیوں) کو دیکھنا ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے ۔ جس نے نامحرم سے اپنی آنکھ کی حِفاظت نہ کی بروزِ قیامت اُس کی آنکھ میں آگ کی سَلائی پھیری جائے گی ۔ (بَحرُ الدُّمُوع، الفصل السابع والعشرون، ص۱۷۱)
آہ!ہمارے نازُک جِسْموں میں کہاں جہنّم کے عذاب کی تاب ہے ! ہمیں چیونٹی کاٹ لے تو تڑپ اٹھتے ہیں!آنکھ میں مَعْمُولی سا کنکر چلا جائے تو بے قرار ہوجاتے ہیں ۔ ذرا سوچئے تو سہی ۔ ۔ ۔ ! اگر بد نِگاہی کے سَبَبْ آنکھوں میں جہنّم کی آگ کی سَلائی پھیر دی گئی تو ہمارا کیا بنے گا؟آئیے ابھی وقت ہے ، یہ سانس چل رہی ہے ، توبہ کا درکھلا ہے ، اُس کریم و رحیم رب کی رحمت بڑی وسیع ہے توبہ کر کے مَغْفِرَت کی بھیک مانگ لیجئے ۔
حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نورِ مجَسّمْ، شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے چہرے سے خون بہہ رہاتھا، دکھی دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے استفسار فرمایا : تجھے کیا ہوا؟اس نے عرض کی : میرے پاس سے ایک عورت گزری، میں اس کی طرف دیکھنے لگا ، میری نگاہیں مسلسل اس کا پیچھا کر رہی تھیں کہ اچانک میرے سامنے ایک دیوار آگئی جس نے مجھے زخمی کردیا اور میرا یہ حال کردیا جسے آپ مُلاحَظہ فرمارہے ہیں ۔ تو سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے تواُسے دنیاہی میں اس کے گناہ کی سزادے دیتاہے ۔ (المعجم الکبیر، ۱۱ /۲۴۸، حدیث : ۱۱۸۴۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع