30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہی بڑھتی چلی جائیگی ۔ (پردے کے بارے میں سوال جواب، ص ۲۲۴)
ناول پڑھنااور حیا سوز تصاویر دیکھنا
عِشْقِیَہ و فِسْقِیَہ ناول اور افسانے وغیرہ پڑھنا اور حیا سوز تصاویر دیکھنابھی بدکاری کی طرف لے جانے کا بہت بڑا سبب ہے ۔ انسان جوکچھ پڑھتا یا دیکھتاہے اس کا اثر اس کے دل پرہوتا ہے اورپھر اُسی طرح کے خیالات جنم لیتے ہیں تو جو کوئی ان ناولوں اور افسانوں میں ’’عِشْق ومَحَبَّت‘‘ کی داستانوں کو پڑھے گا وہ خود کو ان حَرْکتوں سے کیسے روک پائے گا!جس کا بعض اوقات نتیجہ بدکاری کی صورت میں سامنے آتاہے ۔ بد قسمتی سے ان ناولوں اور افسانوں کو زیادہ تر خواتین پڑھتی ہیں حالانکہ یہ تو وہ نازُک شیشیاں جنہیں معمولی سی ٹھیس نقصان پہنچاسکتی ہے ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، پَروانۂ شَمْعِ رِسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ لڑکیوں کوسورۂ یُوسُف کا ترجَمہ (و تفسیر ) نہ پڑھائیں کہ اس میں مَکْرِ زَناں(یعنی عورَتوں کے دھوکہ دینے ) کا ذِکْرفرمایا ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ، ۲۴ /۴۵۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مقامِ غور ہے ، لڑکیوں کو قراٰنِ مجید کی ایک سُورَت سورۂ یوسُف کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے سے اس لئے مَنْع کر دیا گیا ہے کہ کہیں یہ مَنْفی(یعنی اُلَٹ) اَثْر نہ لے لیں ۔ اب آپ ہی اندازہ لگالیجئے کہ انہیں بے ڈھنگی تصویروں اورحیا سوز فِلَمی اِشْتِہاروں وغیرہ ہزاروں تباہ کاریوں سے بھرپور اخباروں(Newspapers)، ماہناموں (Monthly Magazines)، ناوِلوں (Novels) اور ڈائجسٹوں (ڈا ۔ اے ۔ جِسْ ۔ ٹُوں) (Digests)کی اِجازَت کیسے دی جاسکتی ہے !اسی طرح مختلف میگزینز (Magazines) یعنی رسالوں اور جریدوں میں چھَپی فُحْش تصاویر دیکھنے ، گھر کی دیواروں پر ڈرامَہ يا فِلَم ميں کام کَرنے والی بے حَیا اداکاراؤں (Actresses)کی تصاویر لگانے اور موبائل فون میں ایسی تصویریں اور ویڈیو کلپ (Video Clip)رکھنے اور دیکھنے والوں کو غورکرنا چاہیے کہ یہ بے حیائی کا طُوفانِ بدتمیزی ہمیں کس طرف بہا کر لے جا رہا ہے ؟
جب ہم سب جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے تو پھر بھی یہ سب کیوں کررہے ہیں؟آج جس طرف نگاہ اٹھائیں بے حیائی پر مبنی تصاویر ہی تصاویر نظر آتی ہیں آخر ہمیں کیا ہو گیا ہے ؟ یہ تصاویر ہم کیوں لگارہے ہیں؟کیوں لوگوں کو دعوتِ گناہ دے رہے ہیں؟یہ فَحاشی وعُریانی (Nudity & Obscenity)کا بازار گرم کر کے ہمیں کیا مل رہا ہے ؟ہمارا پیارا رب عَزَّ وَجَلَّ تو ارشاد فرما رہا ہے : وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی (پ۱۵، بنی اسرائیل : ۳۲)’’اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ ۔ ‘‘ اور ہم ہیں کہ بدکاری کے اسباب جمع کرنے میں مشغول ہیں!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہم مسلمان ہیں اور بحیثیت مسلمان ہم پر یہ لازم ہے کہ ہمارے تمام تر اَقْوال و اَفْعال اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول، بی بی آمنہ کے پھول صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اَحْکامات کے مُطابق ہوں اور یقیناً بے حیائی پر مَبنی ان تصاویر کا لگانااور دیکھنا دِکھانا ناراضیِ رَبِّ اَکْبَر عَزَّ وَجَلَّ کا سَبَب ہے ۔ چنانچہ ہم پرلازم ہے کہ موبائل فونز، گھر، دوکان، بازار اور شاپنگ سینٹرز بلکہ جہاں تک ہماری پہنچ اور اِسْتِطاعت میں ہو، ہر جگہ کو ان فُحْش تصاویر سے پاک کر دیں ۔ ہاں!تصویر لگانی ہے تو جمال وجلالِ خداوندی کے مَظْہَر خانہ کعبہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کی تصویر لگائیں، نُور بار سبزسبز گُنْبَدِ خَضْرا زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کی تصویر لگائیں، اسی طرح بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کے مزاراتِ مقدسہ کی تصاویر لگائیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پاکیزہ نظاروں کی بدولت ہمارے اِرْدْگِرْد کا ماحول بھی پاکیزہ ہوجائے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ بے حیائی کو حرام قرار دیتے ہوئے پارہ 8 سورۂ اعراف کی آیت نمبر۳۳ میں ارشاد فرماتا ہے :
قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ (پ۸، الاعراف : ۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان : تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس آیتِ مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں ’’فواحش‘‘یعنی بے حیائی کے کاموں سے منع فرمایاہے ۔ یاد رہے ’’فواحش‘‘ ایسے اَقْوال واَفْعال کو کہتے ہیں جو بَہُت ہی زیادہ بُرے ہوں ۔ اب غور کیجئے کہ ہمارا قرآن، ہمارا اسلام، ہمارا ربِ رحمٰن عَزَّ وَجَلَّہمیں بے حَیائی سے روک رہا ہے ، یقیناً یہ ہماری غیرتِ ایمانی کا تقاضابھی ہے کہ جب ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لائے ہیں تو ان کے فرامین پر عمل بھی کریں!مگر ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم ان احکامات پر عمل کرنے کو تیارہی نظر نہیں آرہے ؟پاؤں ہیں کہ بے حیائی کی جانب اٹھتے جارہے ہیں، ہاتھ ہیں کہ بے حیائی کی جانب بڑھے جارہے ہیں، آنکھیں ہیں کہ بے حیائی کی جانب اٹھتی ہی جارہی ہیں! سمجھ میں نہیں آتا کہ اس بگڑے ہوئے مُعاشَرے کا رُخ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے محبوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کی طرف کیسے پھیرا جائے اور اس کو جَہَنَّم کی طرف دوڑے چلے جانے سے روک کر کس طرح جنّت کی سَمت لے جایا جائے ! آہ ! آہ! آہ! ایسا دَ ور آچکا ہے گویا ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر مَعَاذَ اللہ جَہَنَّم میں گرنا چاہتا ہے ، جیسا کہ شادیوں میں دیکھا جاتا ہے کہ کسی کے پاس اگر رقم کم ہے تو صِرْف فِلَمی گانوں کی دُھنوں پر گُزارا کرتا ہے اور جس کے پاس رقم کچھ زیادہ ہے وہ شادی میں بے حيائی سے بھرپور تقاریب کی مُووی (Movie)بھی بنواتا ہے اور اس سے بھی زیادہ رقم والا فنکشن (Function) کا بھی اِہْتِمام کرتا ہے جس میں مرد و عورت مُوسیقی کی دُھنوں اور ڈَھولک کے شور میں بے ڈھنگے پن سے ناچتے ، گاتے ہیں تماشائی خوب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع