30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجنبی عورت سے مصافحہ کرنا کیسا؟
پیارے اسلامی بھائیو! غیر مسلم مُعاشَروں کی دیکھا دیکھی اب مُسْلِم مُعَاشَروں میں بھی مَردوں کے اجنبی عَورتوں سے مُصَافْحَہ کرنے کی وَبا اس قدر عام ہو چکی ہے کہ اس سے بچنا ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہے ۔ حالانکہ ان سے مُصَافْحَہ کرنا حرام ہے ۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت (جلد سوم) صَفْحَہ 446پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اجنبی عورتوں کو دیکھنے اور چھونے کے متعلق احکام ذکر کرتے ہوئے نقل فرماتے ہیں کہ اَجنبیہ عورت کے چہرے اور ہتھیلی کو دیکھنا اگرچہ جائز ہے مگر چھونا جائز نہیں، اگرچہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو کیونکہ نظر کے جواز کی وجہ ضرورت اور بَلْوَائے عام ہے چھونے کی ضرورت نہیں، لہٰذا چھونا حَرام ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان سے مُصَافَحہ جائز نہیں اسی لیے حُضُورِ اَقْدَس صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بَوَقْتِ بیعت بھی عورتوں سے مُصَافَحہ نہ فرماتے صرف زبان سے بیعت لیتے ۔ ہاں اگر وہ بہت زیادہ بوڑھی ہو کہ محل شہوت نہ ہو تو اس سے مُصَافَحہ میں حرج نہیں ۔ یُونہی اگر مرد بہت زیادہ بوڑھا ہو کہ فتنہ کا اندیشہ ہی نہ ہو تو مُصَافَحہ کرسکتا ہے ۔ (بہارِ شریعت، ۳/۴۴۶)اور ایک روایت میں تو یہاں تک مروی ہے کہ جس نے کسی اَجنبیہ عورت سے مصافحہ کیا(یعنی ہاتھ مِلایا)تووہ بروزِقیامت اس حال میں آئے گاکہ اس کا ہاتھ آگ کی زَنْجِیرسے گردن کے ساتھ بندھا ہو گا ۔ (قرۃ العیون، الباب الثالث فی عقوبۃ الزنا، ص ۳۸۹)
حضرت سیِّدُنا مَعْقِل بن یَسَار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت ناک ہے : ’’تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جائے ، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لئے حلال نہیں ۔ ‘‘(المعجم الکبیر، ۲۰/۲۱۱، حدیث : ۴۸۶)
اَلْغَرْض اِرْدْگِرْد کا ماحَول بَہُت بِگَڑ چُکا ہے مگر ہمیں ہتھیار نہیں ڈالنے اگرچہ سامنے بے حیائی کا مظاہرہ ہورہاہے مگر ہمیں اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنی ہے خود کو بے حیائی والے کاموں سے بچانا ہے ۔ اَوّلاً تو ایسی جگہوں پرجانے ہی سے گریز کرنا چاہیے جہاں بے پردہ عورتوں سے اِخْتِلاط (میل ملاپ)کااِمْکان ہواور اگر کبھی گُفْتگو وغیرہ کرنی ہی پڑجائے تو بغیر بے تکلف ہوئے نظریں جھکا کر بس ضرورت کی بات کریں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو بے حیائی والے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اجنبی عورت سے خَلْوَت کی تباہی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عورت کے اَجْنَبی مَرْد کے ساتھ خَلْوَت یعنی
تنہائی اختیار کرنے میں نقصان ہی نقصان ہے ۔ چنانچہ حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت ناک ہے : ’’خبردار کوئی بھی شخص جب کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو وہاں تیسرا شیطان بھی ہوتاہے ۔ ‘‘ (ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ، ۴/۶۷، حدیث : ۲۱۷۲)
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اِس حدیثِ پاک کے تحت مراٰۃ جلد5صَفْحَہ21 پرفرماتے ہیں : جب کوئی شخص اجنبی عورت کے ساتھ تَنْہائی میں ہوتا ہے خواہ وہ دونوں کیسے ہی پاکباز ہوں اور کسی (نیک) مَقْصَد کے لیے (ہی) جمع ہوئے ہوں (مگر) شیطان دونوں کو برائی پر ضَرور اُبھارتا ہے اور دونوں کے دِلوں میں ضرور ہیجان پیدا کرتا ہے ، خطرہ ہے کہ زِنا (بدکاری)واقع کرا دے ! اس لیے ایسی خَلْوَت(یعنی تنہائی میں جمع ہونے ) سے بَہُت ہی احتیاط چاہئے ، گناہ کے اسباب سے بھی بچنا لازم ہے ، بخار روکنے کیلئے نزلہ وزکام( کو) روکو ۔
حضرت علامہ عبد الرَّء ُوف مَناوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’جب کوئی عورت کسی اجنبی مَرد کے ساتھ تنہائی میں اِکٹّھی ہوتی ہے تو شیطان کے لئے یہ ایک نفیس موقع ہوتا ہے ، وہ اِن دونوں کے دِلوں میں گندے وَسوَسے ڈالتا ہے ، اِن کی شہوت کو بھڑکاتا ہے ، حَیا (Modesty)ترک کرنے اور گناہوں میں مُلَوَّث ہو جانے کی ترغیب دیتا ہے ۔ ‘‘(فیض القدیر، ۳ /۱۰۲، تحت الحدیث : ۲۷۹۵)
پیارے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا اجنبی مردو عورت کے تنہائی اختیار کرنے میں تباہی ہی تباہی ہے ، لہٰذا اس سے بچنے ہی میں عافیت ہے ۔ تاریخ میں ایسی بَہُت سی مثالیں موجود ہیں کہ اَجنبی مَرْد و زَنْ کے تنہائی اختیار کرنے کے سبب شیطان نے اپنا کام دِکھایا اور انہوں نے اپنا مُنْہ کالا کر لیا ۔ چنانچہ شیطان کس طرح انسان کو پھانس کر برباد کرتا ہے اِس کو سمجھنے کیلئے ایک عِبْرَتْناک حِکایت مُلاحَظہ فرمایئے ۔
منقول ہے : بنی اسرائیل میں ایک بَہُت بڑا عابِد یعنی عبادت گزار شخص تھا ۔ اُسی عَلاقے کے تین بھائی ایک بار اُس عابِد کی خِدْمَت میں حاضِر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ ہمیں سفر درپیش ہے ، واپَسی تک ہماری جوان بہن کوہم آپ کے پاس چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں ۔ عابِدنے خوفِ فِتنہ کے سبب معذِرت چاہی مگر ان کے پیہم اِصرار پر وہ تیّار ہو گیا اور کہا کہ میں اپنے ساتھ تو نہیں رکھوں گا، کسی قریبی گھر میں اُس کو ٹھہرا دیجئے ۔ چُنانچِہ ایسا ہی کیا گیا ۔ عابِد کھانا اپنے عِبادت خانے کے دروازے کے باہَر رکھ دیتا اور وہ اٹھا کر لے جاتی ۔ کچھ دِن کے بعد شیطان نے
عابِدکے دل میں ہمدردی کے انداز میں وَسوَسہ ڈالا کہ کھانے کے اوقات میں جوان لڑکی اپنے گھرسے نِکل کر آتی ہے کہیں کسی بدکار مرد کے ہتّھے نہ چڑھ جائے ، بہتر یہ ہے کہ اپنے دروازے کے بجائے اُس کے دروازے کے باہَر کھانا رکھ دیا جائے ، اس اچّھی نیّت کا کافی ثواب ملے گا ۔ چُنانچِہ اُس نے اب کھانا اُس کے دروازے پر پَہُنْچانا شُروع کیا ۔ چند روز بعد شیطان نے پھر وَسْوَسے کے ذَرِیعے عابِدکا جذبۂ ہمدردی اُبھارا کہ بے چاری چُپ چاپ اکیلی پڑی رہتی ہے ، آخِر اس کی وَحشت دُور کرنے کی اچّھی نیّت کے ساتھ بات چیت کرنے میں کیا گُناہ ہے ! یہ تو کارِ ثواب ہے ، یوں بھی تم بَہُت پرہیز گار آدمی ہو، نَفس پر حاوی ہو، نیّت بھی صاف ہے یہ تمہاری بہن کی جگہ ہے ۔ چُنانچِہ بات چیت کا سِلْسِلہ شُروع ہوا ۔ جوان لڑکی کی سُریلی آواز نے عابِد کے کانوں میں رَسْ گھولنا شروع کر دیا، دِل میں ہَیجان برپا ہوا، شیطان نے مزیداکسایا یہاں تک کہ’’نہ ہونے کا ہو گیا ۔ ‘‘ حتّٰی کہ لڑکی نے بچّہ بھی جَن دیا ۔ شیطان نے دل میں وَسْوَسوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع