دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hamain kiya hogaya hay | ہمیں کیا ہوگیا ہے

book_icon
ہمیں کیا ہوگیا ہے

(۲)بے پردگی کا خاتمہ

مُعاشَرے سے بے پردگی کا خاتمہ کرنا بدکاری کاراستہ روکنے کے لئے نہایت اہم ہے ۔ کیونکہ اگر کوئی شخص اپنی فِطری حَیا کی بِنا پربُرائی سے بچنے کی کوشِش کربھی رہا ہو مگر عورت کا حُسن و جَمال اور اس پر اس کا بَن سَنْور کر بے پردہ مردوں کو دعوتِ نظارہ دینا بسا اوقات عابدوں اور زاہدوں کے قدم بھی ڈگمگانے کا سبب بن سکتا ہے ۔ چنانچہ،

خوفِ خدا کام آ گیا

حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : ایک فاحِشہ عورت کے بارے میں مشہور تھاکہ اسے دُنیا کا تہائی حُسن دیا گیاہے ۔ اس کی بدکاری بھی اِنتہاء کو پہنچ چکی تھی، جب تک وہ سو دینار نہ لے لیتی اپنے قریب کسی کو نہ آنے دیتی ۔ لوگ اس کے حُسن کی وجہ سے اِتنی بھاری رقم ادا کرکے بھی اس سے بدکاری کرتے ۔ ایک مرتبہ ایک عابد اس عورت کاحسن و جمال دیکھ کر بس دیکھتا ہی رہ گیا اور شیطان و نفس کے بہکاوے میں آکر اس حسین وجمیل عورت کا قُرب حاصل کرنے کے مُتَعَلّق سوچنے لگا، جب اسے معلوم ہوا کہ 100 دینار دے کراس کی یہ حسرت پوری ہو سکتی ہے تو وہ مَطلوبہ رقم حاصل کرنے کیلئے دن رات مزدوری کرنے لگا ۔ کافی تگ ودو کے بعد جب 100دینار جمع ہوئے تو وہ اپنے مَن کی مُراد بَرآنے کی آرزو میں اس کے پاس جاپَہُنْچااور اپنے دل کی آرزو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ اسے کتنے پاپڑ بیلنے پڑے ہیں ۔

جب حسینہ نے عابِد کو اندر آنے کی اجازت دی اور وہ کمرے میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ حسینہ سونے کے تخت پر بیٹھی ہے ۔ اور اسے رحمتِ خداوندی سے دور کرنے اور گناہوں کی دلدل میں غرق کرنے کی دعوت دیتے ہوئے پکار رہی ہے : ’’قریب آ کر اپنی آرزو پوری کر لیجئے ، مَیں حاضر ہوں ۔ ‘‘ عابد اس قاتل حسینہ کے اس انداز پر آگے بڑھا اور تَخت پر جا بیٹھا ۔ پھر جب دونوں بدمستی وخرمستی کے عالَم میں حدود اللہ پامال کرنے لگے تو اچانک عابِد کے دِل و دماغ میں ایک بجلی سی کوندی جس نے اسے خوابِ غفلت سے جگا دیا اور اس کی ساری بَدمستی و خَرمستی جَل کر خَاکِسْتَر ہو گئی، اسے بروزِ قِیامَت بارگاہِ خداوندی میں حاضِرہونا کیایاد آیا کہ اس کی حالَت ہی بدل گئی، خوفِ خدا سے جسم پر لرزہ اور ایک عجب سی کپکپی طاری ہوگئی، نفس و شیطان کی اطاعت میں یادِ خدا سے غفلت برتنے کے احساس نے اس کی شہوت کی آگ کو برف کی طرح ٹھنڈا کر دیا اور وہ فعلِ بد کا ارادہ کرنے پر شرمندہ و شرمسار ہو کر فوراً نہ صرف اس حسینہ سے دور ہو گیا بلکہ نگاہیں جھکائے کچھ یوں گویا ہوا : ’’مجھے جانے دو اور یہ سو دینار بھی تم اپنے پاس ہی رکھو ۔ ‘‘

حسینہ نے عابد کی اُڑی اُڑی رنگت دیکھ کر بڑی حیرانی سے پوچھا : جناب! کیا ہوا؟ابھی تو آپ بتا رہے تھے کہ آپ نے محض میرے قُرب کے حُصول کے لیے کتنے جَتَن کیے ہیں اور کتنی مشقتیں برداشت کی ہیں اور اب جبکہ طویل انتظار کے بعد مَقصود کے حُصول کا وقت آیا ہے ، منزل سامنے ہے ، میں بھی بھرپور ساتھ دینے کو تیار ہوں، درمیان میں کوئی رُکاوٹ بھی نہیں تودور کیوں بھاگ رہے ہیں؟عابد بولا : ’’مجھے اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ سے ڈر لگ رہا ہے اور اس کا خوف تیری طرف مائل نہیں ہونے دے رہا، مجھے اس بات سے حیا آ رہی ہے کہ جب میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں یہ گناہ لے کر حاضر ہوں گا تو کیا جواب دوں گا؟ اور یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ اگر مَیں نے یہ گناہ کرلیا تو کل بروزِ قِیامَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا سامنا کیسے کرسکوں گا؟اس لیے میرا دِل تجھ سے اُچاٹ ہو گیا ہے اور اب اس میں تیرے لیے کچھ جگہ ہے نہ تیرے حسن کے لیے ، لہٰذا مجھے یہاں سے جانے دے ۔ ‘‘عا بد کی یہ باتیں سن کر اپنے حُسن پر نازاں حسینہ بَہُت حَیران ہوئی اور کہنے لگی : ’’اگر آپ سچے ہیں تو مَیں بھی بارگاہِ خداوندی میں توبہ کرتی ہوں اور عہد کرتی ہوں کہ آپ کے علاوہ کسی سے شادی نہ کروں گی ۔ ‘‘

عابِد نے بڑی مشکل سے اپنی گھبراہٹ و پریشانی اور پشیمانی کا اظہار کرتے ہوئے اس سے اس وقت اجازت طلب کی کہ ابھی اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا بس وہ یہاں سے جانا چاہتا ہے تو اس حسینہ نے یہ کہتے ہوئے اسے جانے دیا کہ بہت جلد میں خود تمہارے پاس تم سے شادی کرنے کے لیے آؤں گی ۔ چنانچہ عابد اجازت ملنے پر فوراً افسوس کرتا ہوا سر پر کپڑا ڈالے ، منہ چھپائے ، شَرمِنْدہ شَرمِنْدہ وہاں سے نِکلااور اپنے شہر کی طرف روانہ ہو گیا ۔ وہ حسینہ چونکہ عابد کے کردار اور اس کی باتوں سے متاثر ہو کر گناہوں سے توبہ کرچکی تھی ۔ چنانچہ اس نے بھی اپنے شہر کو خیر آباد کہا اور اس عابد کے مُتَعَلّق پوچھتی پوچھتی بالآخر اس کے گھر پہنچ گئی ۔ جب عابد کو بتایا گیا کہ کوئی عورت اس سے مِلنا چاہتی ہے اور اس نے باہَر آکرجُونہی اس حسینہ کو دیکھا تو ایک زور دار چیخ ماری اور اس کی روح عالمِ بالا کی طرف پرواز کر گئی ۔ حسینہ عابد کے اس طرح دنیا سے منہ موڑ جانے پر بَہُت زیادہ غمزدہ ہو گئی اور جب اس نے لوگوں سے پوچھا : ’’کیا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار ہے ؟‘‘تو انہوں نے بتایا : ہاں! اس کا ایک بھائی ہے لیکن وہ بہت غریب ہے ۔ یہ جان کر وہ حسینہ عابد کے بھائی کے پاس گئی اور اسے حقیقتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے شادی کی درخواست پیش کی ۔ چنانچہ اس کی شادی ہوگئی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں نیک وصالح اولاد عطا فرمائی اور انکے ہاں سات بیٹے ہوئے جو سب کے سب اپنے زمانے کے مشہور ولی بنے ۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ الاربعون بعد المائۃ، ص ۱۵۹)

حَیا اور گناہوں سے نفرت

معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا گناہوں سے نفرت کا باعث ہے ۔ چنانچہ شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا‘‘ یہ ہے

 کہ اُس کی ہیبت و جَلال اور اس کا خوف دِل میں بٹھائے اور ہر اُس کام سے بچے جس سے اُس کی ناراضی کا اندیشہ ہو ۔ (باحَیا نوجوان، ص ۶)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ بھی معلوم ہوا جہاں حَیا ہو وہاں خوفِ خدا ہوتا ہے اور جہاں خوفِ خدا ہو وہاں وہ گناہ کیسے رہ سکتا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے اور بے پردگی بھی چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا سبب بنتی ہے لہٰذا اس کے خاتمے کے لیے بھی حَیا کا ہونا ضروری ہے ۔ جب تک حَیا اور پردے کا اہتمام رہا ہماری قوم ترقّی کی مَنازِل طے کرتی رہی اور جب حَیا کا خاتمہ ہوا تو بے پردگی آئی پھر بے پردگی سے بدکاری نے جَنَم لیا اور آخر مسلمان بدکاری کی نُحُوسَتوں کا شِکار ہو کر رہ گئے ۔

ذیل میں چند واقعات پیشِ خدمت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حَیا اور پردے کی کس قدر اہمیت ہے ۔

چہرے پرنِقاب

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن