30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آنکھوں سے برستے آنسوؤں سے اس کا اظہار ہوگیا ۔ ہاتھ بارگاہِ خداوندی میں اُٹھا کر اپنے گناہوں کی مُعافی مانگی اور والدین سے بھی اپنی کوتاہیوں پر مَعْذِرَت کی ۔ دعوتِ اسلامی نے مجھے ایک پاکیزہ زندگی عطا کر دی ۔ کل تک میں بے پردہ اور فیشن پرست تھی مگر دعوتِ اسلامی نے مجھے حَیا کی چادر عطا کردی اور مجھے سنّتوں کا عادی بنا دیا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تادمِ تحریر میں علاقائی مُشاورت کی ذمہ دار کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کیلئے کوشاں ہوں ۔
اسلام میں حَیا کو بَہُت اَہَمِّیَّت (اَھَمْ ۔ مِیْ ۔ یَتْ) دی گئی ہے ۔ چُنانچِہ حدیث شریف میں ہے : بے شک ہر دین کا ایک خُلْق ہے اور اسلام کا خُلق حیا ہے ۔ (ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الحیاء، ۴ /۴۶۰، حدیث : ۴۱۸۱) یعنی ہر اُمَّت کی کوئی نہ کوئی خاص خَصْلت ہوتی ہے جو دیگر خَصْلَتوں پر غالِب ہوتی ہے اور اسلام کی وہ خَصْلَت حَیا ہے ۔ اس لئے کہ حَیا ایک ایسا خُلْق ہے جو اَخلاقی اچھّائیوں کی تکمیل، ایمان کی مَضْبُوطی کا باعِث اور اسکی عَلامات میں سے ہے ۔ چُنانچِہ،
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : ایمان کے ستّرسے زائد شُعْبے (عَلامات) ہیں اور حَیا ایمان کا ایک شُعبہ ہے ۔ (مُسلِم، کتاب الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان و افضلہا وادنا ھا ۔ ۔ الخ، ص۳۹، حدیث : ۳۵)ایک اور حدیث شریف میں ہے : حَیا ایمان سے ہے ۔ (مُسْنَدُ ابی یعلیٰ، الحدیث : ۷۴۶۳، ج۶، ص۲۹۱) یعنی جس طرح ایمان، مومِن کو کُفر کے اِرتکِاب سے روکتا ہے اِسی طرح حَیا، باحَیا کو نافرمانیوں سے بچاتی ہے ۔ یوں مَجازاً اسے ایمان سے فرمایا گیا ۔ جس کی مزید وضَاحت و تائید حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کی اِس روایت سے ہوتی ہے : بے شک حَیا اور ایمان دونوں آپس میں مِلے ہوئے ہیں تو جب ایک اُٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے ۔
(المستدرک للحاکم، کتاب الایمان، ۱/۱۷۶، حدیث : ۶۶)
حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک انصار ی کو ملاحَظہ فرمایاکہ وہ اپنے بھائی کوشَرم وحیا کے مُتَعَلِّق نصیحت کر رہے تھے (یعنی کثرتِ حیا سے مَنْع کر رہے تھے ) تو فرمایا : اسے چھوڑ دو، بے شک حیا ایمان سے ہے ۔ (ابو داود، کتاب الادب، باب الحیاء، ۴/۳۳۱، حديث : ۴۷۹۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا حَیا جتنی زیادہ ہو اُتنی ہی اچّھی ہے ۔ مگر افسوس کہ اب بعض لوگ حَیا کا مَذاق اُڑاتے نظر آتے ہیں اور شرمیلے اسلامی بھائی پر ہنستے ہوئے کہتے ہیں یہ تو لڑکی کی طرح شرماتا ہے ! یاد رکھئے حَیا میں بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ چُنانچِہ،
حضرتِ سیِّدُنا عِمران بن حُصَیْن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیُوبصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : حَیا صِرْف خَیر (یعنی بھلائی) ہی لاتی ہے ۔
(مُسلِم، کتاب الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان و افضلہا وادنا ھا ۔ ۔ ۔ ۔ الخ، ص۴۰، حدیث : ۳۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے حَیا کی اَہَمِّیَّت اور فضیلت مُلاحَظہ فرمائی، اب یہ ہم پر ہے کہ اپنے اردگرد کے ماحَول کو حَیا دار بنانے کی کوشش کریں اور اس کا آغاز اپنے گھر سے کریں کہ جو لوگ باوُجُود ِقدرت اپنی عورَتوں اور مَحارِم کو بے پردَگی سے مَنْع نہ کريں وہ دَیُّوث ہيں، رَحمتِ عالميان صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ثَلَاثَۃٌقَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَیْھِمُ الْجَنَّۃَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْعَاقُّ وَالدَّیُّوْثُ الَّذِیْ یُقِرُّ فِیْ اَھْلِہِ الْخَبَثَ ۔ یعنی تين شخص ہیں جن پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنّت حَرام فرما دی ہے ایک تو وہ شخص جو ہمیشہ شراب پئے ، دوسرا وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے اور تیسرا وہ دیُّوث( یعنی بے حیا) کہ جو اپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے ۔ (مُسنَد اَحمد، ۲/۳۵۱، حدیث : ۵۳۷۲)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : بعض شارِحین نے فرمایا کہ یہاں خَبَث سے مُراد زِنا ا ور اسبابِ زنا ہیں یعنی جو اپنی بیوی بچّوں کے زِنا یا بے حيائی، بے پردگی، اجنبی مردوں سے اِختلاط، بازاروں میں زینت سے پھرنا، بے حيائی کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوُجود قدرت نہ روکے وہ بے حیا دیّوث ہے ۔
(مراٰۃ المناجیح، ۵/۳۳۷)
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’جس نے کسی شادی شُدہ عورت سے بدکاری کی تو اس بدکار مرد اور عورت کو قَبْر میں اس اُمّت کا نِصْف عَذاب ہو گا، پھر جب قِیامَت کا دِن ہو گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس عورت کے شوہر کو بدکار کی نیکیاں لینے کا حکم دے گا، یہ تب ہو گا جبکہ اسے اس (بدکاری) کا عِلْم نہ تھا اور اگر وہ جاننے کے باوجود خاموش رہا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر جَنَّت حَرام کر دے گا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنت کے دروازے پر لکھ دیا ہے کہ تو دیوث پر حَرام ہے ۔ ‘‘ (کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ العاشرۃ : الزنی…الخ، ص۵۹)
معلوم ہوا کہ جو اپنے اہل خانہ کو بے حَیائی کے کاموں سے نہیں روکتا وہ دَیُّوث ہے ، ہاں! اگر مَرد اپنی حیثيت کے مُطابِق مَنْع کرتا ہے اور وہ نہ مانیں تو اِس صُورت ميں اس پر نہ کوئی الزام اور نہ وہ دَيُّوث ۔ چنانچہ ہمیں چاہئے کہ گفتار کے غازی نہ بنیں، محض مُعاشرے میں ہونے والی برائیوں پر تبصرے نہ کریں کہ تبصروں سے تبدیلی نہیں آتی بلکہ عملی اقدام کریں کہ مُعاشَرہ (Society) فرد سے بنتا ہے نہ کہ فرد مُعاشَرے سے ۔ چُنانْچہ ایک ایک فرد پر انفرادی کوشِش کرتے ہوئے اسے مَدَنی ذِہْن دیں اور ’’بے حَیائی کے خِلاف جنگ جاری رہے گی‘‘ کو اپنا نعرہ بناتے ہوئے اس کے خِلاف ڈَٹ جائیں تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہ دِن دور نہیں جب ہمارا مُعاشَرہ ایک پاکیزہ مُعاشَرہ بن جائے گا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع