30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان دربارِ مصطفے ٰ میں میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دیدار کی دولت سے فیض یاب ہو رہے تھے کہ ایک
خوبصورت نوجوان بارگاہِ ناز میں حاضر ہوا جس نے ابھی حال ہی میں جوانی کی حدود میں قدم رکھا تھا اور کچھ یوں عرض کی : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!مجھے بدکاری (Adultery) کی اجازت دیجئے ۔ ‘‘ اُس کی اِس بے باکی و جرأت پر تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حیران و ششدر رہ گئے اور سب کی پیشانیاں شکن آلود ہو گئیں ۔ چنانچہ وہ اس نوجوان کو بارگاہِ نبوت کے آداب کا لحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے ڈانٹنے لگے تو مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں اس نوجوان کو کچھ کہنے سے منع فرما دیا اور ارشاد فرمایا : اسے میرے قریب آنے دو ۔ وہ نوجوان معاملے کے حَسَّاس ہونے کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھا تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس نوجوان کو اپنے پاس بٹھا کر بڑی نرمی اور محبت و شفقت سے کچھ یوں نیکی کی دعوت پیش کی : اے نوجوان! ذرا یہ تو بتا کہ اگر کوئی شخص تیری ماں کے ساتھ ایسا کرے تو کیا تجھے اچھا لگے گا؟ نوجوان (جوشِ غیرت سے ) کچھ یوں عرض گزار ہوا : نہیں نہیں! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم !میری جان آپ پر قربان میں ہر گز یہ پسند نہیں کروں گا ۔ تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اگر تجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی تیری ماں کے ساتھ ایسا کرے تو دوسرے بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کی ماں سے ایسا کرے ۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت کیا : کیا تم اپنی بیٹی کے لیے
اسے پسند کرتے ہو؟ بولا : میں آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر قربان جاؤں میرے آقا! ہر گز نہیں ۔ ارشاد فرمایا : دوسرے لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے اسے پسند نہیں کرتے ۔ پھر پوچھا : کیا اپنی بہن کے لیے اسے پسند کرتے ہو؟ عرض کی : میں آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر قربان! خدا کی قسم! ہرگز نہیں ۔ ارشاد فرمایا : اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنی بہنوں کے لیے اسے پسند نہیں کرتے ۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھوپھی اور خالہ کے متعلق یہی سوال اس نوجوان سے پوچھا تو ہر بار اس نے نفی میں ہی جواب دیا اور سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی اسے ایک ہی بات سمجھائی کہ جب تو یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی ان کے ساتھ ایسی نازیبا حرکت کرے تو یاد رکھو جس عورت کے ساتھ تم یہ حرکت کرو گے وہ بھی تو کسی کی ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی یا خالہ ہو گی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی انفرادی کوشش کے نتیجے میں بات اس نوجوان کی سمجھ میں آ تو گئی مگر سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس پر مزید کرم فرماتے ہوئے اس کے سینے پر اپنا دستِ اقدس رکھ کر بارگاہِ خداوندی میں عرض کی : یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس کا گناہ بخش دے ، اس کے دل کو پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما ۔ چنانچہ اس دُعا کی برکت سے وہ نوجوان تمام عمر اس فعلِ بد سے بیزار رہا ۔ (مسند احمد، ۸/۲۸۵، حدیث : ۲۲۲۷۴ ماخوذاً)
بے باکی پر اظہارِ ندامت اور توبہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ! ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کس پیارے اور دلنشین انداز میں اس نوجوان کو یہ بات سمجھائی کہ جس طرح تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی شخص تمہاری اِن مَحْرم عورتوں (یعنی جن سے نِکاح حَرام ہے )کے ساتھ اس طرح کا فعل کرے ، اسی طرح کوئی دوسرا شخص بھی اپنی ان محرم عورتوں کے ساتھ اس طرح کی گھناؤنی حرکت ہرگز پسند نہ کرے گا ۔ جب تم اپنے لئے اس بات کو پسند نہیں کرتے تو دوسروں کے لئے اسے کیسے رَوا رکھ سکتے ہو؟ کیونکہ تم جس کے ساتھ یہ فعل کرو گے وہ بھی تو کسی کی ماں، کسی کی بہن، کسی کی بیٹی، کسی کی بیوی، کسی کی خالہ، کسی کی پھوپھی ہوگی ۔ سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یہ اندازِ مُبارَک تاثیر کا تیر بن کر اس کے دِل میں اس طرح پیوست ہوگیا کہ وہ نہ صرف اپنی بے باکی پر نادم ہوا بلکہ ہمیشہ بدکاری سے بھی باز رہا اور پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دُعاکی برکت سے جب تک زندہ رہا کبھی اس فعل کا تصورتک نہ کیا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مُسْلِم مُعاشَرے پر نظر ڈالیں تو بدقسمتی سے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد دِینی غَیرت و حَمِیَّت سے بے نیازی و بے حِسی کا مُظاہَرَہ کرتی نظر آتی ہے اور دین سے دوری کی وجہ سے دیگر گناہوں کے ساتھ ساتھ بدکاری (Adultery)جیسے فعلِ بد میں بھی تیزی سے مبتلا ہو کر ہلاکت و تباہی کا شِکار ہوتی جارہی ہے ۔ حالانکہ دینِ اسلام میں اس فعلِ بد کی قَباحَت روزِ روشن کی طرح ہر ایک پر واضح ہے ۔ مگر پھر بھی مسلمان ہیں کہ جان بوجھ کر شیطان کا بڑی آسانی سے شِکار بنتے چلے جا رہے ہیں ۔ یاد رکھیے !شیطان اسے اپنا خاص ساتھی جانتا ہے جو لوگوں میں بدکاری کو عام کرتا ہے ۔ چنانچہ،
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے کہ ابلیس زمین میں اپنے لشکر پھیلا دیتاہے اور ان سے کہتا ہے : ’’تم میں سے جس نے کسی مسلمان کو گمراہ کیامیں اس کے سر پر تاج پہناؤں گا ۔ ‘‘ پس ان میں سب سے زیادہ فتنے باز اس کا سب سے زیادہ قریبی ہوتا ہے ۔ ایک اس کے پاس آکر کہتا ہے : ’’میں فُلاں شخص پر مسلَّط رہا یہاں تک کہ اس نے بیوی کو طلاق دیدی ۔ ‘‘ تو شیطان کہتا ہے : ’’تو نے کچھ نہیں کیا، عنقریب وہ کسی دوسری عورت سے شادی کر لے گا ۔ ‘‘ پھر دوسرا آکر کہتا ہے : ’’میں فُلاں کے ساتھ لگا رہا یہاں
تک کہ میں نے اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان پھوٹ ڈال دی ۔ ‘‘ شیطان کہتا ہے : ’’تو نے بھی کچھ نہیں کیا، عنقریب وہ آپس میں صلح کر لیں گے ۔ ‘‘ پھر تیسرا آکر کہتا ہے : ’’میں فلاں کے ساتھ چمٹا رہا یہاں تک کہ اس نے بدکاری کر لی ۔ ‘‘ تو ابلیس ملعون کہتا ہے : ’’تو نے بہت اچھا کام کیا ۔ ‘‘ پس وہ اسے اپنے قریب کر کے اس کے سر پر تاج رکھ دیتا ہے ۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب التاریخ، باب بدء الخلق، ۸/ ۲۴، حدیث : ۶۱۵۶)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں شیطان اور اس کے لشکر کے شر سے پناہ عطا فرمائے ۔ (آمین)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع