دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hamain kiya hogaya hay | ہمیں کیا ہوگیا ہے

book_icon
ہمیں کیا ہوگیا ہے

حضرتِ سیِّدُنا کعبُ الاَ حبار رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابِد تھے جو کہ صِدّیق (یعنی اوّل دَرَجے کے ولی) کے منَصب پر فائز تھے ۔ شان یہ تھی کہ خانقاہ پر بادشاہ حاضِر ہو کر حاجت دریافت کرتا مگر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ مَنع فرما دیتے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے عِبادَت خانے پر انگور کی بیل لگی ہوئی تھی جو ہر روز ایک انوکھا انگور اُگاتی تھی کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ اُس کی طرف اپنا مبارَک ہاتھ آگے بڑھاتے تو اُس میں سے پانی اُبل پڑتا جسے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نَوش فرمالیتے ۔

ایک دن مغرِب کے وَقت ایک جوان لڑکی نے دروازے پردستک دے کر کہا : ’’اندھیرا ہو گیا ہے ، میرا گھر کافی دُور ہے ، مجھے رات گزارنے کیلئے اجازت دے دیجئے ۔ ‘‘آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے ترس کھا کر اسے اپنی خانقاہ میں پناہ دیدی ۔ رات جب گہری ہوئی تو وہ ایک دَم گلے پڑ گئی کہ میرے ساتھ منہ کالا کرو!!! یہاں تک کہ مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس نے اپنے کپڑے اُتار دیئے ! آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فوراً آنکھیں بند کر لیں اور اُس کو کپڑے پہننے کا حکم دیا مگر وہ نہ مانی بلکہ برابر مُطالَبہ کرتی رہی ۔

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے مُضْطَرِب (مُضْ ۔ طَ ۔ رِب) ہو کراپنے نَفْس سے پوچھا : ’’اے نَفْس! تُو کیا چاہتا ہے ؟‘‘ اُس نے کہا : ’’خداکی قسم ! میں تو اِس نادِر موقع سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’تیرا ناس ہو! کیا تُو میری عمر بھر کی عِبادَت ضائِع کرنے کا اُمّید وار ہے ؟ کیا تُوطالبِ عذابِ نار ہے ؟ کیا تُودوزخ کے گندھک کے لباس کا خواستگار ہے ؟ کیا تُوجہنَّم کے سانپوں اور بچھوؤں کا طلبگار ہے ؟ یاد رکھ! زانی کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنَّم کے گہرے غار میں جھونک دیا جائے گا ۔ ‘‘ مگر اُس بد نِیَّت لڑکی کے ساتھ ساتھ نَفْس نے بھی اپنی تحریک برابر جاری رکھی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے اپنے نَفس سے فرمایا : ’’چل پہلے تَجْرِبہ (تَج ۔ رِ ۔ بَہ)کر لے کہ آیا تُو دُنیا کی مَعمولی آگ بھی برداشت کر سکتا ہے یا نہیں!‘‘یہ کہہ کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے جَلتے ہوئے چَراغ پر ہاتھ رکھ دیا! مگروہ نہ جلا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے جَلال میں آکر پکارا : ’’اے آگ ! تجھے کیا ہوگیا ہے تُو کیوں نہیں جلاتی؟‘‘ اِس پر آگ نے پہلے انگوٹھا جلایا، پھر اُنگلیوں کو پِگھلایا حتّٰی کہ ہاتھ کا سارا پنجہ کھا گئی!یہ دَرْد اَنگیز مَنْظر دیکھ کر اُس لڑکی پر ایک دم خوف طاری ہو گیا، اُس کے مُنہ سے ایک زور دار چیخ بُلند ہو کر فَضا کی پَہْنَائیوں میں گم ہو گئی، وہ دھڑام سے گری اور اُس کی رُوح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کر گئی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فوراً اُس کی بَرَہْنہ (بَ، رَہ ۔ نَہ) لاش پر چادر اُڑھا دی ۔

صُبْحِ دَم ابلیس نے چِلّا کر اعلان کیا : اِس عابِد نے فُلانہ بنتِ فُلاں کے ساتھ رات کوزیادَتی کر کے اُس کو قتل کر دیا ہے ۔ یہ خبرِ وَحشت اثر سُن کر بادشاہ آگ بگولہ ہو کر سپاہیوں کے ساتھ عابِد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی خانقاہ پرآ پہنچا ۔ جب وہاں سے لڑکی کی بَرَہْنہ لاش برآمد ہو گئی تو عابِد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے گلے میں زنجیر ڈال کر گھسیٹ کر باہَر نکالا گیا اور پھر سپاہیوں نے خانقاہ کی اِینٹ سے اِینٹ بجا دی ۔ وہ عابِد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ صبرو شِکَیبائی(شِ ۔ کے ۔ بائی، یعنی صبروضبط) کا دامَن تھامے رہے یہاں تک کہ اُنہوں نے اپنا جلا ہوا ہاتھ بھی کپڑے میں چُھپائے رکھا اور کسی پر ظاہِر نہ ہونے دیا!اُس وَقت دُسْتُور یہ تھا کہ زانی کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا ۔ چُنانچِہ بادشاہ کے حکم سے عابِدرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے سر پر آرہ رکھ کر اُن کے بدن کے دو پَر کالے (دو ٹکڑے ) کر دیئے گئے ۔ عابِد کی وفات ہو جانے کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اُس عورت کو زِندہ کیا اور اُس نے از ابتِدا تا انتِہا ساری رُوداد سنائی ۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے ہاتھ سے کپڑا ہٹایا گیا تو لڑکی کے بیان کے مطابِق واقعی وہ جلا ہوا تھا اِس کے بعد لڑکی حسبِ سابِق پھر مُردہ ہو گئی ۔ حیرت انگیز حقیقت سُن کر لوگوں کے سر عقیدت سے جھک گئے اور خوش نصیب عابد کی اِس درد ناک رِحلت پر سبھی تأسُّف وحسرت کرنے لگے ۔ جب ان کیلئے قَبر کھودی گئی تو اُس سے مُشک وعَنبر کی لپٹيں آنے لگیں ۔ جوں ہی دونوں کے جنازے لائے گئے تو آسمان سے صدا آنے لگی :

اِصْبِرُوا حتّٰی تُصَلِّیَ عَلَیْھِمَا الْملٰۤـئِکَۃُ

یعنی صبر کرو یہاں تک کہ ان پر فرشتے نمازِجنازہ پڑھ لیں ۔

تدفین کے بعد اللہ ربُّ العٰلمین نے خوش نصیب عابِدکی قَبْرپر چنبیلی کو اُگایا ۔ لوگوں نے مَزارِ پُر انوار پر ایک کَتْبہ آویزاں پایا جس میں کچھ اس طرح مَضْمُون تھا :

ط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے اپنے بندے اور ولی کی طرف ۔ میں نے اپنے فِرِشتوں کو جَمع فرمایا، جبرئیل (عَلَیْہِ السَّلَام ) نے خُطبہ سنایا اور میں نے پچاس ہزار دُلہنوں کے ساتھ جنَّتُ الفردوس میں اِس(اپنے ولی) کا نِکاح فرمایا ۔ میں اپنے فرماں برداروں اور مُقَرَّبوں کو ایسے ہی اِنعاموں سے نوازتا ہوں ۔  (بحر الدموع، الفصل السابع والعشرون، ص۱۶۹، ملخصاً)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حِساب مَغْفِرَت ہو ۔ اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

رحمتِ باری کی برسات

پیارے اسلامیبھائیو!آئیے اس حِکایَت سے حاصِل ہونے والے چند مَدَنی پھولوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں :

٭ جو لوگ خود کو خوفِ خدا کے سبب بدکاری سے بچاتے ہیں رحمتِ باری ان پر چھماچھم برستی ہے اور بارگاہِ خداوندی میں ان کا مرتبہ بڑھ جاتا ہے ۔

٭ جو لوگ خود کو بے حَیائی والے افعال سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی حوصِلہ شِکْنی کی جاتی ہے طرح طرح کے طعنے دیئے جاتے ہیں، فَحاشی و بے حیائی (Nudity & Obscenity)کی دَلْدَل میں کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے انہیں چاہیے کہ اس حِکایَت سے دَرْس حاصِل کرتے ہوئے صبر صبر اور صرف صبر کریں کہ کل بروزِ قِیامَت جب وہ اس صبر کا اَجر (Reward) دیکھیں گے تو انہیں یہ دُنیاوی تکالیف بہت کم معلوم ہوں گی ۔

آزمائِش پر صبر

غیر مَحرموں سے بچنے والے اسلامی بھائی اورشَرعی پردہ کرنے والی اسلامی بَہنیں بعض اوقات سخت آزمائش میں مبتَلاہوجاتی ہیں مگر انہیں ہمّت نہیں ہارنی چاہیے ۔ مَذاق اُڑانے یا اِعتِراض کرنے والوں سے زَور دار بَحْث شُروع کر دینا یا

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن