30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیارے اسلامی بھائیو! شرعی طور پر دو قسم کی عورتوں سے اپنی خواہش کو پورا کرنا جائز ہے ۔ (۱)زوجہ اور(۲)کنیزِ شرعی ۔
قرآنِ مجید میں ہے :
اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ(۶) (پ۱۸، المؤمنون : ۶)
ترجمۂ کنزالایمان : مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر، جو ان کے ہاتھ کی ملک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں ۔
فی زمانہ کنیزِشرعی میسر نہ ہونے کی بِناء پرصرف زوجہ سے ہی مَطلوبہ مقصد حاصل کرنا ممکن ہے ۔ اسی طریقے کی جانب متوجہ کرنے کے لئے رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کئی مقامات پر ترغیبی کلام ارشاد فرمایا ۔ چنانچہ،
حضرتِ سیدتنا عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’نِکاح میری سنّت سے ہے پس جو شخص میری سنّت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ۔ لہٰذا نِکاح کرو، کیونکہ میں تمہاری کثرت کی بِناء پر دیگر اُمّتوں پر فخر کروں گا ۔ جوقدرت رکھتا ہووہ نِکاح کرے اور جو قدرت نہ پائے تو روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے ۔ ‘‘ ( ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب ماجاء فی فضل النکاح، ۲/۴۰۶، حدیث : ۱۸۴۶)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہم سے فرمایا : ’’اے نوجوانو!تم میں سے جو شخص نِکاح کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ نِکاح کرے کیونکہ یہ نگاہوں کو زیادہ جھکانے اور شرمگاہ کی زیادہ حِفاظَت کرنے والا ہے اور جو نِکاح کی اِسْتِطاعَت نہیں رکھتا تو روزے رکھے ، کیونکہ روزوں سے شہوت ٹوٹتی ہے ۔ ‘‘
(بخاری، کتاب النکاح، باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم، ۳/۴۲۲، حدیث : ۵۰۶۶)
یاد رہے کہ نِکاح ہمیشہ سنت نہیں، بلکہ کبھی فرض، کبھی واجب، کبھی مکروہ اوربعض اوقات تو حرام بھی ہوتا ہے ۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے :
اگر (حقوقِ زوجہ پر قادر ہو اور)یہ یقین ہو کہ نِکاح نہ کرنے کی صُورت میں زِنا میں مبتلا ہوجائے گا تو نِکاح کرنا فَرْض ہے ۔ ایسی صُورتِ حال میں نِکاح نہ کرنے پر گناہ گار ہوگا ۔
اگر مہرونفقہ دینے (اور ازدواجی حقوق ادا کرنے )پر قدرت ہو اور غَلبۂ شہوت کے سبب زنایابدنگاہی یا مُشْت زَنی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صُورت میں نِکاح واجِب ہے ، اگر نہیں کرے گا توگناہ گار ہوگا ۔
اگر مہر، نان و نفقہ دینے اور ازدواجی حقوق پورے کرنے پر قادر ہو اور شہوت کا بہت زیادہ غلبہ نہ ہو تو نِکاح کرنا سنّتِ مُؤکدہ ہے ۔ ایسی حالت میں نِکاح نہ کرنے پر اَڑے رہنا گناہ ہے ۔ اگر حرام سے بچنایااتباعِ سنّت یااولاد کا حُصول پیشِ نظر ہو تو ثواب بھی پائے گااور اگر مَحض حُصولِ لذّت یا قَضائے شہوت مَقصود ہو تو ثواب نہیں ملے گا، نِکاح بہرحال ہوجائے گا ۔
اگر یہ اندیشہ ہو کہ نِکاح کرنے کی صُورت میں نان ونفقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نِکاح کرنا مکروہ ہے ۔
اگر یہ یقین ہو کہ نِکاح کرنے کی صُورَت میں نان ونفقہ یا دِیگر ضَروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نِکاح کرنا حَرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے (ایسی صُورَت میں شہوت توڑنے کے لئے روزے رکھنے کی ترکیب بنائے ) ۔ (جنت کی دو چابیاں، ص ۱۲۱تا ۱۲۴، ملخصاً)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!درج بالا تفصیلات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کے اندر شہوت رکھی تو اسے پورا کرنے کے لیے ایک طریقہ کار بھی عطا فرمایا اور اس پر عمل کرنے کو فرمانبرداری کا تاج پہنا کر ذریعۂ نَجات قرار دیا ۔ جیسا کہ ہم جان چکے ہیں کہ بعض صُورتوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عطاکردہ اس جائز و حلال طریقۂ کار یعنی نِکاح پر عمل کرنا فرض، واجِب یا سنّت مؤکدہ ہے اور بعض صورتوں میں مکروہ و حرام ہے ۔ مگر جب ہم اپنے مُعاشرے کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ بَہُت سے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں پر نِکاح کرنا فرض یا واجب ہو چکا ہے مگر اس فرض کی ادائیگی میں وہ بسااوقات جان بوجھ کر اوربعض اوقات مجبوراً کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یہ کوتاہی ایک کثیر تعداد کو تباہی و بربادی کے دَہانے پر لے جانے کا سَبَب بھی بن رہی ہے ۔ کیونکہ مادہ پرستی کے اس دور میں جہاں فَحاشی و عُریانی ہر طرف اپنے پَنْجے گاڑے نظر آتی ہے کسی کا غلبۂ شہوت کے وَقْت خود پر قابو پا لینا یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا انعام اور اس کا فضل ہی ہے ۔ اس لیے کہ جومسلمان امتحان سے جی نہیں چُراتا بلکہ نفسانی شَہوت کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے ، کیسی ہی صبر آزماگھڑی آئے اُس سے گھبراتا نہیں بلکہ رضائے ربُّ العزّت پانے کیلئے بڑی سے بڑی مصیبت کو گلے سے لگا لیتا ہے اور شیطان و نَفس سے ہر حال میں ٹکرا جاتا ہے وہ بارگاہِ خداوندی سے دَرَجاتِ عالِیہ پاکرشان و شوکت کے ساتھ جنَّتُ الْفِردوس میں جاتا ہے ۔ چنانچہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع