30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیِّدُنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام کے نہ مسکرانے کا سبب
حضور نبیٔ پاک صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سے دریافت فرمایا : کیا بات ہے کہ میں نے حضرت میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا؟ تو حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی : جب سے جہنّم کو پیدا کیا گیا ہے اس وقت سے حضرت میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام نہیں مسکرائے ۔ (مسند احمد، مسند انس بن مالک، ۴/ ۴۴۷، حدیث : ۱۳۳۴۲)
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 853 صَفحات پر مشتمل کتاب جہنّم میں لے جانے والے اعمال (جلداول) صَفْحَہ 97پر ہے : ایک نیک بزرگ کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، ہوا یوں کہ وہ کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے قریب ہی ایک چراغ جل رہا تھا، اچانک ان کے دِل میں گناہ کا خیال آیا تو وہ اپنے نفس سے کہنے لگے : میں اپنی انگلی اس چراغ کی بتی پر رکھتا ہوں اگر تو نے اس پر صبر کر لیا تو میں اس گناہ کو کرنے میں تیری بات مان لوں گا ۔ پھر جب انہوں نے اس بتی پر اپنی انگلی رکھی تو بے قرار ہو کر چیختے ہوئے کہنے لگے : اے دشمنِ خدا! جب تو دنیا کی اس آگ پر صبر نہیں کر سکا جسے 70مرتبہ بجھایا گیا ہے تو جہنّم کی آگ پر کیسے صبر کرے گا؟ (جہنم میں لے جانے والے اعمال، ۱/ ۹۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ ہے جہنّم! جسے ربِّ قہار عَزَّ وَجَلَّنے نافرمانوں اور کافروں کے لئے تیار کر رکھا ہے ۔ اگر آپ مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسے کاموں میں مبتلا ہیں جو خدائے ذوالجلال کو ناراض کرنے والے ہیں تو فوراً توبہ کرکے رضائے ربُّ الانام والے کاموں میں مشغول ہوجائیے اور یاد رکھئے ! جو شخص اپنی زبان و شرم گاہ اور دوسرے اعضاء کو حرام کاموں سے محفوظ رکھے اسکے لئے دنیا وآخرت میں بہترین اجرو ثواب ہے ۔ چنانچہ،
دو چیزوں کی حفاظت کے بدلے جنّت
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : جومجھے دونوں جبڑوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیزکی حفاظت کی ضمانت دے ، میں اسے جنّت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان، ۴/۲۴۰، حدیث : ۶۴۷۴)
امام حافظ شہاب الدین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِینفتح الباری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : دوجبڑوں کے درمیان والی چیز سے مراد زبان اور ٹانگوں کے درمیان والی شے سے مراد شرم گاہ ہے اور حِفاظَت کی ضَمانَت دینے کا
مطلب یہ ہے کہ انسان انہیں رب تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں سے بچائے مثلاً زبان سے وہی کلام کرے جو ضروری ہو اور بے کار باتوں سے بچے ، اسی طرح شرم گاہ کو حلال جگہ استعمال کرے اور اسے حرام میں مبتلا ہونے سے بچائے ۔ سیِّدُنا ابنِ بطال رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کے لئے دنیا کی سب سے بڑی آزمائش اس کی زبان اور شرم گاہ ہے ۔ لہٰذا! جو اِن دونوں کے شر سے بچنے میں کامیاب ہوگیا وہ بہت بڑے شر سے بچ گیا ۔ (فتح الباری، کتاب الرقاق، ۱۱/۲۶۳ ملخصاً)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شرم گاہ اور زبان کی حِفاظَت کے مُتَعَلّق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 152 صَفحات پر مشتمل کتاب جنت کی دوچابیاں کا مطالعہ فرمائیے : ا س کتاب میں پہلے جنّت کی نعمتیں بیان کی گئی ہیں، پھر سرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جانب سے زبان و شرم گاہ کی حِفاظَت سے مُتَعَلّق دی گئی ایک بشارت ذکر کی گئی ہے ۔ اس کے بعد تفصیلاً بتایا گیا ہے کہ ہم اس بشارت کے حقدار کس طرح بن سکتے ہیں ۔ حسبِ ضرورت شرعی مسائل بھی ذکر کیے گئے ہیں ۔ چنانچہ اس کتاب سے کچھ اقتباسات پیشِ خدمت ہیں :
شرم گاہ کی حِفاظَت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس کے ناجائز اِسْتِعمال سے بچے اور اپنے بدن کے فِطری تقاضے یعنی شہوت کو پورا کرنے کے لئے وہی طریقے اپنائے جنہیں شرعی طور پر جائز قرار دیا گیاہو ۔ بطورِ ترغیب اس کی حِفاظَت کے فضائل مُلاحظہ ہوں ۔
پیارے اسلامی بھائیو!اللہ تعالیٰ نے فلاح کو پہنچنے والے (یعنی کامیابی کو پا لینے والے )مومنین کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا :
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵) اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ(۶) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ(۷) (پ۱۸، المؤمنون : ۵تا۷)ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر، جو ان کے ہاتھ کی ملک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں تو جو ان دو کے سواکچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔
سرورِ عالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی ترغیبِ اُمَّت کے لئے شرم گاہ کی حِفاظَت کے فضائِل بیان فرمائے ہیں ۔ چنانچہ،
حضرتِ سیِّدُنا ابن عبا س رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : ’’اے قریش کے جوانو! اپنی شرمگاہوں کی حِفاظَت کرو، زِنا مت کرو، جس نے اپنی شرمگاہ کی حِفاظَت کی اس کے لئے جنّت ہے ۔ ‘‘ (المستدرک، کتاب الحدود، ۵/۵۱۲، حدیث : ۸۱۲۷)
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : ’’عورت جب پانچوں نَمازیں ادا کرے ، ماہِ رمضان کے روزے رکھے ، اپنی شرمگاہ کی حِفاظَت کرے اور اپنے شوہرکی اطاعت کرے تو جنّت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے ۔ ‘‘(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب النکاح، باب معاشرۃ الزوجین، ۶/۱۸۴، حدیث : ۴۱۵۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع