30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افراد کی عمر 15 سے 24 سال کے درمیان ہے ۔ عالمی سطح پر ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا بچوں کی تعداد 20 لاکھ ہے ۔
گندگی سے چھٹکارا گندگی کے ذریعے
ایک رپورٹ کے مطابق براعظم افریقہ کے ایک ملک کے ایک سینئر حکومتی رکن نے ملک میں بدکاری کے سبب ایڈز کی بڑھتی ہوئی بیماری سے بچانے کیلئے یہ تجویز پیش کی ہے کہ عورتیں مردوں سے بچنے کیلئے خود کو گندہ رکھیں اور غسل نہ کریں تاکہ ان کے جسموں سے بدبو آئے اور مرد ان کے قریب نہ آسکیں، اس کے علاوہ عورتوں سے کہاگیاہے کہ وہ اپنے بالوں کو بھی منڈوا دیں تاکہ وہ مردوں جیسی لگیں اور جنسی کشش نظر نہ آئے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ایڈز کی تباہی و بربادی سے آگاہ ہونے کے باوجود ترقی یافتہ ممالک اس کی روک تھام سے قاصر ہیں اور بسا اوقات ان کی جانب سے مذکورہ مُضحکہ خیز تجویز کی طرح کئی تجاویز پیش ہوتی ہی رہتی ہیں کیونکہ وہ گندگی کے ڈھیر پر بیٹھ کر اس سے آلودہ نہ ہونے کے راستے تو تلاش کرتے ہیں مگر اس گندگی کے ڈھیر کو ختم کرنے پر کوئی توجہ نہیں دیتے ۔ اگر وہ اس گندگی سے نَجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پاکی و طہارت کا درس دینے والے دین یعنی اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسمانی طہارت کے ساتھ ساتھ انہیں باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوگی ۔
پیارے اسلامی بھائیو!بدکاری دنیا وآخرت کی بربادی کا سبب ہے ، لہٰذا فلاح و کامیابی اسی میں ہے کہ خود کو اس برائی سے بچاکر پرہیزگاری کی زندگی بسر کی جائے ۔ بدکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہلک بیماری ایڈز کا یہ ایک مختصر سا خاکہ پیش کیا گیا ہے ۔ بس یہ بات ہمیشہ یاد رکھئے کہ جب بدکار مردوں اور عورتوں نے اپنے کالے کرتوتوں کی بنا پر قہرِ خداوندی کو دعوت دی تو دنیا میں ایڈز کی شکل میں عذابِ خداوندی ان پر نازل ہوا ۔
یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کو شہوت اور عَقل دے کر آزمایا ہے ۔ جیسا کہ تفسیرِ رُوحُ البیان میں ہے کہ فِرِشتوں کے پاس صرف عقل ہے شہوت نہیں اور جانوروں کے پاس صرف شہوت ہے عقل نہیں اور انسان میں عقل و شہوت دونوں ہیں ۔ پس اگر انسان کی عقل شہوت پر غالب آگئی تو وہ فرشتوں کی طرح یا ان سے بھی افضل ہو جائے گا اور اگر عقل پر شہوت غالب آگئی تو وہ جانوروں کی طرح یا ان سے بھی بدتر ہو جائے گا ۔ (روح البیان، پ۹، الاعراف، ۳/۲۸۱)
سورۃُ الاعراف کی آیت نمبر ۱۷۹ میں ہے :
اُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(۱۷۹) (پ۹، الاعراف : ۱۷۹)
ترجمۂ کنز الایمان : وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں ۔
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : آدمی روحانی، شہوانی، سماوی، ارضی ہے ، جب اس کی روح شہوات پر غالب ہو جاتی ہے تو ملائکہ سے فائق (بلند)ہو جاتا ہے اور جب شہوات روح پر غلبہ پا جاتی ہیں تو زمین کے جانوروں سے بدتر ہوجاتا ہے ۔ (خزائن العرفان، پ۹، الاعراف، تحت الآیۃ ۱۷۹، حاشیہ نمبر ۳۵۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بدکاری کے نتائج انتہائی بُرے ہیں ۔ چنانچہ شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجرالمکی ہیتمی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی (اَلْمُتَوَفّٰی ۹۷۴ھ) فرماتے ہیں : (۱) بدکاری جہنّم اور شدید عذاب میں مبتلا کردیتی ہے (۲)فقر و تنگدستی کا باعِث بنتی ہے اور (۳)بدکاری کرنے والے کی اولاد سے بھی ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ،
ایک بادشاہ کے مُتَعَلّق منقول ہے کہ اس نے اپنی انتہائی حسین و جمیل بیٹی کوایک عورت کے ساتھ یہ حکم دے کر باہَر بھیجا کہ وہ اس کی بیٹی کے چہرے سے حِجاب ہٹا کر اسے لے کر بازاروں میں گھُومے پھِرے اور اس کے ساتھ کوئی بھی جو
چاہے سلوک کرے وہ کسی کو نہ روکے گی ۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا لیکن وہ جس شخص کے پاس سے بھی گزرتی وہ شرم و حَیا سے اپنا سر جھکا لیتا، جب اس نے تمام شہر گھوم لیا اور کسی نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تو وہ شہزادی کو لے کر واپس چل دی مگر جونہی گھر میں داخل ہونے لگی تو اچانک ایک شخص نے شہزادی کو روک کر بوسہ دیااور بھاگ کھڑا ہوا ۔ عورت شہزادی کو بادشاہ کے پاس لے کر حاضر ہوئی تو بادشاہ نے سارا ماجرا دریافت کیا، اس نے سب کچھ بتا دیا، پس بادشاہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدۂ شکر ادا کیا اور یوں عرض کی : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے کہ میں نے اپنی ساری زندگی میں صرف ایک عورت کو بوسہ دیا اور مجھ سے دنیا ہی میں اس کا بدلہ لے لیا گیا ۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، ۲/ ۲۷۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں کی آزمایش کے لیے انہیں حلال و حرام کے دو راہے پر کھڑا فرما دیا ہے کہ چاہیں تو حلال کے راستے پر چلیں یا حرام کے ۔ اس کے علاوہ ان پر یہ بھی خوب واضح فرما دیا ہے کہ اگر یہ حلال کے راستے پر چلے تو فرشتہ صفت یا اس سے بھی برتر مقام پر فائز ہوں گے ورنہ حرام کی راہ اپنانے کی صورت میں درندہ صفت یا اس سے بھی بدتر ہوجائیں گے ۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ کون سی راہ اختیار کرتا ہے ، حلال اپنا کر جنّت کا حقدار بنتا ہے یا حرام اپنانے کی صورت میں مستحقِ نار بنتا ہے ۔ یقیناً عقلمند وہی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع