30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭ میری امّت اس وقت تک بھلائی پر رہے گی جب تک ان میں بدکاری عام نہ ہو گی اور جب ان میں بدکاری عام ہو جائے گی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں عذاب میں مبتلا فرما دے گا ۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، ۲/ ۲۷۱)
٭ میری امّت اس وقت تک اپنے مُعاملے کو مَضبوطی سے پکڑے ہوئے اور بھلائی پر رہے گی جب تک ان میں حَرام کی اولاد عام نہ ہو گی ۔ (مسند ابی یعلی، ۶/ ۱۴۸، حدیث : ۷۰۵۵)
٭ جب بدکاری عام ہو جائے گی تو تنگ دستی اور غربت بھی عام ہو جائے گی ۔ (شعب الایمان للبیہقی ، باب فی طاعۃ اُوْلی الاَمر، فصل فی فضل الامام العادل، ۶/ ۱۶، حدیث : ۷۳۶۹)
٭ کسی قوم میں بدکاری اور سود ظاہر نہیں ہوا مگر یہ کہ ان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عذاب نازل ہو گیا ۔ (مسند ابی یعلی، ۴/ ۳۱۴، حدیث : ۴۹۶۰)
پیارے آقا مدینے والے مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’وَلا فَشَا الزِّنا فِی قومٍ قَطُّ اِلَّاکَثُرَ فِیْھِمُ الْمَوْتُ‘‘یعنی جس قوم میں بدکاری عام ہو جاتی ہے وہاں اموات کی کثرت ہو جاتی ہے ۔ )الموطا للامام مالک، کتاب الجہاد، با ب ما جاء فی الغلول، ۲/۱۹، حدیث۱۰۲۰ (
بدکاری میں بربادی ہی بربادی ہے ۔ بدکار مردوں اور عورتوں کی معاشرے
میں کوئی عزت نہیں ہوتی ۔ بلکہ ابتدائے اسلام میں تو مومنین پر بدکار عورتوں سے نکاح کرنا ہی حرام تھا ۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً٘-وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌۚ-وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ(۳) (پ۱۸، النور : ۳)
ترجمۂ کنز الایمان : بدکار مَرد نِکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شِرک والی سے اور بدکار عورت سے نِکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مُشْرِک اور یہ کام ایمان والوں پر حرام ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مومنین پر بدکار عورتوں سے نکاح کی حرمت کا حکم اگرچہ ابتدائے اسلام میں تھا مگر کوئی بھی سلیم الفطرت مرد بدکار عورت کو اپنے نکاح میں لینے کیلئے تیار نہیں ہوتااور نہ ہی کوئی شخص کسی بدکار مرد سے اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح کرنے پر تیار ہوتا ہے ۔
دورِ جدید میں گناہوں کی نحوست کی وجہ سے جہاں دوسری بے شمار بیماریاں مختلف شکلوں میں موجود ہیں وہیں بدکاری کے سبب انسان ایک خطرناک بیماری کا شکار ہوتا جا رہا ہے کہ ڈاکٹروں کی عقلیں دنگ ہیں، جی ہاں ڈاکٹرز کے مطابق ’’ایڈز‘‘ جیسی خطرناک بیماری اسی بدکاری کا شاخسانہ ہے ۔
ایچ آئی وی (HIV)ایک ایسے وائرس کا نام ہے جو بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے یہ انسانی جسم کو آماجگاہ (ٹھکانا)بنا کر اسے متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ ایچ آئی وی کے سَبَب لاحق ہونے والی بیماری ایڈز کہلاتی ہے ۔ یہ بیماری جسم کو اس قدر کمزور کر دیتی ہے کہ وہ مزید بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ ایڈز ایسا مرض ہے جو بذاتِ خود انسان کو نہیں مارتا بلکہ اس کے دفاعی نظام کو ناکارہ بنا کر اسے اس حد تک کمزور کردیتا ہے کہ بہت سی بیماریاں اس پر حملہ آور ہو کر اسے موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہیں ۔
ایڈز کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا سَبَب ناجائز جنسی تعلقات ہیں جو کہ عموماً ہم جنس پرستی سے مُتَعَلّق ہوتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ایڈز کا شکار ہر سات بالغ خواتین میں صرف دو جسم فروشی میں ملوث ہوتی ہیں جبکہ پانچ گھریلو خواتین ہوتی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیرونِ ملک رہنے والے یا اکثر غیر ملکی دوروں پر رہنے والے افراد اپنی بے راہ روی کے سبب یہ مرض بطورِ تحفہ واپسی میں ساتھ لاتے ہیں اور اپنی بیویوں میں منتقل کر دیتے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق ایڈز کے پھیلاؤ کا سبب جنسی بے راہ روی ہے ۔ دستیاب حقائق کے مطابق ایڈز کے پھیلاؤ میں 70 فیصد سبب ’’جسمانی تعلقات‘‘بنتے ہیں جبکہ آلودہ خون اور آلودہ آلات (جیسے سرنج، نشتر، زنبور وغیرہ) اس حوالے سے کمتر شرح رکھتے ہیں ۔ اگر حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو جنسی آزادی نہ رکھنے والے یا محدود رکھنے والے معاشروں میں یہ مرض اتنی تیزی سے نہیں بڑھ رہا ۔ ایک بین الاقوامی جائزے کے مطابق پندرہ فیصد مرد اور تین فیصد خواتین، ازدواجی تعلقات سے قطع نظر جنسی تعلقات کا تجربہ کر چُکے ہیں اور ان میں سے چودہ فیصد کے جنسی ساتھی ایک سے زیادہ رہے ۔
یہ مرض پھیلنے کا ایک بڑا ذریعہ ایڈز زدہ مریض کے خُون کی صحت مند فرد میں منتقلی ہے یعنی اگر ایڈز سے آلودہ خون کسی صحت مند فرد کو لگا دیا جائے تو وہ بھی اس کی زد میں آ جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ آلودہ سوئی یا سرنج کا استعمال ایڈز پھیلنے کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے ، یہ صورت تیسری دُنیا کے ممالک میں بہت عام ہے اورایڈز سے متاثرہ ماں سے ہونے والے بچے کو بھی یہ مرض لگ سکتا ہے ۔
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں 1981 میں پہلا ایچ آئی وی ایڈز کیس تشخیص ہونے کے بعد تادمِ تحریر ڈھائی کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ دنیا میں ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سالانہ لاکھوں افراد اس کا شکار ہو رہے ہیں ۔ یو این ایڈز کی رپورٹ ”ایڈز آؤٹ لک 2009“کے مطابق 2007 کے دوران عالمی سطح پر 15 سے 49 سال کے 27 لاکھ افراد ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا اور 20 لاکھ ایڈز سے ہلاک ہوئے ۔ دنیا میں روزانہ 7400 افراد ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ان میں 15 سال سے کم عمر ایک ہزار بچے بھی شامل ہیں ۔ ان میں سے 90 فیصد بچے پیدائشی طور پر ماں کے پیٹ سے یہ وائرس لے کر دنیا میں آتے ہیں ۔ وائرس کا شکار ہونے والے 45 فیصد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع