30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیارے اسلامی بھائیو!جس نے کسی اَجنبیہ عورت سے مُصَافَحہ کیا تووہ بروزِ قِیامَت اس حال میں آئے گاکہ اس کا ہاتھ آگ کی زنجیر سے گردن کے ساتھ بندھا ہو گا اوراگر اُس مرد نے اَجنبیہ سے بدکاری کی ہوگی تواس کی ران اللہ 1 کی بارگاہ میں عرض کرے گی : میں نے فلاں مہینے میں فلاں جگہ پر فلاں کے ساتھ ایسا ایسا (یعنی زنا) کیا تھا ۔ اس وقت اس کے چہرے کا گوشت جھڑجائے گاتو اس کاچہرہ بغیر گوشت کے ہڈی کارہ جائے گا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس گوشت سے فرمائے گا : میرے حکم سے پہلی حالت پر لوٹ آ ۔ تووہ گوشت دوبارہ اس کے چہرے پرجم جائے گااور زانی کاچہرہ تارکول (ڈامر) ([1])سے بھی زیادہ سیاہ ہوجائے گا، زانی جرأت کرتے ہوئے کہے گا : یارب عَزَّ وَجَلَّ!مَیں نے توکبھی گناہ نہیں کیا ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ زبان کوحکم دے گا : گونگی ہوجا ۔ پس وہ گونگی ہوجائے گی تو اس وقت اس کے دیگر اعضائے بدن بولناشروع کردیں گے ۔ ہاتھ کہے گا : الٰہی! میں نے حَرام کو چھوا تھا ۔ آنکھ کہے گی : میں نے حَرام کی طرف دیکھاتھا ۔ پاؤں کہیں گے : ہم حَرام کی طرف چلے تھے ۔ شرمگاہ کہے گی : میں نے حَرام فعل کیا تھا ۔ مُحافِظ فِرِشتہ کہے گا : میں نے سنا تھا ۔ دوسرا فرشتہ کہے گا : میں نے لکھا تھااور زمین کہے گی : میں نے دیکھاتھا ۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا : مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! مجھے تیری حرام کاری کاعِلْم تھا، اس کے باوجود میں نے تیری پردہ پَوشی فرمائی ۔ اے میرے فِرِشْتو!اس کو پکڑکر میرے عذاب میں ڈال دو اور اسے میری ناراضی کا مَزہ چکھاؤ، جس نے بے حَیائی کی اس پر میراغضب انتہائی سخت ہوگا ۔ (قرۃ العیون ، الباب الثالث فی عقوبۃ الزنا، ص۳۸۹)
احادیثِ مبارکہ میں بدکاری کی مَذَمَّت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بدکاری کا گناہ ہماری دنیا وآخرت برباد کردینے والا ہے ، آیئے !اس سلسلے میں احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ چند وعیدیں پڑھیئے اور خوفِ خدا سے لرزیئے :
حضرتِ سیِّدُنا مَسْروق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ القُّدُّوس سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جو شخص چوری یاشراب خوری یا بدکاری یا ان میں سے کسی بھی گناہ میں مُبتَلا ہو کرمرتا ہے اُس پر دو سانپ مقرَّر کر دیئے جاتے ہیں جو اس کا گوشت نوچ نوچ کرکھاتے رہتے ہیں ۔ (شرحُ الصُّدور، ص ۱۷۲(
منقول ہے کہ جہنّم میں آگ کے تابوت میں کچھ لوگ قید ہوں گے کہ جب وہ راحت مانگیں گے تو انکے لئے تابوت کھول دیئے جائیں گے اور جب انکے شعلے جہنمیوں تک پہنچیں گے تو وہ بیک زبان فریاد کرتے ہوئے کہیں گے : یا اللہ! ان تابوت والوں پر لعنت فرما ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عورتوں کی شرمگاہوں پر حَرام طریقے سے قبضہ کرتے تھے ۔ (بحر الدموع، الفصل السابع والعشرون، ص ۱۶۷)
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ ۳۰۰ صفحات پر مشتمل کتاب آنسوؤں کا دریا کے صفحہ۲۲۹ پر منقول ہے : اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب جنت کو پیدا فرمایاتو اس سے فرمایا : ’’ کلام کر ۔ ‘‘ تو وہ بولی : ’’جومجھ میں داخل ہوگا وہ سعادت مند ہے ۔ ‘‘تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا : ’’مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم!تجھ میں آٹھ قسم کے لوگ داخل نہ ہوں گے : (۱)شراب کاعادی(۲)بدکاری پراصرارکرنے والا(۳)چُغْل خَور(۴)دَیُّوث (۵) (ظالِم) سپاہی (۶)ہیجڑا (عورتوں سے مُشَابَہَت اِختِیار کرنے والا) (۷)رِشْتے داری توڑنے والااور (۸)وہ شخص جو خدا کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ فُلاں کام ضرور کرو ں گا پھر وہ کام نہیں کرتا ۔ ‘‘ (آنسوؤں کا دریا، ص ۲۲۹ (
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد حضرتِ علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : بدکاری پر اِصْرار کرنے والے سے مراد ہمیشہ بدکاری کرتے رہنے والا نہیں، اسی طرح شراب کے عادی سے مراد یہ نہیں جو ہمیشہ شراب پیتا رہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جب اسے شراب میسر ہو تو وہ پی لے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے شراب پینے سے باز نہ آئے ، اسی طر ح جب اسے زِنا (بدکاری)کا مَوقع ملے تو اس سے توبہ نہ کرے اور نہ ہی اپنے نفس کو اس بر ی خواہش کی تکمیل سے روکے ۔ بے شک ایسے لوگو ں کا ٹھکاناجہنّم ہی ہے ۔ )آنسوؤں کا دریا، ص ۲۳۰)
بدکاری کی ابتدا و انتہااور انجام
حضرتِ سیِّدُنا لقمان حکیم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرَ حِیم نے اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا : بیٹا ! بدکاری سے بچ کر رہنا کیونکہ اس کی ابتدا خوف اور انتہا ندامت ہے اور اس کا انجام جَہَنَّم کی وادی آثام ہے ۔ (آنسوؤں کا دریا، ص ۲۳۰)
[1] ایک سیاہ سیال اور لیس دار مادہ جو لکڑی اور پتھر کے کوئلے جیسی چیزوں سے نکالا جاتا ہے اور گھن اور زنگ سے بچاؤ کے لیے لکڑی اور لوہے پر لگایا جاتا ہے اور سڑکوں کی تعمیر میں سڑکوں پر بچھایا جاتا ہے اور چھتوں پر بھی ڈالا جاتا ہے تاکہ چھت پانی سے محفوظ ہو جائے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع