30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رحم کرو ، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔ ٭ عَرْض کی: گناہوں میں کمی چاہتا ہوں۔ اِرشَاد فرمایا: اِسْتِغْفار کرو ، گناہوں میں کمی ہوگی۔ ٭ عَرْض کی: زِیادَہ عزّت والا بننا چاہتا ہوں۔ اِرشَاد فرمایا: لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کے بارے میں شِکوَہ و شِکایَت مت کرو ، سب سے زِیادَہ عزّت دار بن جاؤ گے ۔
٭ عَرْض کی: رِزْق میں کُشَادَگی چاہتا ہوں۔ اِرشَاد فرمایا: ہمیشہ باوُضُو رہو ، تمہارے رِزْق میں فَرَاخِی آئے گی۔ ٭ عَرْض کی: اللہ و رسول کا مَـحْبُوب بننا چاہتا ہوں۔ اِرشَاد فرمایا: اللہ و رسول کی مَـحْبُوب چیزوں کو مَـحْبُوب اور ناپسند چیزوں کو ناپسند رکھو۔
٭ عَرْض کی: اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے اَمان کا طَلَب گار ہوں۔ اِرشَاد فرمایا: کسی پر غُصّہ مت کرو ، اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے اَمان پا جاؤ گے ۔ ٭ عَرْض کی: دعاؤں کی قبولِیَّت چاہتا ہوں۔ اِرشَاد فرمایا: حَرام سے بچو ، تمہاری دُعائیں قبول ہوں گی۔ ٭ عَرْض کی: چاہتا ہوں کہ اللہ پاک مجھے لوگوں کے سامنے رُسوا نہ فرمائے ۔ اِرشَاد فرمایا: اپنی شرم گاہ کی حِفَاظَت کرو ، لوگوں کے سامنے رُسوا نہیں ہوگے ۔ ٭ عَرْض کی: چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری پردہ پوشی فرمائے ۔ اِرشَاد فرمایا: اپنے مسلمان بھائیوں کے عیب چھپاؤ ، اللہ پاک تمہاری پردہ پوشی فرمائے گا۔ ٭ عَرْض کی: کون سی چیز میرے گناہوں کو مٹاسکتی ہے ؟اِرشَاد فرمایا: آنسو ، عاجِزی اور بیماری۔ ٭ عَرْض کی: کون سی نیکی اللہ پاک کے نزدیک سب سے اَفْضَل ہے ؟اِرشَاد فرمایا: اَچّھے اَخلاق ، تواضُع ، مَصَائِب پر صَبْر اور تقدیر پر راضی رہنا۔
٭ عَرْض کی: سب سے بڑی بُرائی کیا ہے ؟ کونسی بُرائی اللہ پاک کے نزدیک سب سے بڑی ہے ؟اِرشَاد فرمایا: بُرے اَخلاق اور بُخْل۔ ٭ عَرْض کی: اللہ تعالیٰ کے غَضَب کو کیا چیز ٹھنڈا کرتی ہے ؟ اِرشَاد فرمایا: چپکے چپکے صَدَقَہ کرنااور صِلہ رحمی۔ ٭ عَرْض کی: کونسی چیز دوزخ کی آگ کو بجھاتی ہے ؟اِرشَاد فرمایا: روزہ۔ [1]
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! مَذْکُورہ حَدِیْثِ پاک کو بیان کرنے والے بزرگ حضرتِ سَیِّدُنا ابو العباس مُسْتَغْفِرِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا عِلْم سیکھنے کا جذبہ مرحبا صَد مرحبا کہ فَقَط ایک حدیث کی طَلَب کے لئے ایک سال کے روزے رکھنے کو تیّار ہو گئے اور نہ صِرف تیّار ہوئے بلکہ اسے عملی جامہ بھی پہنایا۔ ان کے اس عَمَل سے وہ اِسْلَامی بھائی دَرْس حاصِل کریں جو فی زمانہ آسان مَواقع مُیَسَّر ہونے کے باوُجُود عِلْمِ دین سیکھنے سے جی چُراتے ہیں۔ نیز اس رِوایَت سے ہمیں یہ بھی دَرْس ملا کہ جب کسی عالِمِ دین سے کچھ پوچھنا ہو تو اَدَب کے تقاضے کے پیشِ نَظَر اَوّلاً اس سے سوال پوچھنے کی اِجازَت طَلَب کرلی جائے ۔
عالم دِین کے پاس حاضر ہونے اورسوال کرنے کے آداب
حُجَّةُ الْاِسلام اِمام محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ( عالِمِ دین کی خِدْمَت میں حاضِر ہونے والے کو چاہیے کہ اسے ) سلام کرنے میں پہل کرے ، اس کے سامنے گفتگو کم کرے ۔ جب وہ کھڑا ہو تو اس کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو جائے ، اس کے سامنے یوں نہ کہے : فُلاں نے تو آپ کے خِلاف کہاہے ۔ اس کی مَوجُودَگی میں اس کے ہم نشین سے سوال نہ کرے ، اس سے گفتگو کرتے وَقْت ہنسے نہ اس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع