30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! جیساکہ بیان ہوا کہ مدنی مذاکرے میں مُـخْتَلِف موضوعات پر سوال و جواب کا سلسلہ ہوتا ہے ۔ لِہٰذا یاد رکھئے کہ عِلْمِ دین کے حُصُول میں سوال کی بڑی اَہَمِیَّت ہے ، اس کے ذریعے جَہَالَت سے نجات ملتی ہے ۔ چُنَانْچِہ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : شِفَاءُ الْـعِیِّ السُّؤَالُیعنی بے علمی کا عِلاج سوال ہے ۔ [1]
اسی طرح سوال کو عِلْم کی کنجی ( Key) بھی قرار دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مَروی ہے : عِلْم خزانہ ہے اور سُوال اس کی کنجی ہے ، اللہ پاک تم پر رحم فرمائے سُوال کیا کرو کیونکہ اس ( یعنی سوال کرنے کی صُورَت) میں چار۴ اَفراد کو ثواب دیا جاتا ہے ۔ سُوال کرنے والے کو ، جواب دینے والے کو ، سننے والے اوران سے مَحبَّت کرنے والے کو۔ [2]
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مَدَنی مذاکروں میں شریک ہو کر سوالات کرتے اور شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْرِ اَھْلِسُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے حِکْمَت آموز اور عِشْقِ رَسول میں ڈُوبے ہوئے جوابات سَماعَت کر کے حدیثِ پاک کے مُطابِق اَجَر وثواب کے مُسْتَحِق قرار پاتے ہیں۔
فَقِیْہِ اُمّت حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: عِلْم میں زِیادَتی تلاش سے اور واقفیت سُوال سے ہوتی ہے توجس ( چیز) کا تمہیں عِلْم نہیں اس کے بارے میں جانو اور جو کچھ جانتے ہو ، ا س پر عَمَل کرو۔ [3]حضرتِ سَیِّدُنا اِمام اَصْمَعِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے عَرْض کی: آپ نے اتنا عِلْم کس طرح حاصِل کیا؟فرمایا: سوالات کی کَثْرَت اور اَہَم باتوں کو اَچّھی طرح یاد رکھنے کی وجہ سے ۔ [4]
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! مَعْلُوم ہوا عِلْم سیکھنے کے لئے سوال پوچھنے سے شرمانا نہیں چاہئے کہ لوگ کیا سوچیں گے کہ اس کو یہ بات بھی مَعْلُوم نہیں یا اس کی اتنی عمر ہوگئی ابھی تک اس کو یہ مسئلہ نہیں پتا ! حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے : میں بہت کچھ جانتا ہوں ، لیکن جن باتوں کے مُتَعَلِّق سوال کرنے سے میں ( بچپن یا جوانی میں) شرمایا تھا ان سے اس بڑھاپے میں بھی بے خَبَر ہوں۔ [5]
صحابہ و صحابیات کا طریقہ
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! دِیْن سیکھنے کے لئے سوالات کرنا صحابۂ کرام اور صَحَابِیّات طَیِّبَات کا مُبارک طرزِ عَمَل رہا ہے ۔ یہ مُقَدَّس ہستیاں خود بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِرہو کریا کسی کے ذریعے سے اپنا سوال پہنچا کر اپنی عِلْمی پیاس بجھانے کا سامان فرمایا کرتیں۔ اِنہوں نے دِینی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع