30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سَیِّدُنا بابا فرید گنج شکر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: وہ مرید کتنا سَعَادَت مند ہے جو اپنے پیر کے ارشادات لکھ لیا کرے اور اس غَرَضْ سے ہر دم اپنے پیر کی طرف مُتَوجّہ رہے ۔ [1]
حضرت خواجہ میر حسن سنجری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے پیر ومرشد حضرت سَیِّدُنا خواجہ نظامُ الدّین اولیا رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے ان کے ملفوظات لکھنے کی اِجازَت طَلَب کی تو آپ نے نہ صِرف اِجازَت دی بلکہ بطورِ ترغیب اِرشَاد فرمایا: جب میں شیخ الاسلام فرید الدینرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا مرید ہوا تو میں نے دل میں ٹھان لی کہ جو کچھ آپ کی زبانِ مبارک سے سنوں گا لکھتا جاؤں گا ۔ چُنَانْچِہ ملفوظات لکھنے کا سلسلہ جاری رہا اور اسکی اِطِّلَاع میں نے اپنے پیرو مرشد کو بھی کردی ، جس پر آپ کی شَفْقَت اس طرح سامنے آئی کہ جب کبھی کوئی حِکَایَت وغیرہ بیان فرماتے تو میرے مُتَعَلِّق پوچھ لیتے ۔ اگر میں مَوجُود نہ ہوتا تو حاضِر ہونے پر بیان کردہ فوائد میرے سامنے دوبارہ بیان فرما دیتے ( تاکہ میں لکھ لوں) ۔ [2]
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! اِصْلاحِ نَفْس ، تہذیبِ اَخلاق اور عقیدے و اِیمان کی پختگی ایسے اَوصَاف چونکہ صِرف مُطَالَعَہ کرنے اور ضخیم کتابیں پڑھنے سے نہیں ، بلکہ کسی کی پَیرَوی کرنے اور اسکی ہم نشینی و صُحْبَت اِخْتِیار کرنے سے حاصِل ہوتے ہیں۔ لِہٰذا فی زمانہ کسی ایسی ہستی کی ہم نشینی اِخْتِیار کرنا از حد ضَروری ہے کہ جس میں اَسلاف کی جھلک دِکھائی دیتی ہو۔ اس پُر فتن دَور میں جبکہ ہر طرف جَہَالَت ( Illiteracy( کا دَور دورہ ہے ، ایک تعداد ہے جو دن رات مال و زر کمانے میں مَصْرُوف ہے ، بس مال آنا چاہیے ، اس پر یہی دُھن سوار ہے ۔ نَماز پڑھتے برسوں گزَر گئے مگر دُرُسْت طریقۂ نَماز تو ایک طرف روز مَرَّہ کے بُنْیَادِی مَسَائِل سے بھی آگاہ نہیں ، حالانکہ ناواقِف کیلئے اس کے عِلاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ وَاقِف سے دَرْیَافْت کرے کہ جَہَالَت کے مَرَض کا عِلاج ( Treatment) بھی یہی ہے کہ عالِم سے سوال کرے اور اس کے بتائے ہوئے حُکْمِ شَرْعِی پر عَمَل کرے ۔
یاد رکھئے ! عالِم کی صُحْبَت میں حاضِر ہونے میں کم ازکم سات۷ فائدے ہیں ، خواہ عِلْم حاصِل کرے یا نہ کرے :
(1) وہ شخص طالِب علموں میں شُمار کیا جاتا ہے اور ان کا سا ثواب پاتا ہے ۔
(2) جب تک اُس مَـجْلِس میں بیٹھا رہے گا گناہوں سے بچا رہے گا۔
(3) جس وَقْت یہ اپنے گھر سے طَلَبِ عِلْم کی نیَّت سے نکلتا ہے ہر قَدَم پر نیکی پاتا ہے ۔
(4) عِلْم کے حَلقے میں رَحْمَتِ اِلٰہی نازِل ہوتی ہے جس میں یہ بھی شریک ہو جاتا ہے ۔
(5) یہ عِلْم کا ذِکْر سنتا ہے جو کہ عِبَادَت ہے ۔
(6) وہاں جب کوئی مُشکِل مسئلہ سنتا ہے جو اس کی سمجھ میں نہیں آتا اور اس کا دل پریشان ہوتا ہے تو حق تعالیٰ کے نزدیک مُنْکَسِرُ الْـقُلُوب ( یعنی عاجز و بے بس لوگوں) میں شُمار کیا جاتا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع