30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نور کا کچھ حِصّہ بھی اس پر ظاہِر نہیں ہوتا۔ [1]
حضرت سَیِّدُنا علّامہ برہانُ الدین زُرْنُوجیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: عِلْم تو وہی ہے جو اَہْلِ عِلْم( یعنی اکابِر عُلَمائے کرام ) کی زبانوں سے سُن کر حاصِل کیا گیا ہو کیونکہ وہ عِلْم انکی زِنْدَگی کا نچوڑ ہوتا ہے ، وہ اس طرح کہ وہ جو کچھ سُنتے ہیں ، اس میں سے اَحْسَن اور عُمْدَہ مَحْفُوظ کر لیتے ہیں ، لہٰذاان کے منہ سے نکلے ہوئے اِرشادات سب کے سب عُمْدَہ اور بہتر باتوں پر ہی مُشْتَمِل ہوتے ہیں۔ [2]
بزرگوں کی صحبت و ملفوظات کا فیضان
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! ہمیں بھی چاہئے کہ بزرگوں کی صُحْبَت و زِیَارَت کے ذریعے اپنے مَدَنی کاموں کو برکتوں سے ہمکنار رکھیں۔ کیونکہ انسان کی شَخْصِیَّت اور اسکے اَخلاق و کردار پر صُحْبَت کا گہرا اَثَر پڑتا ہے ۔ لِہٰذا اللہ والوں کی صُحْبَت سے اچّھے اَخلاق ، اِیمان کی پختگی اور مَعْرِفَتِ اِلٰہی جیسی اعلیٰ صِفَات حاصِل ہوتیں اور بُرے اَخلاق سے نجات ملتی ہے ۔ جیسا کہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو بُلَند مَقام و مرتبہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صُحْبَت کے سَبَب ملا ، پھر تَابِعِیْنِ عُظَّام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِم نے یہ شَرف صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی صُحْبَتِ با بَرَکَت سے پایا اور یُوں یہ سلسلہ ہر دَور میں جاری رہا کہ جو بھی نُورِ مصطفے ٰ سے فَیْض پانے والوں کی صُحْبَت اِخْتِیار کرتا اس کا سینہ بھی مدینہ بن جاتا۔ [3] چُنَانْچِہ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بُزُرْگانِ دِیْن رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِم نے ہمیشہ مشائخ کے ملفوظات یعنی ان کی باتوں اور نصیحتوں کے مَدَنی پھولوں کو انتہائی تَوَجُّہ سے سننے کی تلقین فرمائی۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا شیخ شہابُ الدّین سہروردیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: شیخ کی خِدْمَت میں حاضِری کے وَقْت مرید کی مِثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سمندر کے کنارے بیٹھا ہوا رِزْق کا مُنْتَظِر ہو۔ یعنی وہ شیخ کی آواز پر کان لگائے رکھے اور کلامِ شیخ کے ذریعے اپنے رُوحانی رِزْق کا اِنتِظار کرتا رہے ، اس طرح اس کی عقیدت اور طَلَبِ حق کا مَقام مَضْبُوط ہوتا ہے اور وہ اللہ پاک کے فَضْل کا مُسْتَحِق ٹھہرتا ہے ۔ [4]بلکہ اگر مشائخ کی باتیں سمجھ میں نہ آئیں تو بھی ان کی خِدْمَت میں حاضِر ہونا تَرْک نہ کریں کہ بُزُرْگانِ دِیْن رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اللہ والوں کی خِدْمَت میں حاضِر رہیں اور ان کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والوں سے بھی فیض حاصِل کرتے رہیں ، خواہ کبھی اس مُعَامَلے میں آپ کو طعن و تشنیع کا سامنا ہی کرنا پڑے ۔ اس لئے کہ ( کل بروزِ قِیامَت) جب یہ پوچھا جائے کہ آپ کون ہیں؟ تو کہہ سکیں کہ میں تو اللہ والوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والا اور ان کا دوست ہوں۔ نیز اگر کبھی آپ کو ان کی باتیں سمجھ میں نہ آئیں تو وہ جو بھی اِرشَاد فرمائیں بس سر جھکا دیں ، تاکہ کل بروزِ قِیامَت یہ کہہ سکیں کہ میں تو اللہ والوں کی باتیں سُن کر گردن جھکانے والا تھا۔ اگرچہ آپ حقیقی مجرم ہی ہوں گے تو اس سَبَب سے اُمِّید ہے کہ آپ کی نجات کا سامان ہو ہی جائے گا۔ [5]
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! مشائخِ کرام کے ملفوظات شریف کی یہی وہ برکتیں ہیں جن کی وجہ سے بعض بُزُرْگانِ دِیْن رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے دیگر لوگوں تک فیض پہنچانے کی نِیَّت سے انہیں لکھنے کی نہ صِرف اِجازَت عَطا فرمائی بلکہ ترغیب بھی دلائی۔ جیسا کہ سلطان المشائخ ، حضرت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع