30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدنی پھول سنیں جو کہ آپ کی زِنْدَگی کا نچوڑ بھی ہیں ، نیز وَعْظ و نصیحت پر مَبْنِی باتیں سنتے ہوئے خاموش رہنا چاہئے جیسا کہ حُجَّةُ الْاِسلام اِمام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالوَالِی فرماتے ہیں: ( وَعْظ سننے والے کو) چاہیے کہ ہمیشہ خُشُوع و خُضُوع ( عاجزی وانکساری) کی کَیْفِیَّت پیداکرنے کی کوشش کرے ، جوکچھ سنے اسے یاد رکھنے کی کوشش کرے ، ہمیشہ خاموش رہنے کی عادَت اپنائے ۔ [1]
سوال 3 : مَدَنی مذاکرے میں سوال کرتے ہوئے دِینی یا دُنْیَاوِی مَنْصَب بیان کرنا ریاکاری میں تو نہیں آئے گا؟
جواب : سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : اَعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نِیَّت کرے ۔ [2] لِہٰذا مَدَنی مذاکرے میں یا کہیں بھی جو کوئی اپنا دِینی یا دُنْیَاوِی مَنْصَب جس نِیَّت سے بیان کرے گا اسی کے مُطابِق حُکْم ہوگا اگر اپنی شہرت اور واہ واہ کروانے یا ریاکاری کا ارادہ ہوا تو گنہگار ہوگا اور اگر تحدیْثِ نِعْمَت یا بطورِ ترغیب بیان کرے تو حرج نہیں ، بلکہ باعِثِ اجر وثواب ہے ۔
اچّھی اچّھی نیّتوں کا ہو خدا ، جذبہ عطا بندۂ مُخلِص بنا ، کر عَفو میری ہر خطا
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سوال4 : مَسْجِد و فِنائے مَسْجِد میں ویڈیو( Video) مَدَنی مُذاکَرَہ دیکھنے کا کیا شَرْعِی حُکْم ہے ؟
جواب : مَنْع ہے ۔ افتاء مکتب کے مدنی پھول جب آگئے تو اس کی حاجت نہ رہی۔
سوال 5 : مَدَنی مذاکرے میں کسی اِسْلَامی بھائی کا اَچّھے لفظوں میں تَذْکِرہ ہوا تو اس اِسْلَامی بھائی کا وہ ویڈیو کلپ ( Video Clip) سب کو دِکھاتے پھرنا کیسا؟
جواب : مطلقا ًتو حَرَج نہیں۔ انسانی فِطرَت ہے کہ انسان اپنی تعریف پر خوش ہوتا ہے ۔ ہاں اگر وہ خوبی اس میں نہ ہو تو تعریف پر خوش ہونا مَنْع ہے ۔
سوال 6: مدنی مذاکرے میں بطورِ اِمْتِحَان سوال کرنا کیسا؟
جواب : علما و مُفتیانِ کرام کو پریشان کرنے یا ان کا اِمْتِحَان لینے یا ان کی لاعلمی ظاہِر کرنے کیلئے سوال کرنا ناجائز و گناہ ہے ۔ کسی کو پریشان کرنے یا اس کا اِمْتِحَان لینے کے لئے سوال کرنے کے بارے میں حدیثِ پاک ہے : حضرتِ مُعاوِیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِ ی ہے کہ رسولاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہیلیاں ( بجھارتیں) ڈالنے سے مَنْع فرمایا ہے ۔ [3] اس حدیثِ پاک کی وَضَاحَت کرتے ہوئے علامہ بدرُ الدین عینی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہعُمدۃ ُالقاری میں لکھتے ہیں: اس حدیثِ پاک سے مُراد یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو پریشان کرنے یا اس کو عاجِز یعنی اس کی لاعلمی ظاہِر کرنے یا اس کو شَرْمِندہ اور ذلیل کرنے کیلئے سوال کرے ( تو یہ سوال کرنا جائز نہیں ہے ) ۔ [4]
[1] مجموعه رسائل امام غزالی ، الادب فی الدین ، آداب المستمع ، ص۴۳۳
[2] بخاری ، کتاب بدء الوحی ، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول الله ، حدیث: ۱
[3] ابوداود ، کتاب العلم ، باب التوقی فی الفتیا ، ص۵۸۰ ، حدیث: ۳۶۵۶
[4] عمدة القاری ، کتاب العلم ، باب قول المحدث حدثنا او اخبرنا و انبانا ، ۲ / ۲۱ ، تحت الحدیث: ۶۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع