30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے پہلے سوال کا مطمئن کُن جواب سن کر وہ غیرمسلم خاموش ہو گیا۔ مُبَلِّغِ اِسْلَام کا اندازِ تبلیغ اسکے دِل میں گھر کر چکا تھا ، اسکی دِلی کَیْفِیَّت چہرے سے عیاں تھی۔ پھر کتاب ستیارتھ پرکاش آگئی ، جسکے تیسرے باب ( تعلیم ) پندرہویں ہیڈنگ میں یہ عبارت مَوجُود تھی : اَگنی ہوتر ( یعنی پوجا) صُبْح شام دو۲ ہی وَقْت کرے ۔ اسی طرح چوتھے باب ( خانہ داری ) ہیڈنگ نمبر 63 میں یہ عبارت مَوجُود تھی : سندھیا ( ہندوؤں کی صُبْح وشام کی عِبَادَت) دو۲ ہی وَقْت کرنا چاہے ۔ یہ عبارت سن اور دیکھ کر اسے دوسرے سوال کا جواب بھی مل چکا تھا۔ اب وہ اِسْلَام سے مزید قریب ہو رہا تھا ، لِہٰذا اس نے مِعْرَاج والے سوال کا جواب چاہا تو مُبَلِّغِ اِسْلَام ، عاشِقِ خیر الاَنام اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی زبانِ مبارک سے عِلْم و حِکْمَت کے پھول جھڑنے لگے اور اَلْفَاظ کچھ یوں ترتیب پائے : مِعْرَاج والے سوال کے جواب کو یوں سمجھنا چاہے ! ایک بادشاہ اپنے ملک کے اِنْتِظام کیلئے ایک نائب مُقَرَّر کرتا ہے ، وہ صوبہ دار یانائب بادشاہ کے حَسْبِ منشا خدمات اَنْجَام دیتا ہے ، بادشاہ اس کی کارگزاریوں سے خوش ہو کر اپنے پاس بلاتا ہے اور اِنعام و خِلْعَتِ فاخِرَہ ( یعنی باعِثِ فَخْر لِباس) عَطا فرماتا ہے نہ یہ کہ اسے بُلا کر مُعَطَّل کر دیتا ہے اور اپنے پاس روک لیتا ہے ۔ یہ د لنشین کلام سن کر وہ غیر مسلم بے ساختہ پُکار اٹھا: آپ نے مجھے خوب مُطْمَئِن کر دیا ، مجھے میرے سب سوالوں کا جواب مل گیا ، میں ابھی اپنے بیوی ، بچوں کو لاتا ہوں اور ہم سب اپنے باطِل مَذْھَب کو چھوڑ کر دِیْنِ اِسْلَام میں داخِل ہوتے ہیں۔ [1]
تُو نے باطِل کو مٹایا اے امام احمدرضا دین کا ڈنکا بجایا اے اِمام احمد رضا[2]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! یاد رکھئے ! عاشِقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی بلاشبہ تَبْلِیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی مَسْجِد بناؤ اور مَسْجِد بھرو تحریک ہے اور اپنے نام کے مُطابِق حقیقت میں بھی اس کا ہر ہر مَدَنی کام قرآن و سنّت کی روشنی سے مَاخُوذ ہے ۔ چُنَانْچِہ دیکھا آپ نے کہ 12مدنی کاموں میں سے ہفتہ وار مَدَنی کام مَدَنی مُذاکَرَہ بھی اللہ کے مَـحْبُوب ، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّت اور اَسلاف( بزرگوں) کے طریقے سے ثابِت ہے ، کیونکہ ہفتہ وار مَدَنی مذاکرے میں شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ عاشقانِ رسول کو درپیش سینکڑوں مسائل کا حل اپنے تجربات اور شَریعَت و طَرِیْقَت کی روشنی میں پیش فرماتے ہیں اور بلا شُبہ یہ اس وَقْت کی ایک اَہَم ضَرورت ہے ۔ کیونکہ آج کے اس پر فتن دور میں ہر طرف جَہَالَت ( Illiteracy( کا دَور دورہ ہے ، اگرچہ آج کے مسلمان نے دُنْیَوی مُعَامَلات میں بَہُت ترقّی کرلی ہے مگر عِلْمِ دِین سے دُوری بھی شاید اِسی قَدْر زیادہ نَظَر آتی ہے ، جی ہاں ! اگر مُعَاشَرے پر ایک طائرانہ نَظَر دوڑائی جائے تو واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ دُنْیَوی تعلیم حاصِل کرنے والوں کے مُقَابَلے میں دِینی تعلیم( حِفْظ و ناظرہ قرآنِ کریم اور دَرْسِ نظامی یعنی عالِم کورس) حاصِل کرنے والوں کی تعداد بَہُت کم ہے ، ڈاکٹرز( Doctors) ، انجینئرز ( Engineers) ، پروفیسرز ( Professors) کے مُقَابَلے میں عُلمائے کرام کی تعدادبہت کم ہے اور مفتیانِ کرام تو شاید گنتی کے ہوں گے ، دُنْیَوی تعلیم کی شرحِ خواندگی ( Literacy rate)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع