30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رائے کے خِلاف مشورہ دے ۔ جب وہ کھڑا ہو تو اس کے دامَن کو نہ پکڑے ، راستے میں چلتے ہوئے اس سے مسائل نہ سمجھے ، جب تک کہ وہ گھر نہ پہنچ جائے ، عالِم کی اُکْتَاہَٹ کے وَقْت اس کے پاس کم آیا جایا کرے ۔ [1]
اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدُناعلیُّ المُرتَضٰی ، شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: عالِم کے حق میں سے ہے کہ اس سے بَہُت زیادہ سوال کئے جائیں نہ اس سے جواب لینے میں سختی کی جائے اور جب اسے سُستی لاحِق ہو تو جواب لینے کیلئے اس کے پیچھے نہ پڑا جائے ۔ [2]
فَقِیْہِ اُمّت حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجۂ محترمہ حضرتِ سَیِّدَتُنا زینب ثقفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اے عورتو ! صَدَقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیورات ہی سے کرو۔ تو میں اپنے شوہَر کے پاس گئی اور کہا: آپ ایک تنگدست شخص ہیں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں صَدَقہ کرنے کا حُکْم دیا ہے ، جائیے اورحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھئے کہ اگر میں آپ پر صَدَقہ کروں تو کیا میری طرف سے ادا ہو جائے گا اگر نہیں تو کسی اور پر خَرْچ کر دُوں۔ تو سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا: تم خودہی چلی جاؤ۔ لِہٰذا میں بارگاہِ نبوی میں حاضِر ہوئی تو دیکھا کہ انصار کی ایک عورت بھی یہی سوال کرنے کے لئے دَرِ دولت پر حاضِر ہے ۔ ہم حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَرْعُوب رہتی تھیں ، چُنَانْچِہ جب حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہماری طرف آئے تو ہم نے ان سے کہا: خِدْمَتِ اَقْدَس میں جا کر عَرْض کیجئے کہ دو۲ عورتیں دروازے پر اس سوال کیلئے کھڑی ہیں کہ اگر وہ اپنے شوہر اور زیرِ کفالت یتیموں پر صَدَقہ کریں تو کیا ان کی طرف سے ادا ہو جائے گا؟ اور اے بلال ! یہ نہ بتائیے گا کہ ہم کون ہیں۔ چُنَانْچِہ آپ نے بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہوکر یہ سوال کیا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْتِفْسَار فرمایا: وہ عورتیں کون ہیں؟ عَرْض کی: انصار کی ایک عورت اور زینب ہے ۔ دَرْیَافْت فرمایا: کونسی زینب؟عَرْض کی: عبداللہ بن مَسْعُود کی زوجہ۔ اِرشَادفرمایا: ان دونوں کے لئے دُگنا اَجَر ہے ، ایک رشتہ داری کا اوردوسرا صَدَقے کا۔ [3]
نمائندہ بن کر بارگاہِ رسالت میں
ایک مرتبہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اَسما بِنْت یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بَہُت سی عورتوں کی نمائندہ بن کر بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہوئیں اور عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مَردوں اور عورتوں دونوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے ، ہم بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اِیمان لائی ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پَیْرَوِی کرتی ہیں مگر صُورَتِ حال یہ ہے کہ ہم پردہ نشین بناکر گھروں میں بٹھا دی گئی ہیں اور اپنے شوہروں کی خواہشات پوری کرتیں ، ان کے بچوں کو گود میں لئے پھرتی ہیں اور جب وہ جہاد پر جاتے ہیں تو انکے مالوں ا ور بچوں کی حِفَاظَت و پرورش کرتی ہیں ، ادھر مرد حضرات نَمازِ جُمُعَہ ، جَنازوں اور جہادوں میں شِرْکَت کرکے اَجَر و ثواب میں ہم سے فضیلت لے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان مَردوں کے ثواب میں سے کچھ حِصّہ ہم عورتوں کو بھی ملے گا یا نہیں؟ یہ سُن کر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف مُتَوجّہ ہوئے اور اِرشَاد فرمایا: کیا تم نے ا س
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع