30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لاکھوں مسلمان آپ کے مَدَنی مُذاکروں کے فیضان سے مالا مال ہو رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا(Social Media)اور انٹر نیٹ پر دیکھنے سننے والوں کی تعداد اس کے عِلاوہ ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ!دَعْوت ِ اسلامی کے قِیامَ سے لے کراب تک ہزاروں اجتماعات میں لاکھوں مسلمان آپ کے سُنّتوں بھرے بیانات اورمدنی مذاکروں سے مُسْتَفِیْض ہوئے اور ہزاروں کی زندگیوں میں مَدَنی اِنْقِلاب برپا ہوا اور بے شُمار لوگ گناہوں بھری زندگیوں سے تائب ہوکر راہِ سنّت پر گا مزن ہوئے ۔
صِرف یہی نہیں بلکہ نیکی کی دَعْوت عام کرنے کے مُقَدَّس جذبے کے تَحت دَعْوَتِ اسلامی کی آفیشل ویب سائٹ(Official Website)پر دورِ جدید کے تقاضوں کے پیشِ نَظَر اور اُمَّتِ مُسْلِمہ کی خیر خواہی کے جذبے کے تَحْت آپ کے بیانات ، مَدَنی مذاکروں، جانشینِ اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت حاجی ابو اُسَید احمد عبید رضا، دار الافتا اَھْلِسُنّت کے مفتیانِ کرام، مرکزی مجْلسِ شُوریٰ کے نگران حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری سَلَّمَہُ اللّٰہُ الْبَارِی کے عِلاوہ دیگر اَراکینِ شوریٰ وغیرہ کے بیانات اور سلسلے وغیرہ کا قیمتی سرمایہ مَوجُود(Upload)ہے ۔ یہ علمی سرمایہ میموری کارڈ کی صُورَت میں بھی مَوجُود ہے ، جسے دَعْوَتِ اِسْلَامی کے اِشَاعتی اِدارے مَکْتَبَةُ الْـمَدِیْنَه سے حاصِل کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے عِلاوہ مُـخْتَلِف مَدَنی مراکز (فیضانِ مدینہ)میں قائم المدینہ لائبریری سے بھی اس تمام علمی و مدنی مواد کو یوایس بی (USB) / موبائل میموری کارڈ وغیرہ میں بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
ہر طرف ’’نیکی کی دعوت‘‘ عام ہو نیک ہو امَّت اے نانائے حسین
سنّتوں کی ہر طرف آئے بہار نیک ہو امَّت اے نانائے حسین([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!جہاں اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے براہِ راست (Live) بیانات سن کر لوگوں کی زندگیوں میں مَدَنی اِنْقِلاب برپا ہوا، وہیں پر ریکارڈڈ بیان / مدنی مذاکرے سننے والے بے شُمار لوگ بھی راہِ راست پر آئے ۔ بطور ِترغیب ایک مَدَنی بہار مُلَاحَظہ فر مایئے ۔
چکوال(پنجاب، پاکستان)سے 40 میل دُور قصبہ دُولہا کے رہائشی ایک اسلامی بھائی اپنی زِنْدَگی میں آنے والے مَدَنی اِنْقِلاب کا تَذْکِرہ کچھ یوں کرتے ہیں : میں نِت نئے فیشن کا متوالا، گانے باجوں کا شوقین، ماں باپ کو ستانے والا، انتہائی شریر نوجوان تھا، B.A تک دُنْیَاوِی تعلیم تو حاصِل کی مگر دِینی مَعْلُومَات میں بِالْکُل صفر تھا، اسی وجہ سے نَماز روزوں کی ادائیگی کی طرف بِالْکل تَوَجُّہ نہ تھی، غالبًا یہ 2003 ءکی بات ہے ، ان دنوں میں کا روبار کے سلسلے میں متحدہ عَرَب امارات(UAE) کے شہر دبئی گیا ہوا تھا، وہیں میری مُلَاقَات دَعْوَتِ اسلامی سے وَابَسْتہ ایک اسلامی بھائی سے ہوئی ، جو بڑی مَحبَّت سے ملے ، پردیس میں ایک اجنبی کی اپنے ساتھ اس قدر اپنا ئیت دیکھ کر میں متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، کچھ عرصے بعد وہی اسلامی بھائی دوبارہ ملے اور اب کی بار انفرادی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے مجھے اپنے گھر میں ہونے والے ہفتہ وار مَدَنی حلقے میں شِرْکَت کی دَعْوَت دی، میں اِنْـکَار نہ کرسکا اور وَقْت ِمُقَرَّر ہ پر ان کے ہاں پہنچ گیا، وہاںاَمِیْرِ اَھْلِسُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا پُر تاثیر بیان سُن کر میرے دل کی دنیا زیر و زبر ہوگئی، اپنے طَرْز ِزِنْدَگی پر شرمندہ ہو کر میں بے ساختہ کھڑا ہوا اور شُرکائے اجتماع کے درمیان بلند آواز میں اپنی اس خواہش کا اِظْہَار کیا کہ میں عِمَامَہ شریف کا تاج سجانا چاہتا ہوں اور داڑھی شریف رکھنے کی بھی نِیَّت کرتا ہوں، میرے جذبات جان کر وہاں موجود کئی اسلامی بھائیوں کے چہرے خوشی سے کِھل اُٹھے ، ایک اسلامی بھائی نے ہاتھوں ہاتھ میرے سر پر سبز سبز عِمَامَہ شریف کا تاج سجا دیا ۔ سچ پوچھئے تو ان اسلامی بھائیوں نے اپنی مَحبَّت و شَفْقَت سے میرا دل جیت لیا، بس پھر کیا تھا وقتًا فوقتًا سنتوں بھرے اجتماعات میں میری شِرْکَت رہی، اس دوران میں نے داڑھی شریف سجالی ، شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْرِ اَھْلِسُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مُرید ہو گیا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ پنج وقتہ نَماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ تقریباً16 سال کی قضا نمازوں کی ادائیگی کا اِہتِمام کر نا شروع کردیا، نیز مَدَنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع