30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دورِ جدید اور علم و عمل سے دُوری
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!مسلمانوں میں نیکی کی دعوت عام کرنے کی جتنی ضَرورت آج ہے ، شاید پہلے کبھی نہ تھی ۔ افسوس صدکروڑ افسوس! آج مسلمانوں کی بھاری اکثریَّت بے عملی کا شکار ہے ، نیکیاں کرنا نفس کیلئے بے حد دُشوار اور اِرتکابِ گناہ بَہُت آسان ہوچکا ہے ، مسجِدوں کی وِیرانی اور سینما گھروں اور ڈرامہ گاہوں، ویڈیو گیمزکلب، نیٹ کیفے پر غیرشرعی کاموں میں وَقْت بربادکرنے والوں، شراب نوشی اورجُوئے کے اڈّوں کی رونق، دِین کا دَرد رکھنے والوں کو جھنجوڑجھنجوڑ کر نیکی کی دعوت عام کرنے پر اُبھاررہی ہے ۔ ٹی وی، ڈِش اِنٹینا، انٹر نیٹ / سوشل میڈیا(Social Media)اور کیبل کاغَلَط اِسْتِعمال کرنے والوں نے گویا اپنی آنکھوں سے حَیادھو ڈالی ہے ، تکمیلِ ضَروریات وحُصولِ سَہولِیات کی حد سے زیادہ جِدّ وجَہد نے مسلمانوں کی بھاری تعداد کو فکرِ آخِرت سے یکسرغافل کردیا ہے ۔ گالی دینا، تُہْمَت لگانا، بدگمانی کرنا، غیبت کرنا، چغلی کھانا، لوگوں کے عیب جاننے کی جستجو میں رہنا، لوگوں کے عیب اُچھالنا، جھوٹ بولنا، جھوٹے وعدے کرنا، کسی کا مال ناحق کھانا، خون بہانا، کسی کو بِلااِجازَتِ شَرعی تکلیف دینا، قَرْض دبالینا، کسی کی چیز عارِیتًا(یعنی وقتی طور پر)لے کر واپَس نہ کرنا، مسلمانوں کو بُرے اَلقاب سے پکارنا، کسی کی چیز اُسے ناگوار گزرنے کے باوُجُود بِلااِجازَت اِسْتِعمال کرنا، شراب پینا، جُوا کھیلنا، چوری کرنا، بدکاری کرنا، فلمیں ڈرامے دیکھنا، گانے باجے سننا، سُود ورِشوت کا لین دَین کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنااور انہیں ستانا، اَمَانَت میں خِیانت کرنا، بدنگاہی کرنا، عورَتوں کا مَردوں کی اور مردوں کا عورَتوں کی مُشابَہَت(یعنی نقّالی) کرنا، بے پردگی، غُرُور، تکبُّر، حَسَد، رِیا کاری، اپنے دل میں کسی مسلمان کا بُغْض وکینہ رکھنا، شَماتَت (یعنی کسی مسلمان کو مرض، تکلیف یا نقصان پہنچنے پر خوش ہونا)، غصّہ آجانے پر شَریعَت کی حد توڑ ڈالنا، گناہوں کی حِرْص، حُبِّ جاہ، بُخْل، خود پسندی وغیرہ مُعَامَلات ہمارے مُعاشَرے میں بڑی بے باکی کے ساتھ کئے جاتے ہیں ۔ ([1])
یاشہیدِ کربلا فریاد ہے نورِ چشمِ فاطمہ فریاد ہے
دین کی خدمت کا جذبہ دیجئے صدقہ نانا جان کا فریاد ہے
سنّتوں کی ہر طرف آئے بہار صدقہ میرے غوث کا فریاد ہے ([2])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دورِ جدید اور حفاظت و اشاعَتِ علم
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!یہ دور بے عملی کا ہی نہیں، اس میں بے علمی بھی عام ہے ، عِلْم و عَمَل کے پیکر، جَلِیْلُ القَدْر عُلَمائے کرام اس دنیائے فانی سے پردہ فرما رہے ہیں اور دنیا آہستہ آہستہ ان کے وُجُود سے خالی ہوتی جا رہی ہے ، مگر افسوس! ہماری اَکْثَرِیَّت اس بات سے غافِل ہے ، حالانکہ اسی صُورَتِ حال کے مُتَعَلِّق فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : علم سیکھنا تم پر پر لازِم ہے ، اس سے پہلے کہ اسے اُٹھا لیا جائے ۔ ([3])اور عِلْم اُٹھا لئے جانے کے مُتَعَلِّق حضرت سیدنا زیاد بن لبید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے عَرْض کی : یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عِلْم کیسے اُٹھ جائے گا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنی اولاد کو پڑھاتے ہیں اور وہ اپنی اولاد کو پڑھائیں گے ، اسی طرح یہ سلسلہ قِیامَت تک چلتا رہے گا ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا : اے زیاد!تیری ماں تجھے گم پائے ! میں تمہیں مدینہ کے سمجھ دار لوگوں میں شُمار کرتا تھا، کیا یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع