30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی نصیب ہوتا ہے ۔ [1] چُنَانْچِہ اس کی ایک حسین جھلک دیکھئے :
مَدِیْنَةُ الْمُرْشِد ، عُرُوسُ الْبِلَاد ، بابُ المدینہ کراچی میں ایک مَقام پر اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بیان تھا ، ایک اِسْلَامی بھائی اس اِجْتِمَاع میں شِرْکَت کی غَرَضْ سے چلا ، جیسے ہی ایک تنگ و تاریک گلی میں مُڑا ، ایک لُٹیرے نے گلے پر خنجر رکھ دیا اور گَرج کر کہا : جو کچھ ہے ، نِکال دو ۔ اُس اِسْلَامی بھائی نے نہایت نَرْمی سے کہا : جو آپ کو ملتا ہے لے لیجئے ، لٹیرے نے جیبوں کی تلاشی شروع کی ، کسی جیب سے عِطْر کی شیشی ، تو کسی سے تسبیح نِکلی ۔ لُٹیرے نے غصّے میں آکر کہا : کہاں جارہے ہو؟ اِسْلَامی بھائی نے نہایت نَرْمی سے کہا : ہمارے شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بیان ہے ، اُس میں شِرْکَت کیلئے جا رہا ہوں ۔ یہ سن کر لُٹیرا خاموش ہو گیا ، خاموشی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اِسْلَامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے کہا : آپ بھی اِجْتِمَاع میں چلئے ۔ دِھیمے لہجے اور نرم آواز میں دی ہوئی پُر خُلوص دَعْوَت اَثَر کر گئی ، لُٹیرا بولا : چلو میں بھی چلتا ہوں ۔
اِجْتِمَاع میں پہنچ کر اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زِیَارَت کی ، بیان سُنا ، جب اِجْتِمَاع کا اِخْتِتام ہوا تو اُسی لُٹیرے نے انفرادی کوشش کرنے اور اِجْتِمَاع کی دَعْوَت دینے والے اِسْلَامی بھائی کو تلاش کر کے خنجر پیش کرتے ہوئے کہا : یہ آپ رکھ لیں ، اب مجھے اس کی حاجَت نہیں ، کیونکہ میں اپنے گُناہوں سے سچی توبہ کر کے اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے غوثِ اَعْظَم رَحمَۃُ اللّٰہِ تعالیٰ عَلَیْہ کامُرید اور عطاری ہوگیا ہوں ۔
چور ڈاکو آؤندے نیں نَمازی بن جاندے نیں عاشِق لندن پیرس دے حاجی بن جاندے نیں
مِٹھا مُرشِدْ ویکھو تقدیراں اے سنوار دا میرا پیر میرا پیر میرا پیر میرا پیر
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
وہ اجتماعات ، جو اللہ کریم اور اُسکے رسولِ عظیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکْر پر مُشْتَمِل ہوں ، ان کی عَظَمَت کے بھی کیا کہنے ! جیسا کہ دو۲ عالَم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار ، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ مَغْفِرَت نشان ہے : جو لوگ جَمْع ہو کر اللہ پاک کا ذِکْر کرتے ہیں اور سوائے رِضائے الٰہی کے ان کا کوئی مَقْصَد نہیں ہوتا تو آسمان سے ایک مُنادِی نِدا دیتا ہے : کھڑے ہو جاؤ ! تمہاری مَغْفِرَت ہو گئی ، تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بَدَل دیا گیا ہے ۔ [2]
مَغفِرت کا ہوں تجھ سے سُوالی پھیرنا اپنے در سے نہ خالی
مجھ گنہگار کی اِلتجا ہے یاخدا تجھ سے میری دُعا ہے [3]
زہے نصیب ! اگر یہ اِجْتِمَاع مَسْجِد میں ہو تو گویا سونے پہ سہاگے کی مِثل اسکی برکتیں اور بڑھ جاتی ہیں ، جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا امام حَسَن بن علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : جو شخص مَسْجِد میں آنے جانے کا عَادِی ہو تو اللہ پاک اسے سات۷ خصلتوں میں سے ایک ضَرور عَطا فرماتا ہے : 1ایسا بھائی ملتا ہے ، جس سے اللہ پاک کی مَعْرِفَت (یعنی پہچان) حاصِل ہوتی ہے 2یا رَحْمَت کا نُزُول ہوتا ہے 3عُمْدَہ و اعلیٰ عِلْم حاصِل ہوتا ہے 4یا ایسی بات سیکھنے کو ملتی ہے ، جو ہِدَایَت کا باعِث بنتی ہے 5یا ہَلاکَت سے بچاتی ہے 6یا وہ خوفِ خُدا 7یا حَیا کی وجہ سے گناہ چھوڑ دیتا ہے ۔ [4]
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! مَعْلُوم ہوا جو شخص مَسْجِد میں آنے جانے کا عادی ہو ، اس کا دامَنِ مُراد کبھی خالی نہیں رہتا ، کیونکہ کسی ایسے دنیادار شخص کے پاس جائیں جو دل کھول کر اللہ پاک کی راہ میں خَرْچ کرنے والابھی ہو تو جب وہ اپنے چاہنے والوں کی آمد پر خوش ہو کر ان کی آؤ بھگت کے لئے اپنی دولت کا منہ تک کھول دیتا ہے اور ان پر خرچ کرنے میں ذَرّہ بھر بُخْل (کنجوسی) سے کام نہیں لیتاہے ۔ تو ذرا سوچئے ! اگر ہم اس شخص کے بھی مالک و خالق کی یاد میں مُنْعَقِد ہونے والے اجتماعات میں شِرْکَت کریں گے تو عَطا و بَـخْشِشْ کے کیسے کیسے خزانے لُوٹنے کو ملیں گے ؟
عَفو و رَحمت کا بخشش کا سائِل ہوں نہایت گنہگار و غافِل
میرا سب حال تجھ پر کھلا ہے یاخدا تجھ سے میری دُعا ہے [5]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع