دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hafta war ijtima | ھفتہ وار اجتماع

book_icon
ھفتہ وار اجتماع

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب !     صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

5-وعظ و نصیحت پر مبنی سُنّتوں بھرا بیان

وَعْظ سے مُراد خیر کی ایسی باتیں یاد دِلانا ہے ، جن سے دِل نَرْم پڑ جائے اور ایک قول کے مُطابِق وَعْظ ایسی بات کی طرف رَاہ نُمائی کرنے کو کہتے ہیں ، جو بطریقۂ رَغْبَت و ڈر اِصْلَاح کی طرف بُلائے ۔ [1]یہی وجہ ہے کہ حضراتِ اَنبیائے کِرام و مُرْسَلِینِ عُظَّام عَلَیْہِمُ السَّلَام ، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور دیگر بُزُرْگانِ دِیْن رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِیْن نے بھی نیکی کی دَعْوَت کو عام کرنے کے لئے یہی طریقہ اپنایا ، لِہٰذا وَعْظ و نصیحت پر مَبْنِی بیانات کے بے شُمار فوائد و ثَمَرات کی اَہَمِیَّت و اِفَادِیَت سے اِنکار مُمکِن نہیں ، کہ بسا اَوقات بیانات تاثیر کا تِیر بن کر دلوں میں اُتر جاتے ہیں ۔ جیسا کہ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا یعنی بے شک بعض بیان جادُو ہوتے ہیں ۔ [2] ایک رِوایَت میں ہے کہ  ایک دن حضرت سَیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام لوگوں کو نصیحت کرنے اور خوفِ خُدا دلانے کیلئے گھر سے باہَر تشریف لائے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے بیان میں اُس وَقْت 40 ہزار لوگ مَوجُود تھے ۔  جن پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پُر اَثر بیان کی وجہ سے ایسی رِقَّت طاری ہوئی کہ 30 ہزار لوگ خوفِ خُدا کی تاب نہ لا سکے اور اِنْتِقَال کر گئے ۔ [3]

تِرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ    میں تھر تھر رہوں کانپتا یاالٰہی [4]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب !     صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اسی طرح حضرت سیِّدُنا ابْنِ سَمّاک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک اِجْتِمَاع میں بیان فرمایا تو شرکائے اِجْتِمَاع میں سے ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر عَرْض کی : اے ابو العباس !  آج آپ نے دورانِ بیان ایک ایسی بات اِرشَاد فرمائی کہ اگرہم اس کے عِلاوہ کچھ بھی نہ سنتے تو کوئی حَرَج نہ تھا (بلکہ وُہی ہمارے لئے کافی تھی) ۔ چُنَانْچِہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے پوچھا کہ وہ بات کونسی ہے ؟ تو اس نے عَرْض کی : وہ بات یہ ہے : اللہ پاک سے ڈرنے والوں کے دل اس خوف  سے پارہ پارہ ہوئے جاتے ہیں کہ مَعْلُوم نہیں انہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جَنَّت میں رہنا ہو گا یا دوزخ میں؟ اس کے بعد وہ نوجوان پھر کبھی دکھائی نہ دیا ۔ حضرت سیِّدُنا ابْنِ سَمّاک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے اسے دیگر اجتماعات و محافل میں بھی تلاش کیا مگر وہ کہیں نَظَر نہ آیا ۔  بِالْآخِر جب اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ وہ بیمار ہے ۔  لِہٰذا میں اس کی عِیادَت کیلئے گیا اور جب اس پوچھا کہ اسے کیا ہوا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا :  اے ابوالعباس !  میری یہ حَالَت آپ کی اسی بات کے سَبَب ہوئی  ہے ۔ پھر اس نوجوان کا اِنْتِقَال ہوگیا  تو میں نے اسے خواب میں دیکھ کر پوچھا : اے میرے بھائی ! اللہ پاک نے تمہارے ساتھ کیا مُعَامَلہ فرمایا؟ تو اس نے بتایا : اللہ پاک نے میری مَغْفِرَت فرما دی ، مجھ پر رحم کیا اور داخِلِ جَنَّت فرمایا ۔ میں نے پوچھا : کس عَمَل کے سَبَب؟ جواب دیا : اسی بات کے سَبَب ۔ [5]

اجتماع میں شرکت باعِثِ مغفرت

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! دیکھا آپ نے  ! کس طرح اس نوجوان کی زِنْدَگی میں  اِجْتِمَاع میں شِرْکَت کی بَرَکَت سے مَدَنی اِنْقِلاب پیدا ہوا اور اس کے دل کی دنیا ہی تبدیل نہ ہوئی بلکہ اسے سچّی توبہ کی دَولَت کے ساتھ ساتھ جنّت جیسی عظیم نِعْمت بھی حاصِل  ہو گئی ۔ یقیناً سچّی توبہ کی توفیق ملنا اللہ پاک کی خاص عِنایت ہے اور جس پر یہ عِنَایَت ہوتی ہے اسکے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے :   

رَحْمتِ حق ”بہا“ نہ می جوید                                                                                             رَحْمتِ حق ”بہانہ“ می جوید

یعنی اللہ پاک کی رَحمت ”بہا “ یعنی قیمت نہیں مانگتی ، بلکہ اس کی رَحْمت تو (مَغْفِرَت کا) ”بہانہ“ ڈھونڈتی ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب !     صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! مَعْلُوم ہوا وہ اجتماعات جن میں پُراَثَر بیانات ہوتے ہیں ، میں شِرْکَت سے خوفِ خُدا و رِقَّت قلبی حاصِل ہوتی ہے اور بِلاشبہ دَعْوَتِ اِسْلَامی کے ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اِجْتِمَاع میں بھی ہونے والے بیانات اسی قَدْر پُراَثَر ہوتے ہیں کہ جنہوں نے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں ہی بَدَل ڈالیں اور ایسا کیونکر نہ ہو کہ شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے ایک مَدَنی مذاکرے میں اِرشَاد فرماتے ہیں : ہفتہ وار اِجْتِمَاع میں دیگربرکتوں کے ساتھ ساتھ سوز و گداز (یعنی دل کا نَرْم ہونا ، خوفِ  خُدا  اور عِشْقِ  مصطفے ٰ میں رونا)



[1]    تفسیر خازن ، پ ۱۱ ، سوره یونس ، تحت الایة: ۵۷ ، ۲/ ۴۴۸

[2]      بخاری ، کتاب الطب ، باب من البیان سحرا ، ص۱۴۵۷ ، حدیث:۵۷۶۷

[3]      احیاء علوم الدین ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان احوال الانبیاء والملائكة...الخ ، ۴/۲۲۳ مفھومًا

[4]      وسائلِ بخشش(مرمّم) ، ص۱۰۵

[5]      احیاء علوم الدین ، كتاب الخوف و الرجاء بيان احوال الصحابة … في شدة الخوف ، ۴/۲۲۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن