30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہے ، بلکہ تم رِزْق کی تلاش میں اپنی آخِرَت بھولے بیٹھے ہو ۔ سنو ! ایک قوم نے مَضْبُوط محلات تعمیر کئے ، کثیر مال اِکٹھّا کیا اور لمبی لمبی امیدیں باندھیں مگر وُہی محلات ان کی قبروں میں تبدیل ہو گئے ، ان کی امیدوں نے انہیں دھوکے میں ڈالا اور ان کا مال ضائع ہو گیا ، خبردار ! عِلْم حاصِل کرو کیونکہ عِلْم سیکھنے سکھانے والے دونوں اجر میں برابر ہیں اوران دونوں کے عِلاوہ کسی شخص میں بھلائی نہیں ۔ [1]
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی نوجواں کیسے کیسے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت سَیِّدُنا ابو دردا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خوفِ خدا اور دنیا سے بے رغبتی دِلانے والا بیان سن کر لوگ دہاڑیں مار مار کر رونے لگتے ، آپ کا بیان اس قدر سوزو گداز والا ہوتا کہ تاثیر کا تِیر بن کر شرکائے اِجْتِمَاع کے دلوں میں پیوست ہوتا چلا جاتا ۔ ان کی ہچکیاں بندھ جاتیں ، دنیا سے بے رغبتی کا جذبہ ان کے دِلوں میں پیدا ہونے لگتا ۔ [2]
اللہ پاک کی اُن پر رَحْمَت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حِساب مَغْفِرَت ہو ۔
اٰمین بجاہِ النّبی الامینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیدنا ذُوالنّون مِصری کا اجتماع
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! بعض بُزُرْگانِ دِیْن رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کے مُتَعَلِّق تو یہاں تک مَرْوِی ہے کہ بسا اَوقات ان کے اجتماعات میں لوگوں کی حَالَت غیر ہو جاتی اور وہ اپنے آپ سے بیگانے ہو جاتے ، یہاں تک کہ بعض کی تو رُوحیں تک جہانِ فانی سے پرواز کر جاتیں ، جیسا کہ حضرت سیِّدُنا ابو حیان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں ایک بار حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّون مصری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے اجتماعِ پاک میں حاضِر ہوا اور شرکائے اجتماع کو شُمار کیا تو وہ 70 ہزار کے لگ بھگ تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مَحبَّتِ باری تعالیٰ اور محبینِ باری تعالیٰ کے مُتَعَلِّق بیان فرمایا ، جسے سن کر اس اِجْتِمَاعِ پاک میں 11 افراد جہانِ فانی سے کُوچ کر گئے ۔ ہر طرف لوگ گِریہ و زاری کرتے ہوئے دکھائی دیتے اور بَہُت سے تو اپنے ہوش ہی کھو بیٹھے تھے ۔ [3]
محبوبِ سبحانی ، حُضُورغوثُ الاعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی مَـحْفِلِ وَعْظ کا حال بھی کچھ اسی طرح کا ہوتا ، بلکہ شیخِ محقق شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اَخبارُ الاخیار میں فرماتے ہیں : حضورِغوثِ اَعْظَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ جب منبر شریف پر تشریف فرما ہو کر مُـخْتَلِف عُلُوم بیان فرماتے تو تمام حاضرین آپ کی ھَیْبَت و عَظَمَت کے سامنے یوں خاموش ہو جاتے گویا کہ بُت ہوں ، جب کبھی دورانِ وَعْظ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ یہ اِرشَاد فرماتے کہ قال خَتْم ہوا اور اب حال کی طرف آتے ہیں ۔ تو لوگوں پر ایک عجب کَیْفِیَّت طاری ہوجاتی ، کوئی گِریہ و زاری کرتا ، کوئی کپڑے پھاڑتا ہوا جنگل کی طرف نکل جاتا اور کوئی اپنے ہوش سے اس قَدْر بیگانہ ہوتا کہ جہانِ فانی سے ہی کُوچ کر جاتا ۔ بسا اَوقات آپ کے ان اجتماعات سے کئی کئی جنازے اُٹھتے ۔ [4]
جہاں میں جیوں سُنّتوں کے مطابِق مدینے میں ہو خاتِمہ غوثِ اعظم[5]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! دیگر اجتماعات کے عِلاوہ بعض صحابۂ کرام نے وَعْظ و اِرشَاد کے لئے مَخْصُوص اوقات مُتَعَیَّن کر رکھے تھے ۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہبن مسعود رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مَعْمُول تھا ، ہفتے میں ایک دِن وَقْتِ مُقَرَّرہ پر لوگوں کو جمْع کر کے بیان کرتے اوردِینی تَرْبِیَّت کا اِہتِمام فرماتے ۔ چُنَانْچِہ ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع