30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : نہیں کرنا چاہئے کہ اس سے تَوَجُّہ بٹتی ہے ۔ [1]
سوال11 : کیا ہفتہ وار اجتماع میں لنگرِ رضویہ (کھانے ) وغیرہ کی ترکیب عین ِمسجد میں کرسکتے ہیں؟
جواب : ہفتہ واراجتماع ہویا بڑی راتوں کے اجتماعات وغیرہ ، کھانے پینے کی ترکیب فنائے مسجد یا خارجِ مسجد میں ہونی چاہیے ۔ بہتریہ ہے کہ عینِ مسجد میں اس طرح کی ترکیب نہ بنائی جائے ۔ [2]
سوال12 : ہفتہ وار اجتماع میں اَمْرَد (خوبصورت مرد) اسلامی بھائیوں کے قُرب میں بیٹھنایا لیٹنا کیسا؟
جواب : اَمرد کے قریب دانستہ (یعنی جان بوجھ کر) بیٹھنے یا لیٹنے میں اِحتیاط کرنی چاہئے ، ہمیں اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے اورلوگوں کوبھی اپنی بدگمانی سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
سوال13 : ہفتہ وار اجتماع میں اگر کوئی کسی کا جُوتا پہن کر چلا جائے تو کیا کیا جائے ؟
جواب : اگربے خیالی میں کسی کا جُوتا پہن لیا تومعلوم ہوتے ہی اُس مقام پر رکھ دیں ، جہاں سے لیا تھا ۔
سوال14 : جُوتا گم ہوجائے ، تو کیا اضافی جوتوں وغیرہ میں سے کوئی پہن کر جاسکتا ہے ؟
جواب : نہیں پہن سکتے ۔ اپنے جُوتے / چپل کی خودحفاظت کریں ۔
سوال15 : اجتماع میں جُوتا گم ہوجائے تو کیاانتظامی امو ر سے متعلق اسلامی بھائیوں کو اضافی پڑے ہوئے جوتوں میں سے کوئی جُوتا اٹھا کردینے کی اِجازَت ہے ؟
جواب : نہیں
سوال16 : بس کوچ یا ویگن بُک کرواتے وَقْت یہ طے کرنا کیسا کہ اگر ہم نے بُکنگ کینسل کروائی تو ہماری پیشگی جمع کروائی ہوئی رقم تم ضبط کر لینا اور اگر تم (یعنی گا ڑی والے ) نے بُکنگ منسو خ کی تو دُگنی رقم واپس کرنی ہو گی یعنی جو رقم ہم نے دی تھی وہ اور اُتنی ہی مزید؟
جواب : ایسی شرط کے ساتھ عقد کرناناجائزو گناہ اور فاسد عقدہے جسے ختم کرنا ضروری ہے ۔ چُنَانْچِہ گاڑی والے کی طرف سے منسوخی کی صو رت میں جمع کردہ ضمانت سے دُگنی رقم نہیں لے سکتے ، کیونکہ یہتَعْزِیْر بِالْمَال یعنی مالی جُرمانہ ہے اور مالی جُرمانہ ناجائز ہے ۔ فقہائے کِرام رَحِمَھُمُ اللّٰہ ُ السّلام فرماتے ہیں کہ ’’مذہبِ صحیح کے مُطابِق مالی جُرمانہ نہیں لیا جاسکتا ۔ ‘‘[3]گا ڑی والے کو بھی چاہیے کہ بطور ِضمانت لی ہوئی رقم لوٹا دے ، اگر رکھ لے گا ، گنہگار ہوگا ۔
سوال17 : سُنّتوں بھر ے اجتماع وغیر ہ کیلئے بس یا ویگن دو۲ طرفہ کرائے پر لینے کی صورت میں واپسی میں دیر ہو جانے پر گاڑی والا ناراض نہ ہو ، اس کیلئے کیا کیا احتیا طیں کرنی چاہیئں؟
جواب : آنے جانے کا وَقْت گھڑی کے مُطابِق طے کر لیجئے اور وَقْت وُہی طے کیجئے ، جس کو آپ نبھا سکیں ۔ طے شدہ وَقْت سے تاخیر نہیں ہو نی چاہیے ، یہ شکایت فضول ہے کہ اسلامی بھائی وَقْت پر نہیں پہنچتے ! اسلامی بھائیوں کی عادتیں کس نے خراب کیں؟ کیا یہ معمول کی بسوں اور ٹرینوں میں بھی دیر سے پہنچتے ہوں گے ! ہر گز نہیں ، وہا ں تو شاید وَقْت سے پہلے ہی پُہنچ جاتے ہوں گے ! تو آخرسُنّتو ں بھرے اجتماع کی بسوں کیلئے ہی تاخیر سے کیوں آتے ہیں؟ بات دراصل یہ ہے کہ بعض نادان ذِمّہ داران خود کوتاہیاں کرتے ’’اِس کا اُس کا ‘‘انتظار کرتے ، کبھی اپنا انتظار کرواتے ہیں ، اس طرح ’’تاخیر‘‘ کا مرض لاگو پڑ جاتا ہے ۔ ذِمَّہ داران بغیر کسی کا انتظار کئے بسیں چلوا دیں ، ایسا کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ماتحتوں کا ذہن خو د ہی بن جائے گا ۔ ہا ں پانچ۵ سات۷ منٹ کی تاخیر جو کہ گاڑی والے نیز وَقْت پر آجانے والے اسلامی بھائیوں پر گِراں نہ ہو تو حرج نہیں ۔ خصو صا ً بڑے اجتماعات میں یہ صو رت پیش آتی ہے کہ اجتماع کے اختتام میں دَیر سَویر ہو جاتی ، پھر واپسی میں بِھیڑ کی وجہ سے بھی بعض اوقات بس تک پہنچتے پہنچتے تاخیر ہو جاتی ہے ۔ لہٰذا پہلے ہی سے اندازہ لگا کر ایک آدھ گھنٹہ زیادہ وَقْت کا طے کرلینا مناسب ہے ۔ مثلاً عُموماً 10بجے اجتماع سے فارغ ہو جاتے ہیں ، تاہم 11بجے تک کا وَقْت طے کیا جائے اور گا ڑی والے سے درخواست کر دی جائے کہ ہو سکتا ہے ہم جلد واپس آجائیں ، اگر مُناسِب سمجھیں تو بس چلا دیجئے ۔ اور اگر نہ چلانا چاہیں تو کو ئی بات نہیں ہم 11 بجے تک اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ انتظار کر لیں گے ۔ اس طرح کی تر کیب بنا نے سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافی آسانی رہے گی ۔
سوال18 : پوری بس کرائے پر بُک کر وائی اور طے ہوا کہ 40سوُاریاں بٹھائیں گے ۔ مگر روانگی کے وَقْت 41 اسلامی بھائی ہو گئے کیا کر یں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع