30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! سُبْحٰنَ اللہ ! مَعْلُوم ہوا ہمارا رب تعالیٰ ایسا کریم ہے کہ اس نے علیم و خبیر ہونے کے باوُجُود اپنے بے شُمار فرشتوں کو مَحْض یہ ذِمَّہ داری سونپ رکھی ہے کہ وہ اس کی یاد میں مگن لوگوں کو تلاش کریں اور اس کی بارگاہ میں حاضِر ہو کر ان کے مُتَعَلِّق بتائیں ، تاکہ وہ ان پر اپنی خصوصی عَطاؤں کی بارِش نازِل فرمائے ۔ چُنَانْچِہ ،
یاد رکھئے ! ہم اگرچہ اپنی ذات کے اِعْتِبَار سے الگ الگ حَیْثِـیَّت رکھتے ہیں اور کل بروزِ قِیامَت ہمیں اپنے ہر ہر عَمَل کی جواب دہی کیلئے بارگاہِ خداوندی میں بھی اکیلے ہی حاضِر ہونا ہے ، مگر اسلام نے ہمیں آخِرَت میں سرخروئی کا جو طریقہ بتایا ہے اس کے حُصُول کیلئے اجتماعی زِنْدَگی کا اِنْـکَار مُمکِن نہیں ۔ مَثَلًا نَماز فَرْض ہے اور ہر ایک سے انفرادی طور پر اسکی پوچھ گچھ ہو گی مگر اسکی ادائیگی کا جو طریقہ ہمیں بتایا گیا ہے ، اس میں ہمیں جَمَاعَت کا پابند بنایا گیا ہے ، اسی طرح روزہ بھی فَرْض ہے اور اسکی فَرْضِیَّت کا ایک سَبَب غریبوں کی بھوک کا اِحْسَاس پیدا کرنا بھی ہے ۔ یہی حال اَکْثَر دیگر عبادات و اسلامی تعلیمات کا بھی ہے کہ اِنْفِرَادِیَت کے ساتھ ساتھ اِجْتِمَاعِیَّتکو بھی اپنے اندرسموئے ہوئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اِسْلَام میں ہمیں اِجْتِمَاعِیَّت کی مثالیں جگہ جگہ دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ مَثَلًا پنج وقتہ نماز کیلئے محلے کی مَسْجِد میں جَمْع ہونا ، ہفتے میں ایک دن یعنی بروز جُمُعَہ مرکزی جامع مَسْجِد میں اور سال میں دو۲ بار عید گاہ میں جَمْع ہونا ، خوشی کے مواقع یعنی نکاح و دَعْوَتِ ولیمہ کے وَقْت جَمْع ہونا اور غم کے موقع یعنی کسی کے فوت ہو جانے پر اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے کیلئے جَمْع ہونا ۔ اَلْغَرَضْ زِنْدَگی کے بے شُمار مواقع ایسے ہیں ، جہاں اِسْلَام نے ہمیں اکیلا رہنے کے بجائے اِجْتِمَاعِیَّتکی تعلیم دی ہے ۔ چُنَانْچِہ ،
حضرت سَیِّدُنَا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مسلمانوں کی اِجتماعی عِبَادَت سے دِین کو تَقْوِیَت پہنچتی ہے ، اِسلام کا جَمال ظاہِر ہوتا ہے اور کُفّار و مُلْحِدِین (یعنی بے دِین لوگ) مسلمانوں کا اِجْتِمَاع دیکھ کر جلتے ہیں اور جُمُعہ و جَمَاعَت وغیرہ دِینی اِجتماعات پر اللہ پاک کی برکتیں اور رحمتیں نازِل ہوتی ہیں ، اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ گوشہ نشین شخص پر لازِم ہے کہ جُمُعہ ، جَمَاعَت و دِینی اِجْتِمَاعات میں عام مسلمانوں کے ساتھ شریک رہے ۔ [1]
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! دِینی اجتماعات[2] میں شِرْکَت ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہی نہیں رہا بلکہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بھی ثابِت ہے کہ جب بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی اَہَم بات کا اِعْلَان فرمانا چاہتے یا صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو کسی خاص مَوْقَع پر کچھ مَدَنی پھول اِرشَاد فرمانا چاہتے تو انہیں مَسْجِدِ نبوی میں جَمْع ہونے کا حُکْم اِرشَاد فرماتے ۔ نیز مَشْہُور مُفسِّرِ قرآن ، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مُطابِق ایک رِوایَت میں ہے کہ ایک صحابیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہو کر عَرْض کی : (اے اللہ پاک کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ) مَردوں نے آپ کا فَیضِ صُحْبَت بَہُت حاصِل کیا ، ہر وَقْت آپ کی اَحادِیْثِ (مُبارَکہ) سنتے رہتے ہیں ، ہم کو حُضُور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی خِدْمَت میں حاضِری کا اتنا مَوْقَع نہیں ملتا ، مہینے یا ہفتے میں ایک دِن ہم کو بھی عَطا فرمائیں کہ اس میں صِرف ہم کو وَعْظ و نصیحت فرمایا کریں ۔ [3] اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں وہ کچھ سکھائیں جو اللہ پاک نے آپ کو سکھایا ہے ۔ چُنَانْچِہ آپ نے انہیں مَخْصُوص جگہ پر مَخْصُوص دن جَمْع ہونے کا حُکْم اِرشَاد فرمایا ۔ [4]
سیدنا ابودردا کا اجتماع
پھر یہی طریقہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھی اپنایا ، یعنی وَعْظ و اِرشَاد کیلئے لوگوں کو ایک جگہ جَمْع فرما کر انہیں نصیحتوں کے مَدَنی پھول اِرشَاد فرمایا کرتے ۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ مَشْہُور صحابِیِ رسول حضرت سَیِّدُنا ابو دردا رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچانے کے لئے ملکِ شام کا سَفَر اِخْتِیار فرمایا اور دِمَشْق (ملکِ شام) پہنچے تو دیکھا کہ وہاں کے لوگ عیش و عشرت کی زِنْدَگی بَسَر کر رہے ہیں اور آسائش و آرام کے دلدادہ ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کے اندازِ زندگی دیکھ کر کہ وہ دنیا کی محبت میں گِرِفتار ہیں بَہُت پریشان رہتے ۔ ایسے کئی واقعات ملتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دِمَشْق کے لوگوں کو ایک جگہ جَمْع فرما کر انہیں نصیحتوں کے مَدَنی پھول پیش فرماتے ۔ [5] چُنَانْچِہ ،
ایک بار ایسے ہی ایک اِجْتِمَاع میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا : اے اَہْلِ دِمَشْق ! تم سب دِین کے اِعْتِبَار سے آپس میں ایک دوسرے کے اِسْلَامی بھائی ، گھروں کے اِعْتِبَار سے ایک دوسرے کے پڑوسی اور دشمن کے مُقَابَلے میں ایک دوسرے کے مُعاوِن و مَدَدگار ہو ، پھر کیا وجہ ہے کہ تم مجھ سے مَحبَّت نہیں کرتے ؟ میری محنت و مَشَقَّت تمہارے عِلاوہ دوسروں پر صَرف ہو رہی ہے ، میں تمہارے علما کو دنیا سے رُخْصَت ہوتے دیکھ رہا ہوں اوریہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے جو بے عِلْم ہیں ، وہ عِلْم حاصِل کرنے کی کوشِش ہی نہیں کر
[1] منھاج العابدین ، العقبة الثالثة:عقبة العوائق ، العائق الثانی: الخلق ، ص ۱۲۴مفهومًا
[2] دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں ان دینی اجتماعات کو سُنّتوں بھرے اجتماعات کہا جاتا ہے۔
[3] مِرْاٰۃ المناجیح ، میت پر رونا ، تیسری فصل ، ۲/۵۱۶
[4] بخاری ، کتاب الاعتصام...الخ ، باب تعلیم النبی...الخ ، ص۱۷۶۹ ، حدیث:۷۳۱۰ مفهومًا
[5] سیرت سیدنا ابو دردا ، ص۵۱ بالتصرف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع