30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو پابند ہے اجتماعات کا بھی میں دیتا ہوں اُس کو دُعائے مدینہ[1]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! دَعْوَتِ اِسْلَامی کے ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اِجْتِمَاع کی دوسری نشست میں کھانے وغیرہ سے فارِغ ہونے اور سنّت کے مُطابِق سونے سے پہلے وُضُو وغیرہ کی ترکیب بنا کر توبہ کے نَوَافِل (صَلٰوۃُ التَّوْبَہ) کی اَدائیگی اور چند مَخْصُوص اَوراد و وظائف پڑھنے کے بعد مَسْجِد میں آرام کی ترکیب کی جاتی ہے اور مَسْجِد میں کھانے و سونے وغیرہ کی چونکہ مُعْتَکِف کے عِلاوہ کسی کو اِجازَت نہیں ، لِہٰذا دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مَدَنی مَاحَول میں مَسْجِد کے آداب کو پیشِ نَظَر رکھتے ہوئے ہفتہ وار اِجْتِمَاع میں شریک ہونے والے تمام اِسْلَامی بھائی اِعْتِکَاف کی نِیَّت سے پوری رات مَسْجِد میں بَسَر کرتے ہیں کہ پوری رات کا اِعْتِکَاف کرنے کے بھی بے شُمار فوائد و ثمرات میں سے چند یہ ہیں :
مَسَاجِد میں بیٹھنا دِین کے اَفْضَل کاموں ، پرہیزگاروں کے اَعمال اور مُـحْسِنِیْن (یعنی نیک لوگوں) کے بُلَند دَرَجات میں سے ہے اور مَسْجِد میں ہمیشہ مُخْلِص مومن ہی بیٹھا کرتے ہیں ۔ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : مَسَاجِد مُومِـنِیْن کیلئے باغات کی حَیْثِـیَّت رکھتی ہیں ، جبکہ مُنَافِق مَسْجِد میں ایسے ہوتا ہے جیسے پنجرے میں کوئی پرندہ قید ہو ۔ [2] فیض القدیر میں ہے : جس نے مَسْجِد سے مَحبَّت کی یعنی اس میں اللہ پاک کی رضا کیلئے اِعْتِکَاف ، نَماز ، ذِکْرُ اللہ اور عِلْمِ دین سیکھنے سکھانے کیلئے بیٹھنے کو عادَت بنا لیا تو اللہ پاک اس سے مَحبَّت فرمائے گا یعنی اسے اپنی پناہ میں رکھے گا اوراسکی حِفَاظَت فرمائے گا ۔ [3]مَسَاجِد کی انہی برکتوں کے حُصُول کیلئے ہمارے اَسلاف اَکْثَر مَسَاجِد میں تشریف فرما رہتے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ابو مسلم خولانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ آپ کَثْرَت سے مَسَاجِد میں بیٹھا کرتے اور فرماتے کہ یہ عزّت والی جگہیں ہیں ۔ [4]
مَسْجِد کی مَحبَّت مجھے میرے خُدا دے صَدْقے میں محمد کے میرے دِل کو لگا دے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دیکھا آپ نے ! مَسْجِد میں ٹھہرنا کس قَدْر فضیلت کا باعِث ہے ۔ چُنَانْچِہ جب ہم بھی ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اِجْتِمَاع میں رات اِعْتِکَاف کی نِیَّت سے مَسْجِد میں ٹھہریں گے تو جہاں مَسْجِد میں ٹھہرنے کا ثواب پائیں گے ، وَہیں عشا اور فَجْر کی نَمازیں با جَمَاعَت اَدا کرنے کی سَعَادَت بھی پائیں گے کہ عشا اور فَجْر کی باجَمَاعَت اَدائیگی کی بھی اپنی ہی فضیلت ہے ۔ جیسا کہ نبیوں کے تاجور ، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : جس نے عشا کی نَماز باجماعت ادا کی گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فَجْر کی نَماز باجَمَاعَت ادا کی گویا اس نے پوری رات قیام کیا ۔ [5] اسی طرح ایک رِوایَت میں فَجْر و عشا کی نَماز جَمَاعَت کے ساتھ اَدا کرنے والے کے لئے سُرخ یَاقُوت کے ایک عظیمُ الشّان مَـحَل کی خوشخبری بھی مَرْوِی ہے ۔ [6]
رَحْمَتِ خُداوندی سے ہر رات کے پچھلے پہر ایک گھڑی ایسی آتی ہے ، جس میں جو دُعا مانگو قبول کی جاتی ہے ، چُنَانْچِہ ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اِجْتِمَاع میں شِرْکَت اور رات اِعْتِکَاف کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ سَاعَت ہمیں بھی حاصِل ہو سکتی ہے ۔
پچھلی راتِیں رحمت ربّ دی کرے بلند آوازہ بخشش منگن وَالَیاں کارن کُھلا اے دروازہ
مختصر وضاحت : اس شعر میں عظیم صوفی بزرگ میاں محمد بخش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اس رِوایَت کے مَفْہُوم کو اپنے اَلْفَاظ میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ پاک ہر رات میں جب پچھلی تہائی باقی رہتی ہے آسمانِ دنیا پر خاص تجلّی فرماتا ہے اور فرماتا ہے : ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کروں ، ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے دوں ، ہے کوئی مَغْفِرَت چاہنے والا کہ اسے بَـخْش دوں ۔ [7]
[1] وسائِلِ بخشش(مرمم) ، ص۳۶۹
[2] علم القلوب ، باب النیة فی جلوس العبد فی المساجد والقعود فيها ، ص۱۹۴
[3] فیض القدیر ، حرف المیم ، ۶/۱۱۲ ، تحت الحدیث:۸۵۲۴
[4] اتحاف السادة المتقین ، كتاب اسرار الصلاة و مهماتها ، فضيلة المسجد و موضع الصلاة ، ۳/۴۶
[5] مسلم ، کتاب المساجد...الخ ، باب فضل صلاةالعشاء...الخ ، ص۲۳۸ ، حديث:۲۶۰ (۶۵۶)
[6] تذکرة الواعظین ، الباب الثانی ، ص ۷
[7] مسلم ، کتاب صلاة المسافرین … الخ ، باب الترغیب فی الدعاء …الخ ، ص۲۷۴ ، حدیث: ۱۶۸ (۷۵۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع