30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! اللہ کریم اور اُس کے رسولِ رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذِکْر کے اِجْتِمَاع میں مانگی جانے والی دُعا پر فرشتے آمین کہتے ہیں ۔ [1] حضرت حاتِم ا َصَمّ رَحمَۃُ اللّٰہِ تعالیٰ عَلَیْہ ایک بار بَلْخ شہر میں بیان فرما رہے تھے ، دورانِ بیان فرمایا : یااللہ ! جو اس اِجْتِمَاع میں سب سے زیادہ گنہگار ہے اُس پر اپنا رحم فرما اور اُس کو بخش دے ۔ ایک کفن چور بھی اُس اِجْتِمَاع میں مَوجُود تھا ، جب رات ہوئی تو کفن چور حَسْبِ مَعْمُول قبرستان گیا اور ایک قَبْر کو کھودا حَسْبِ مَعْمُول قبرستان گیا اور ایک قَبْر کو کھودا تا کہ کفن حاصِل کرے ، اُس کفن چور نے جیسے ہی قَبْر کھودی تو ایک غیبی آواز نے اُس کو چونکا دیا ، کوئی کہہ رہا تھا : اے کفن چور ! تُو تَو آج دِن کو حضرتِ حاتِم اَصم رَحمَۃُ اللّٰہِ تعالیٰ عَلَیْہ کے اِجْتِمَاع میں بخش دیا گیا ہے ، پھر آج ہی رات کو دوبارہ یہ گناہ کیوں کرنے لگا ہے ؟ کفن چور نے یہ آواز سُنی تو رونے لگا اور سچے دِل سے تائب ہو گیا ۔ [2]
شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فیضانِ سُنّت کے باب فیضانِ رمضان ، صفحہ 881 پر لکھتے ہیں : دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مَدَنی مَاحَول اور سُنّتوں بھرے اِجتماعات میں رَحمتیں کیوں نازِل نہ ہوں گی کہ ان عاشِقانِ رسول میں نہ جانے کتنے اَولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام ہوتے ہوں گے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جَمَاعَت میں بَرَکَت ہے اور دُعائے مَجْمَعِ مُسلِمِیْن اَقْرَب بَقَبُوْل (یعنی مسلمانوں کے مَجْمَع میں دُعا مانگنا قبولِیَّت کے قریب تَر ہے ) ۔ عُلَما فرماتے ہیں : جہاں 40 مُسلمان صَالِح (یعنی نیک مسلمان) جَمْع ہوتے ہیں اُن میں سے ایک ولیُّ اللہ ضَرور ہوتاہے ۔ [3]
تُوبے حساب بخش کہ ہیں بے شُمار جُرم دیتا ہوں واسِطہ تجھے شاہِ حِجاز کا
اس بیکسی میں دل کو میرے ٹیک لگ گئی شُہرہ سُنا جو رحمتِ بیکس نواز کا[4]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! مَعْلُوم ہوا سُنّتوں بھرے اِجتماعات بِالْخُصُوص عاشِقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی کے اِجتماعات میں حاضِری سے مَغْفِرَت و بَـخْشِشْ ملتی اور بندہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے ۔ دُعائیں قبول ہوتیں ، بَلائیں ٹلتیں اور مُرادیں پوری ہوتی ہیں ۔ دعوتِ اسلامی کے سُنّتوں بھرے اجتماع میں شِرْکَت کی سعادت حاصل کرکے اس کی برکتیں حاصل کرنے والے ایک عاشقِ رسول کی مدنی بہارملاحظہ کیجئے !
پنجاب (پاکستان) کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے قصْبہ فیروزہ میں دَعْوَتِ اِسلامی کا سُنّتوں بھرا عَظِیمُ الشَّان اِجْتِمَاع ۲ رَجَبُ الْمُرَجَّب ۱۴۱۶ھ میں ہوا ، جس میں شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بیان تھا ، قصبہ فیروزہ کے ایک قریبی گاؤں کی ایک خاتون نے اپنے ایک نابینا بھائی کو اِجْتِمَاع میں شِرْکَت کرنے اور وہاں جا کر آنکھوں کیلئے دُعا کرنے کا مشورہ دیا ، اُس نے حامی بھر لی ۔ اِجْتِمَاع کی نِیَّت کی بَرَکَت یہ ظاہِر ہوئی کہ ایک عرصہ سے رُوٹھ کر میکے بیٹھی ہوئی بیوی خود بخود بغیر بُلائے 2یا3 دِن کے اندر اندر گھر آگئی ۔ جب اِجْتِمَاع والی رات یہ نابینا شخص کسی کے سہارے پر اِجْتِمَاع گاہ میں پہنچا تو بالکل مَنچ (Stage) کے سامنے آکر بیٹھ گیا ۔ لوگوں کی آوازوں اور شورو غُل سے اُس نے اندازہ لگایا کہ اِجْتِمَاع گاہ کھچا کھچ بھر چکی ہے ۔ اتنے میں ہلچل مچ گئی اور فضا "عطار کی آمد مرحبا"کے نعروں سے گُونج اُٹھی ۔ محسوس ہورہا تھا کہ اِجْتِمَاع گاہ کا ہر فرد خوشی سے بے قابو ہوا جارہا ہے ، نابینا شخص بھی جان گیا کہ اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی آمد ہوچکی ہے ۔ اس کا دِل غم میں ڈُوبنے لگا اور اُس نے تڑپ کر کہا : یااللہ ! لوگ تیرے ولی کو دیکھ کرکس قَدْر خوش ہورہے ہیں ۔ کیا میں یہ رُوح پَرور مَنْظَر نہیں دیکھ سکوں گا؟ اتنا کہنا تھا کہ کرم ہو گیا ، اچانک اُس کی آنکھوں میں بجلی چمکی اور اُس کی نگاہوں نے منچ (Stage) پر کھڑے ہوئے اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا جلوہ دیکھ لیا ۔ نَظَر مزید پھیلی اور اُسے سارا منچ نظر آنے لگا اور....اور.... پھر اُس خوش بخت نابینا نے جو کہ اب بیِنا (یعنی آنکھ والا) ہوچکا تھا ، ساری اِجْتِمَاع گاہ کا رُوح پرور مَنْظَر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ یوں وہ نابینا اِسْلَامی بھائی جو اِجتماع میں کسی کا سہارا لیکر آیا تھا واپس بِغیر سہارے کے گھر گیا ۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع