30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حلقہ میں رکھ دیااورپھر اپنی مُسْتَجاب دعا کے ذریعےان کی آنکھ کا علاج فرمادیا۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مریضوں کو شفایاب کرنانبیِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا معجزہ ہے اور جو چیز نبی سے بطور معجزہ صادر ہو وہ ولی سے بطورِ کرامت صادر ہوتی ہے جیساکہ امام جلال الدین عبدالرحمٰن سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنقل فرماتے ہیں:حضرت سیّدنا شیخ عفیف الدین عبداللہ یافعی عَلَیۡہِ رَحۡمَۃُ اللہِ الۡقَوِیۡ نے فرمایا:”اولیاء پر اَحوال پیش کیے جاتے ہیں جس میں وہ آسمانوں اور زمین میں قائم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بادشاہی کو ملاحظہ فرماتے ہیں اور وہ انبیائے کرام عَلَیۡہِمُ السَّلاَمکو بحالتِ حیات اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (معراج شریف کی رات) حضرت سیّدنا موسیٰ عَلَیۡہِ السَّلاَمکو ان کی قبر میں زندہ ملاحظہ فرمایا تھا۔“مزید فرماتے ہیں:” اور یہ بات معلوم ہے کہ جس بات کا صُدُورانبیائے کرام عَلَیۡہِمُ السَّلاَمکی ذات سےجائز ہے ،اسی بات کا اولیائے کرام کی ذات سے صادر ہونا جائز ہے مگر کسی دعوےکی شرط کے بغیر۔“مزید فرماتے ہیں :” کوئی جاہل ہی اس بات کا انکار کرے گا۔“([2])معلوم ہوا جو کام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع