30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کوئی دنیاوی بات بھولیں تو بھولیں میرا کلام كبھی نہ بھولیں گے۔تھوڑا آگے مزید ارشاد فرماتے ہیں: خیال رہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا ہر عضو ہر ادا الله کے خزانوں کا دروازہ ہے کسی کو دم کرکے نعمتیں بخش دیں، کسی کو نظر سے، کسی کو ہاتھ سے، کسی کو زبان شریف سے ،یوں ہی ہر جگہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کا دروازہ عطا ہے جہاں رہ کر بھکاری اپنا ہاتھ پھیلا دے وہاں ہی عطا ہوجاتی ہے۔سورج کا نور کسی خاص جگہ میں نہیں جہاں بھی موجود ہو حجاب سے نکل آؤ نور پا جاؤ گے۔ اعلیٰ حضرت(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے فرمایا ؎
| منگتا کا ہاتھ اُٹھتے ہی داتا کی دین تھی |
| دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے |
مولانا حسن رضا خان صاحب قُدِّسَ سِرُّہ فرماتے ہیں:
| جہاں ہاتھ پھیلا دے منگتا بھکاری |
| وہ ہی در ہے داتا کی دولت سرا کا([1]) |
دوسری روایت میں ہے حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں خودعرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں آپ سے احادیث سنتاہوں مگر بھول جاتاہوں؟ارشاد فرمایا:ابو ہریرہ!اپنی چادر پھیلاؤ ۔([2])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع