سوال: قلبی (باطنی) گناہوں کی شریعت میں کیا اہمیت ہے،نیز قلبی گناہوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک مسلمان کے لیے کتنا اہم ہے؟
جواب:تمام گناہوں کے حوالے سے بنیادی حکم ایک ہی ہے ، خواہ وہ باطنی ہوں یا ظاہری ہوں کہ مختلف صورتوں میں مختلف احکام ہوں گے، مثلا: بہت سے گناہ وہ ہیں جن سے آدمی کا واسطہ ہی نہیں پڑنا، مثلاً کسی کے والدین نہیں ہیں، تو والدین سے متعلق اکثر شرعی احکامات سیکھنا ضروری نہیں، اسی طرح کسی پر حج فرض نہیں ،تو اس پرحج کے احکام سیکھنا ضروری نہیں اور حج کے دوران ہونے والے گناہوں کی معلومات حاصل کرنا بھی ضروری نہیں۔ اسی طرح کوئی آدمی شادی شدہ نہیں تو بیوی بچوں سے متعلق احکام سیکھنا ضروی نہیں۔
علاوہ ازیں کئی گناہ واضح ہوتے ہیں، جو سب کو معلوم ہی ہیں ،جیسے چوری، ظلم، ڈکیتی،یہ وہ گناہ ہیں ،جن کا سب کو علم ہوتا ہے تو ان کا بطورِ خاص علم سیکھنا ضروری نہیں سوائے اس کے کہ بعض چیزوں میں مزید کچھ ایسی تفصیل ہوسکتی ہے جس سے آدمی غافل ہو کر اس کا مرتکب ہوجاتا ہے ۔ جیسے چوری کو سب ناجائز وگنا ہ جانتے ہیں ،لیکن مسجد میں جب اپنی چپل چوری ہوجائے ،تو اس سے ملتی جلتی وہاں نظر آنے پرآدمی قیاس کرلیتا ہے کہ چورمیری لے گیا اور یہ چھوڑ گیا، چوری کی فقہی تعریف تو یہاں پوری نہیں اترتی، لیکن بہرحال یہ گناہ ہے اور ایک اعتبار سے چوری ہے۔یونہی مکے مدینے میں چپل تبدیل کر کے لانا بھی جائز نہیں۔
ایک اور مثال یتیم کا مال کھانے کی ہے کہ یہ حرام ہے اوراس کا علم سب کو ہے ،مگر کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے یتیم بچوں کے مالِ وراثت سےسوئم وغیرہ کی نیاز کا کھانا کھلادیا جاتا ہے۔اب یہ سوئم کا ختم ،چہلم کا ختم ایک نفلی صدقہ ہےاور فی نفسہ سوئم وچہلم جائز ہے، ثواب کا کام ہے، لیکن یتیم کے مال سے کرنا ناجائز و گناہ ہے اور اس کھانے کو، کھانے کی خود یتیم بھی اجازت نہیں دے سکتا ،کیونکہ وہ نابالغ ہے اور نابالغ ایسی اجازت نہیں دے سکتا۔ اب جو شخص بھی اس سوئم وغیرہ سے کھائے گا، وہ یتیم کا مال کھانے کے گناہ کا مرتکب ہوگا، لیکن اس کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں ہوتی ہے، اس مسئلے میں یہ عنوان تو معلوم ہوتا ہے کہ" یتیم کا مال کھانا حرام ہے"لیکن اس کی تفصیلات معلوم نہیں ہوتیں ۔
اس کے علاوہ بہت سے گنا ہ وہ ہیں جن کی تفصیلات کے بغیر آدمی ان سے بچ ہی نہیں سکتا، جیسے کاروبار میں کچھ چیزیں توایسی ہیں،جن کا گناہ ہونا ہر شخص واضح طور پر جانتا ہے، جیسے دھوکا دینا ،جھوٹ بولنا ، خیانت کرنا، ملاوٹ کرنا یہ سب ناجائز ہیں وغیرہ وغیرہ ۔لیکن ان کے علاوہ بھی شریعت کے بہت سارے احکام ہیں جنہیں ’’عُقُودِ فاسِدہ‘‘ کہا جاتا ہے یعنی ایسے ایگریمنٹ (معاہدے) جن میں شرعی اعتبار سے کوئی فَساد پیدا ہوجائے، وہ تفصیلات سب کو معلوم نہیں ہوتیں، لہذا تاجر پر تجارت سے متعلق مسائل سیکھنا ضروری ہیں۔ اگر نہیں سیکھے گا، تونہ سیکھنے کا بھی گناہ ہو گا اور پھر لاعلمی کی وجہ سے دیگر کئی گناہوں کا مرتکب ہوگا۔
گناہوں کی ایک قسم’’ باطنی گناہ‘‘ بھی ہیں۔ باطنی گناہوں میں نوے فیصد وہ صورتیں ہیں جن کا اِرْتِکاب ’’ریا کاری ‘‘اور ’’حُبِّ جاہ‘‘ کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن ان کی معلومات نہ ہونے کی وجہ سےاس کے مرتکب کو اس کاپتہ ہی نہیں چلتا کہ میں ریا کاری یا حُبِّ جاہ کے گناہ میں مبتلا ہورہا ہوں۔
باطنی گناہوں کے متعلق معلومات نہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آدمی ریا کاری کرکے بولتا ہے، میں ریا کاری تھوڑی کرتا ہوں یا لوگوں کو کمتر سمجھ کراور خود کو بڑا سمجھ کر کہتا ہے کہ بھئی ! میں تکبر تھوڑی کررہا ہوں ، وہ ہیں ہی میرے نوکر چاکر ،میرے ملازم ، وہ ہیں ہی ایسے۔ اب یہاں مُتکبر شخص دوسروں کو حقیر سمجھ رہا ہوتا ہے، لیکن اسےعلم نہیں ہوتا کہ میں تکبر کررہا ہوں، اور یوں میں گناہ کا مرتکب ہو رہا ہوں ، اب ایسی چیزوں کے اعتبار سے گناہوں کی معلومات کا حاصل کر نا ضروری ہے اوراس کا یہی طریقہ ہے کہ دینی کتابوں کا مطالعہ کریں، علمائے اہلسنت کَثَّرَھُمُ اللہُ تَعَالیٰ سے گناہوں کے بارے میں سیکھیں اور جو ذرائعِ علم حاصل کرنے کے ہیں ،ان سے علم سیکھیں۔
سوال:گناہوں کی سرسری معلومات حاصل کرنے کے بجائے تفصیلی معلومات کیسے حاصل کریں؟
جواب: بہت سے گناہوں کے متعلق واقعی تفصیلی علم ہی ضروری ہوتا ہے، ورنہ کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں جنہیں نیکی کرنے کے گمان میں کرلیا جاتا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
پہلی مثال: حکم شریعت (یعنی سنت یہ) ہےکہ مرد ٹخنے کھلے رکھے ،اس حکم (سنت) پر عمل کرنے کے لیے بعض لوگ نماز پڑھنے کے لیے شلوار یا پینٹ وغیرہ کو فولڈ کرلیتے ہیں، جو گناہ ہے کہ نماز میں ٹخنے چُھپے رہ جائیں، تو مکروہ تنزیہی ہے ،جوگناہ نہیں، لیکن نماز میں شلوار موڑنا، فولڈ کرنا مکروہ تحریمی ہے، جو گناہ ہے۔
دوسری مثال: بچوں کو مسجد میں لے آنا اچھا کام ہے، مگر اتنے چھوٹے بچوں کو مسجد میں لانا، جائز نہیں کہ جو مسجد میں پیشاب وپاخانہ کردیں یا پھر شور کریں اور معلوم ہو کہ یہ بچے شور کریں گے، تو ایسے بچوں کو مسجد میں لانا گناہ ہے۔ اب دیکھیں کہ لانے والا اپنی طرف سے بڑے جذبے سے نیکی سمجھ کر بچوں کو لایا، لیکن علم کی کمی کے سبب گناہ کا ارتکاب کیا۔
معلوم ہوا کہ علم دین سیکھنا ضروری ہے اور علم دین سیکھے بغیر گزارہ نہیں اورعمل کی بنیاد ہی علم ہے ،لہٰذا علم سیکھیں تاکہ یہ نہ ہو کہ اپنی طرف سے نیکی سمجھ کر گناہ ہی کرتے رہیں۔
سوال: گناہ پر تعاون کرناکیسا؟
جواب:گناہ پر تعاون کی ممانعت کا حکم قرآن پاک میں بالکل واضح طور پر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ) ( ) ترجمہ:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔
قرآن پاک کی نصِ قطعی موجود ہے کہ گناہ پردوسرے کی مدد کرنے کی اجازت نہیں ،بلکہ حکم یہ ہے کہ گناہ سے روکا جائے۔ اس حوالے سے ایک بڑی دلچسپ حدیث مبارک ہے۔
نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’اُنْصُرْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا‘‘ یعنی اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو، صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ نے عرض کیا: یارسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مظلوم کی تو ہم مدد کریں ، لیکن کیا ظالم کی بھی مدد کریں؟ فرمایا:ہاں !اورظالم کی مدد یہ ہے کہ تم اسے ظلم سے روک دو۔“( ) یہ ظالم کی مدد یوں ہے کہ اس کی آخرت کے لیے مفید ہے۔تو گنہگار کی مدد یہ ہے کہ اسے گناہ سے روک دیا جائے ۔
اس سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے ،جو دوستی یاری نِبھانے کے چکر میں ایک دوسرے کی گناہ میں معاونت کرتے ہیں اور اپنے طور پر سمجھتےہیں کہ دوستی کا حق ادا کررہا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کے ظاہری باطنی امراض اور گناہوں سے محفوظ رکھے، ہمیں نیک بنائے اورنیکیوں پر استقامت عطا فرمائے۔
آمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
… پارہ6، المائدہ:2
…بخاری، کتاب المظالم، باب اعن اخاك ظالما او مظلوما، 3/128، حدیث:2443