دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Gunnah Ki Pehchan | گناہ کی پہچان

Fasiq Ki Tareef

book_icon
گناہ کی پہچان

فاسق کی تعریف

سوال: فاسِق کسے کہتے ہیں؟
جواب: فاسق کا لفظ فِسْق سے بناہے فا،سین،قاف، فِسْق کا لغوی معنیٰ ہوتا ہے: نکل جانا/باہر نکل جانا یا خُروج اور شرعی اعتبار سے فِسْق کا مطلب ہے:اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے باہر نکل جانا۔
اب یہاں دو باتیں پیشِ نظر رہیں کہ گناہ کی دو قسمیں ہیں: کبیرہ اور صغیرہ یعنی بڑا گناہ اور چھوٹا گناہ۔ جو آدمی کبیرہ گناہ ایک مرتبہ بھی کرے ،وہ فاسق ہے،  جبکہ  صغیرہ گناہ  بار بار کرے  ،تو فاسق ہوتا ہے۔
  لہذا فاسق کا اطلاق اس پر ہوگا جو کبیرہ گناہ کرے یا صغیرہ گناہ بار بار کرے، اب اس میں مزید دو صورتیں  ہیں ۔ فاسق وہ گناہ  چُھپ کر کرتا ہے یا علانیہ ۔ اگر وہ چھپ کر کرے ،تو  اسے’’ فاسقِ غیر مُعْلِن ‘‘ کہا جاتا ہے اور  اگر  علانیہ گناہ کرے تو اسے’’ فاسق مُعْلِن یا فاجِر‘‘ کہا جاتا ہے۔ فاسق معلن  یا فاجر کا لفظ اسی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
پھر ایک اور اعتبار سے فسق کی دو قسمیں  ہیں۔ پہلی قسم: وہ فسق  جس کا تعلق عقیدے سے ہے اور دوسری قسم:وہ فسق جس کا تعلق عمل کے ساتھ ہو۔قرآن پاک میں فسق عملی  کا بھی بیان ہے جیسے خنزیر کا گوشت کھانا اسے فسق فرمایا گیا ہے، جبکہ  فسق ِعقیدہ  قرآن پاک میں بہت زیادہ بیان ہے بلکہ زیادہ تر قرآن پاک میں فاسق و فسق کا لفظ فاسق عقیدہ یا بدعقیدہ کے حوالے سے ہی بیان کیا گیا ہے۔لہٰذا جس کا عقیدہ فاسد ہے ،جیسے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ کے زمانے میں ہی’’ قَدْرِیَّہ فِرْقہ‘‘ پیدا ہوگیا تھا ،جو تقدیر کا منکرتھا اور ایک ’’جَبْرِیَّہ فرقہ‘‘ نکلا جو یہ کہتا تھا کہ  انسان مجبورِ مَحْض  ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا،اس سے کروالیا جاتا ہے۔اسی طرح ’’خارجی فرقہ‘‘  جن کی بڑی پہچان حضرت عبداللہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا نے بیان فرمائی تھی کہ وہ  مشرکوں کے بارے میں نازل ہونے والی آیتیں مسلمانوں پر مُنْطَبِق کرتے ہیں۔( ) اب یہ پہچان آج تک چلتی آرہی ہے،آج بھی بہت سے بدعقیدہ خارجی  ایسے ہیں جو بُتّوں کے بارے میں اُترنے والی  آیتیں ،انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃ وَ السَّلَام  و اولیائے کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ پر منطبق کردیتے ہیں کہ بتوں کی طرح مَعاذَاللہ انبیاء و اولیاء بھی بے بس ہیں۔
اسی طرح ایک فرقہ ’’مُعْتَزِلَہ‘‘ گزرا ہے جو صفاتِ باری تعالیٰ میں عجیب و غریب تاویلات کرتا تھا اور عذابِ قبر کا منکر تھا ، یونہی  قرآن پاک کے بارے میں ان کے عقائد عام مسلمانوں سے ہَٹ کر تھے ، ان کے نزدیک کلام اللہ،  خدا کی صفت نہیں، بلکہ مخلوق ہے۔ 
یہ سب فاسق العقیدہ فرقے ہیں،جن کا عقیدہ بگڑ گیا، جو عقیدہ میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے نکل گئے۔ 
خلاصہ ٔ کلام یہ ہے کہ فسق کا لغوی معنی وہی کہ نکل جانا اور اصطلاحی معنی اللہ تعالی کی فرمانبرداری سے باہر نکل جانا ، پھر اگر کبیرہ گناہ کیا، تو فاسق اورصغیرہ گناہ پر اصرار کیا تو فاسق، پھر چُھپ کر کیا، تو فاسق غیر معلن ، علانیہ کیا تو فاسقِ معلن یا ا سے فاجر کہا جائے گا۔  آگے وہی تقسیم ہے کہ عقیدہ کے اعتبار سےفاسق ہے یا عمل کے اعتبار سے۔

گناہ کے کام میں مخلوق کی بات ماننے کا حکم

سوال: بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ شوہر، والدین یا حکمران یا اساتذہ یا افسران کسی ایسی بات کا حکم دیتےہیں،جو شریعت کی رُو سے گناہ ہے، ایسی صورت میں کیا حکم ہے کہ ان کی بات ماننا درست ہوگا خصوصاً اگر والدین  یا شوہر حکم دیں ؟
جواب: مخلوق کی اطاعت جائز کاموں میں کی جاسکتی ہے،جبکہ گناہ و معصیت میں ان کی کوئی اطاعت نہیں، حدیثِ مبارک میں واضح انداز میں فرما دیا گیا کہ نبی کریم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:’’ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ ‘‘یعنی اطاعت صرف نیکی میں ہے۔ ( )
ایک دوسری حدیث مبارک میں ارشاد ہوا :’’ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ‘‘یعنی خالق کی نافرمانی میں  کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ ( )
اسی طرح قرآن پاک کی آیتِ مبارکہ بھی ہے  کہ 
(وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘-وَّ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّۚ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ)  ( ) ترجمہ: اور اگر وہ دونوں تجھ پر کوشش کریں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں، تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے اور میری طرف رجوع کرنے والے آدمی کے راستے پر چل، پھر میری ہی طرف تمہیں پھر کرآنا ہے تو میں تمہیں بتادوں گا جو تم کرتے تھے۔
اس آیت میں والدین ہی کا  بطورِ خاص تذکرہ ہے اور فرمایا گیا کہ اگر وہ تجھے شرک کرنے کا کہیں ، تو پھر ان کی بات نہ مان، لیکن دنیا کے معاملات  میں ان سے اچھا سلوک کر۔ لہذا والدین کسی گناہ کا حکم دیں تو عمل نہ کیا جائے مثلا  اگروالدین  داڑھی رکھنے سے منع کریں تو  ان کا منع کرنا بھی گناہ ہے اور ان کی یہ بات ماننا بھی گناہ ہے کیونکہ داڑھی رکھنے کا  حکم  نبی کریم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دیا ہے کہ مونچھیں پست کرو اور  داڑھی بڑھاؤ، ۔ ( ) لہذا اللہ و رسول عَزَّ و جَلَّ و  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مقابل جس کی بھی بات ہوگی وہ نہیں  مانی جائے گی۔

وَسْوَسوں کا بیان

  سوال: وسوسے کیوں آتے ہیں، نیز اس کا حکم کیا ہے؟
      جواب: وَسْوَسے آنے کا سبب نفس وشیطان ہیں کہ شیطان انسان کے دل میں باہر سے وسوسے ڈالتا ہے، یونہی بعض انسان بھی اپنی باتوں سے وسوسے ڈال دیتے ہیں، چنانچہ  قرآن پاک  میں ہے:
(الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ۔مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ)( ) ترجمہ:وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ جنوں اورانسانوں میں سے۔
یعنی وسوسے ڈالنے والا جن بھی ہوسکتا ہے اور ا نسان بھی اور وسوسہ ڈالنا شیطان کے  بڑے کاموں میں سے ہے کیونکہ شیطان بنیادی طور پر  یہی کرتا ہے کہ لوگوں کو گناہ  اورکفر کے وسوسے ڈالتا ہے ۔ دوسری طرف نفس ہے کہ شیطان کی طرح  نفس بھی انسان کو وسوسہ میں مبتلا کرنے کا ذریعہ ہےاور اس کے وسوسوں کو  ’’وساوسِ نفسانی ‘‘کہتے ہیں جیسے  ماہِ رمضان  میں شیطان کے قید ہونے کے باوجودلوگوں کو  وسوسے آتے ہیں۔ یہ  نفس کی طرف سے ہوتے ہیں کیونکہ نفس، شیطان کے ساتھ  گہرے رابطے کی وجہ سے  بہت طاقتور  ہوچکا ہوتا ہے اور اس کے وسوسے بھی اتنے ہی مؤثر ہوتے ہیں، جتنے شیطان کے وسوسے۔ معلوم ہوا کہ وسوسے کی بنیاد  شیطان اور نفس ہیں۔

وسوسوں کی پہچان کا طریقہ

سوال:وسوسوں کی پہچان کیسے ہو؟
جواب:وسوسوں کی پہچان کے لیے امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ  کی کتاب ”منہاج العابدین“ کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کتاب میں امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ  نے اس پر بہت خوبصورت کلام کیا ہے کہ بندے کے دل میں جو خیالات آئیں ،وہ ان کو کیسے پہچانے کہ یہ رحمانی ہے یا شیطانی ہے؟ نیز امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے رسالے”وسوسے اور ان کا علاج“ میں بھی بہت خوبصورت معلومات موجود ہیں۔ 

وسوسوں میں گناہ کی صورت

سوال: دل میں جو وسوسے آتے ہیں ،یہ گناہ ہیں یا نہیں؟
جواب: عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے دل میں گناہ کا صرف خیال آتا ہے،مگر وہ اپنے آپ سے اس خیال کو جَھٹک دیتا ہے، اس طرح کے وسوسے پر گناہ نہیں۔ویسے دِلی خیالات  کی بہت سی قسمیں ہیں، جن میں سے دو یہ  ہیں: ایک عزم  ہے اور عزم کا مطلب ہے پکا ارادہ، جسے ہم’’ عزمِ مُصَمَّم‘‘کہتے ہیں۔  عزم مصمم پرپکڑ ہوگی اور  اس پر گناہ ہوتا ہے۔اسی عزم کے ذریعے انسان گناہ کےاسباب مہیا کرتا ہے اور اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے ،اگرچہ وہ کسی وجہ سے گناہ نہ بھی کرسکے مثلاً:ایک آدمی گھر سے چوری کے ارادے سے نکلا، پھر کسی وجہ سے وہ چوری نہیں کرسکا ،جیسے وہاں لوگ جاگ رہے تھےیا پولیس موجود تھی وغیرہ ۔ توایسی صورت میں آدمی گنہگار ہوگا ،کیونکہ اس نے گناہ کا عزم مصمم کرلیا تھا۔معلوم ہوا کہ عزم مصمم جہاں پر پایا جائے وہاں گناہ ملے گا۔
دوسرا  یہ   ہے کہ آدمی اپنے تصور میں  بے حیائی کا کام کرے، اس صورت میں بھی بندہ گنہگار ہوتا ہے۔ 

رشتہ داروں سےحسن سلوک کرنا

سوال: اگر کوئی رشتہ دار وغیرہ ہمارے ساتھ بُرا کرے ،تو ہمیں کیا رَدِّ عمل دِکھانا چاہیے؟
جواب: اسی سے ملتا جلتا سوال نبی کریم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں بھی پیش کیا گیاتھا کہ میرے رشتہ دار مجھ سے اچھا سلوک نہیں کرتے، لیکن میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں، تو کیا میں اپنا یہ اچھا عمل جاری رکھوں؟یعنی میں ان سے صلہ رحمی نیک سلوک جاری ر کھوں یا میں بھی پھر بدلے کے طور پر  اسی طرح کروں؟تو نبی کریم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنا اچھا سلوک جاری رکھو،حدیث کے الفاظ یہ ہیں:یعنی ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ !  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے قریبی رشتہ دار ہیں،میں ان سے  تعلق جوڑتا ہوں اوروہ مجھ سے توڑتے ہیں،میں ان  کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں،لیکن وہ میرے ساتھ  برائی کرتے ہیں،میں ان سے بُرْدْباری سے پیش آتا ہوں، جبکہ وہ میرے ساتھ  جہالت سے پیش آتے ہیں۔ تو نبی کریم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے  فرمایا : اگر ایسا ہی ہے،جیسے تم کہہ رہے ہو، تو تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو اور تمہارے ساتھ اللہ کی طرف سے ان  کے خلاف ایک مددگار رہے گا ،جب تک تو اس حال پر رہے۔( )لہٰذا رشتہ دار کی باتوں کو برداشت کیا جائے اور اپنا اچھا سلوک جاری رکھا جائے، بلکہ ایک حدیث مبارک میں صریح حکم ہے:’’صِلْ مَنْ قَطَعَکَ‘‘ یعنی کہ تم اس سے اپنی رشتہ داری جوڑے رکھو جو تم سے توڑتا ہے ۔ ( ) لہٰذا جو رشتہ دار رشتہ داری توڑتا ہے اسے جوڑنے ہی کی کوشش کی جائے۔
بہار شریعت کی ایک عبارت کا خلاصہ ہے کہ : رشتہ دار اچھا سلوک کریں اور ہم بھی ان سے اچھا سلوک کریں ،یہ تو ادلہ بدلہ ہے، جو کسی کے ساتھ بھی آدمی کردیتا ہے۔صلہ رحمی یہ ہے کہ وہ تجھ سے توڑے اور تو اس سے جوڑے، تیرے ساتھ زیادتی کرے اور تو اس کے ساتھ بھلائی کرے۔ صلہ رحمی کے بنیادی مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ رشتے دار اگر زیادتی کرتے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں، ر شتہ داری توڑتے ہیں، تو ان سے اچھے سلوک کی کوشش کی جائے۔
البتہ یہ ضرور ہے کہ دنیاوی حکمتِ عملی آدمی کو اپنانی چاہیے کہ بلا وجہ خود کو ذلت کی جگہ  پر بھی پیش کرنے کے بجائے اس سے بچنے کی صورتیں اپنائی جائیں اور اپنی طرف سے کوشش کرے  اور یہ ذہن بنائے کہ میں اس کے لیے دعائے خير ہی کروں گا، میرے دل میں اس کے لیے بھلائی کا جذبہ ہی رہے گا،  میں اسے  جہاں خير پہنچا سکوں گا ،توپہنچاؤں گا ، میں اس کے ظلم کا بدلہ ظلم سے نہیں دوں گا ، اس کی گالیوں کے بدلے گالی  نہیں دوں گا ۔ ہاں ان کے شر  سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو کچھ فاصلہ پررکھیں اور وَقتاً فَوَقتاً حسنِ سلوک کا معاملہ کرتےر ہیں۔

 … بخاری،کتاب استتابۃ المرتدين و المعاندين و قتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين،9/16
 … مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غير معصيۃ، ص:789، حدیث:1840(4765)
 … المصنف، کتاب السیر، باب فی امام السریۃ یامرہم بالمعصیۃ، 18/247، حدیث:34406
 … پارہ21، لقمان:15
 … بخاری، کتاب اللباس، باب اعفاء اللحی، 7/160، حدیث:5893
 … پارہ30، الناس، 5، 6
 … مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب صلۃ الرحم و تحریم قطیعتھا، ص:1062، حدیث:2558(6525)
 … مسند احمد، مسند الشامیین، حدیث عقبہ بن عامر الجہنی، 6/148، حدیث:17457

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن