دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Gunnah Ki Pehchaan | گناہ کی پہچان

Waswason Ka Bayan

book_icon
گناہ کی پہچان

وَسْوَسوں کا بیان

  سوال: وسوسے کیوں آتے ہیں، نیز اس کا حکم کیا ہے؟
      جواب: وَسْوَسے آنے کا سبب نفس وشیطان ہیں کہ شیطان انسان کے دل میں باہر سے وسوسے ڈالتا ہے، یونہی بعض انسان بھی اپنی باتوں سے وسوسے ڈال دیتے ہیں، چنانچہ  قرآنِ پاک  میں ہے:
(الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵) مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶)) (پ 30، الناس:6،5) ترجمہ:وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ جنوں اورانسانوں میں سے۔
 یعنی وسوسے ڈالنے والا جن بھی ہوسکتا ہے اور ا نسان بھی اور وسوسہ ڈالنا شیطان کے  بڑے کاموں میں سے ہے کیونکہ شیطان بنیادی طور پر  یہی کرتا ہے کہ لوگوں کو گناہ  اورکفر کے وسوسے ڈالتا ہے ۔ دوسری طرف نفس ہے کہ شیطان کی طرح  نفس بھی انسان کو وسوسہ میں مبتلا کرنے کا ذریعہ ہےاور اس کے وسوسوں کو  ’’وساوِسِ نفسانی ‘‘کہتے ہیں جیسے  ماہِ رمضان  میں شیطان کے قید ہونے کے باوجودلوگوں کو  وسوسے آتے ہیں۔ یہ  نفس کی طرف سے ہوتے ہیں کیونکہ نفس، شیطان کے ساتھ  گہرے رابطے کی وجہ سے  بہت طاقتور  ہوچکا ہوتا ہے اور اس کے وسوسے بھی اتنے ہی مؤثر ہوتے ہیں، جتنے شیطان کے وسوسے۔ معلوم ہوا کہ وسوسے کی بنیاد  شیطان اور نفس ہیں۔

وسوسوں کی پہچان کا طریقہ

سوال:وسوسوں کی پہچان کیسے ہو؟
 جواب:وسوسوں کی پہچان کے لیے امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ  کی کتاب ”منہاجُ العابدین“ کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کتاب میں امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ  نے اس پر بہت خوبصورت کلام کیا ہے کہ بندے کے دل میں جو خیالات آئیں ،وہ ان کو کیسے پہچانے کہ یہ رحمانی ہے یا شیطانی ہے؟ نیز امیر ِاہلِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ   کے رسالے” وسوسے اور ان کا علاج“  میں بھی بہت خوبصورت معلومات موجود ہیں۔ 

وسوسوں میں گناہ کی صورت

 سوال: دل میں جو وسوسے آتے ہیں ،یہ گناہ ہیں یا نہیں؟
جواب: عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے دل میں گناہ کا صرف خیال آتا ہے،مگر وہ اپنے آپ سے اس خیال کو جَھٹک دیتا ہے، اس طرح کے وسوسے پر گناہ نہیں۔ ویسے دِلی خیالات  کی بہت سی قسمیں ہیں، جن میں سے دو یہ  ہیں: (1)ایک عزم  ہے اور عزم کا مطلب ہے پکا ارادہ، جسے ہم’’ عزمِ مُصَمَّم‘‘کہتے ہیں۔  عزمِ مُصَمَّم پرپکڑ ہوگی اور  اس پر گناہ ہوتا ہے۔اسی عزم کے ذریعے انسان گناہ کےاَسباب مہیا کرتا ہے اور اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے ،اگرچہ وہ کسی وجہ سے گناہ نہ بھی کرسکے مثلاً:ایک آدمی گھر سے چوری کے ارادے سے نکلا، پھر کسی وجہ سے وہ چوری نہیں کرسکا ،جیسے وہاں لوگ جاگ رہے تھےیا پولیس موجود تھی وغیرہ ۔ توایسی صورت میں آدمی گنہگار ہوگا ،کیونکہ اس نے گناہ کا عزم مُصَمَّم کرلیا تھا۔معلوم ہوا کہ عزمِ مُصَمَّم جہاں پر پایا جائے وہاں گناہ ملے گا۔(2) دوسرا  یہ   ہے کہ آدمی اپنے تصور میں  بے حیائی کا کام کرے، اس صورت میں بھی بندہ گنہگار ہوتا ہے۔ 

رشتہ داروں سےحسن سلوک کرنا

سوال: اگر کوئی رشتہ دار وغیرہ ہمارے ساتھ بُرا کرے ،تو ہمیں کیا رَدِّ عمل دِکھانا چاہیے؟
جواب: اسی سے ملتا جُلتا سوال نبیِ کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم    کی بارگاہ میں بھی پیش کیا گیاتھا کہ میرے رشتہ دار مجھ سے اچھا سلوک نہیں کرتے، لیکن میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں، تو کیا میں اپنا یہ اچھا عمل جاری رکھوں؟یعنی میں ان سے صلہ رحمی نیک سلوک جاری ر کھوں یا میں بھی پھر بدلے کے طور پر  اسی طرح کروں؟تو نبی کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم    نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنا اچھا سلوک جاری رکھو،حدیث کے الفاظ یہ ہیں:یعنی ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ !  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   ! میرے قریبی رشتہ دار ہیں،میں ان سے  تعلق جوڑتا ہوں اوروہ مجھ سے توڑتے ہیں،میں ان  کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں،لیکن وہ میرے ساتھ  برائی کرتے ہیں،میں ان سے بُرْدْباری سے پیش آتا ہوں، جبکہ وہ میرے ساتھ  جہالت سے پیش آتے ہیں۔ تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم    نے  فرمایا : اگر ایسا ہی ہے، جیسے تم کہہ رہے ہو، تو تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو اور تمہارے ساتھ اللہ کی طرف سے ان  کے خلاف ایک مددگار رہے گا ،جب تک تو اس حال پر رہے۔ ( ) لہٰذا رشتہ دار کی باتوں کو برداشت کیا جائے اور اپنا اچھا سلوک جاری رکھا جائے، بلکہ ایک حدیث مبارک میں صریح حکم ہے:’’صِلْ مَنْ قَطَعَکَ‘‘ یعنی کہ تم اس سے اپنی رشتہ داری جوڑے رکھو جو تم سے توڑتا ہے ۔ ( ) لہٰذا جو رشتہ دار رشتہ داری توڑتا ہے اسے جوڑنے ہی کی کوشش کی جائے۔
بہارِ شریعت کی ایک عبارت کا خلاصہ ہے کہ : رشتہ دار اچھا سلوک کریں اور ہم بھی ان سے اچھا سلوک کریں ،یہ تو ادلہ بدلہ ہے، جو کسی کے ساتھ بھی آدمی کردیتا ہے۔صلہ رحمی یہ ہے کہ وہ تجھ سے توڑے اور تو اس سے جوڑے، تیرے ساتھ زیادتی کرے اور تو اس کے ساتھ بھلائی کرے۔ صلہ رحمی کے بنیادی مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ رشتے دار اگر زیادتی کرتے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں، ر شتہ داری توڑتے ہیں، تو ان سے اچھے سلوک کی کوشش کی جائے۔البتہ یہ ضرور ہے کہ دنیاوی حکمتِ عملی آدمی کو اپنانی چاہیے کہ بلاوجہ خود کو ذِلّت کی جگہ  پر بھی پیش کرنے کے بجائے اس سے بچنے کی صورتیں اپنائی جائیں اور اپنی طرف سے کوشش کرے  اور یہ ذہن بنائے کہ میں اس کے لیے دعائے خير ہی کروں گا، میرے دل میں اس کے لیے بھلائی کا جذبہ ہی رہے گا،  میں اسے  جہاں خير پہنچا سکوں گا ،توپہنچاؤں گا ، میں اس کے ظلم کا بدلہ ظلم سے نہیں دوں گا ، اس کی گالیوں کے بدلے گالی  نہیں دوں گا ۔ ہاں ان کے شر  سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو کچھ فاصلہ پررکھیں اور وَقتاً فَوَقتاً حسنِ سلوک کا معاملہ کرتےر ہیں۔

 … مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب صلۃ الرحم و تحریم قطیعتھا، ص:1062، حدیث:2558(6525)
 … مسند احمد، مسند الشامیین، حدیث عقبہ بن عامر الجہنی، 6/148، حدیث:17457

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن