(1)جن لڑکیوں کی شادی نہ ہوتی ہو یا منگنی ہو کر ٹوٹ جاتی ہو وہ نمازِ فجر کے بعد یَا ذَاالجَلَالِ وَالاِکرَام 312 بارپڑھ کر اپنے لئے نیک رشتہ ملنے کی دعا کریں، اِنْ شَآءَ اللہ جلدشادی ہو اور خاوَند بھی نیک ملے (2) یَاحَیُّ یَا قَیُّومُ 143بار لکھ کر تعویذ بنا کر کنوارا اپنے بازو میں باندھے یا گلے میں پہن لے، اِنْ شَآءَ اللہ اُس کی جلد شادی ہو جائے گی اور گھر بھی اچھا چلے گا (3) لڑکی یا لڑکے کے رشتے میں رکاوٹ ہو یا اس میں بندِش کا شبہ ہو تو روزانہ بعد نمازِ فجر باوُضو ہر بار بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے ساتھ سُوْرَۃُالتِّین 60 مرتبہ پڑھئے۔ اِنْ شَآءَ اللہ چالیس دن کے اندر اندر کام ہوجائے گا۔( )
سُوال: آپ میرے خواب میں تشریف لائے تھے اور مجھے دودھ پینے کا حکم فرمایا تھا۔ عرض یہ ہے کہ دودھ پینے کے فوائد بیان فرمادیجئے۔ (جامعۃ المدینہ کے ایک طالب علم کا Message کے ذریعے سوال)
جواب: جب میں خواب میں آیا تھا تو دودھ پینے کے فوائد بھی خواب میں ہی پوچھ لیتے!! دودھ ایسی طاقتور غذا ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے دودھ ہی دیا جاتا ہے، بلکہ ایسے بچے کو ’’دودھ پیتا بچہ‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔ دودھ میں اتنی غذائیت ہوتی ہے کہ جب تک بچے کو دودھ ملتا رہتا ہے وہ تندرست رہتا ہے، لیکن جب اس کو دوسری چیزیں کھلانا شروع کرتے ہیں تو ،مسائل شروع ہوجاتے ہیں۔ بہرحال دودھ کے بہت فوائد ہیں اور یہ اللہ پاک کی نعمت ہے۔ خواب میں دودھ پینے کی ایک تعبیر علمِ دین حاصل ہونے کی بھی ہے۔( )
(اس موقع پر مفتی حسان صاحب نے فرمایا: ) ایک حدیثِ پاک میں نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے اپنا خواب بیان فرمایا ہے کہ ’’مجھے خواب میں دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا تو میں نے اسے پیا اور اتنا پیا کہ میں نے اپنی انگلیوں کے پوروں سے تری نکلتے ہوئے دیکھی، اس کے بعد بچا ہوا دودھ میں نے عمر کو دے دیا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم نے اس کی تعبیر پوچھی تو فرمایا: علم۔‘‘( ) یعنی دودھ کی تعبیر علم سے ہے کہ جس طرح دودھ جسم کو قوت دیتا ہے، اسی طرح علم ایمان کو قوت دیتا ہے۔
(امیر ِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا: ) حدیثِ پاک میں ہے: ’’گائے کا دودھ اِستِعما ل کرو (یعنی پیا کرو)، کیونکہ یہ ہر درخت سے غذا حاصل کرتی ہے اور اس میں ہر بیماری سے شفا ہے۔‘‘( )
ہمارے ہاں پاکستان اور کراچی میں گائےکے دودھ کا اِستِعمال کم ہے، یعنی گائے کا دودھ کہہ کر بیچیں تو نہیں لیں گے، لیکن بھینس کا دودھ کہہ کر بیچیں گے تو خرید لیں گے، حالانکہ ہمارے ہاں جو دودھ گائے یا بھینس کا کہہ کر بیچا جارہا ہوتا ہے وہ گائے، بھینس اور بکری کا مکس دودھ ہوتا ہے، مزید اس دودھ میں اور بھی چیزیں ڈالی جاتی ہیں۔ گائے کا دودھ فائدہ مند ہوتا ہے، لیکن ہماری عوام اس کے بجائے دودھ کے نام پر کچھ کا کچھ پینا پسند کرتی ہے، حالانکہ بعض اوقات جسے دودھ کہہ کر بیچا جارہا ہوتا ہے وہ سرے سے دودھ ہی نہیں ہوتا، بلکہ مختلف کیمیکلز ڈال کر ایک سفید رنگ کا Liquid(یعنی مائع چیز) تیار کیا جاتا ہے جو چائے بھی بنادیتا ہے اور ملائی بھی دے دیتا ہے، حالانکہ اس سے صحت کا ستیاناس ہوجاتا ہے۔ ہوسکے تو گائے کا خالص دودھ حاصل کرکے پئیں، اگر وہ پانی ملاتا ہوگا تو دودھ میں ہی ملاتا ہوگااور پانی کے ساتھ ہی صحیح، لیکن کچھ نہ کچھ دودھ بھی پیٹ میں چلا جاتا ہو گا۔ البتہ جو لوگ دھوکا دے کر دودھ میں پانی ملاکر بیچتے ہیں انہیں اس سے بچنا ضروری ہے۔
اللہ پاک کے آخری نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کا ارشاد ہے: ’’جب کوئی شخص دودھ پئے تو کہے (یعنی یہ دُعا پڑھے): ’’اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہ ‘‘(ترجمہ:اے اللہ! ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں مزید عطا فرما)، کیونکہ دودھ کے سِوا ایسی کوئی چیز نہیں جو کھانے اور پانی دونوں کی جگہ کفایت کرے۔‘‘( ) حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ’’یعنی صرف دودھ میں وہ نعمت ہے جو بھوک وپیاس دونوں کو رفع(دُور) کرتا ہے، لہٰذا یہ غذا بھی ہے اور پانی بھی۔ ‘‘( ) رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو پینے کی چیزوں میں دودھ بہت پسند تھا۔( ) چنانچہ بخار ی شریف میں ہے: سرکار ِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو ہدیہ میں دودھ بھیجا گیا جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے اَصحاب صفہ کو بھی پلایااور خود بھی نوشِ جان فرمایا یعنی پیا۔( )
مکتبۃ المدینہ کے رسالے ’’دودھ پیتا مدنی منّا‘‘ میں ’’دودھ کے 47 مدنی پھول‘‘ لکھے ہیں، یہ رسالہ خرید کر پڑھیں، آپ کو دودھ کے بہت فائدے معلوم ہوں گے، چند فوائد عرض کرتا ہوں:
ایک طبّی تحقیق کے مطابق دودھ پینے والوں کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں دودھ کیلشیم(Calcium) سے بھر پور ہوتا ہے، یہ ہڈیوں کی بیماری ، آنتوں کے کینسراور ہیپا ٹائٹس کو روکنے میں مدد کرتا ہے کم عمری میں چہرے وغیرہ پر جھریاں پڑ گئی ہوں تو روزانہ رات نیم گرم(Lukewarm)دودھ پئیں چہرے پر ہونے والے مسوں، داغ دھبوں اور کیل مہاسوں (یعنی جوانی کی پھنسیوں) کا علاج یہ ہے کہ سونے سے پہلے اپنے چہرے یا متاثرہ حصے پر قابل برداشت گرم دودھ سے مالش (Massage ) کیجئے اور اُسی دودھ سے چہرہ دھوئیے، پھر آدھے گھنٹے بعدپانی سے چہرہ دھولیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ فائدہ ہو جائے گا دودھ میں پانی ملاکر خشک خارش والی جگہ پر لگائیے، تھوڑی دیر کے بعد دھو ڈالئے، اِنْ شَآءَ اللہ فائدہ ہو جائے گا تازہ دودھ کا جھاگ(Froth) ملنے سے بھی چہرے کے داغ دھبے وغیرہ دُور ہوتے ہیں۔( )
جب بھینسوں کا دودھ دوہا جاتا ہے تو دودھ جس برتن میں گرتا ہے اس میں اوپر جھاگ بنتا ہے جس طرح صابن کا جھاگ ہوتا ہے۔ پہلے جھاگ والا دودھ دکانوں پر ایک روپے سیر کے حساب سے ملتا تھا اور میں خرید کر لاتا تھا، ککری گراؤنڈ کے قریب لی مارکیٹ میں منڈی لگتی تھی وہاں سے دودھ اور بھی سستا جیسے 10 آنے، آٹھ آنے اور کبھی تو چھ آنے سیر کے حساب سے بھی مل جایا کرتا تھا، البتہ محرم الحرام کے دنوں میں دودھ مہنگا ہوجاتا تھا، کیونکہ لوگ شربت بنانے کےلئے دودھ خریدا کرتے تھے۔ پہلے اچھی کوالٹی کا دودھ مل جاتا تھا، لیکن اب سمجھ نہیں آتا کہ اچھا دودھ کہاں سے لائیں!
سُوال: ہمارا لوہے کا کام ہے۔ جو کار یگر ابتدا سے ہمارے ساتھ ہیں انہیں کام کرتے کرتے کافی عرصہ ہوگیا ہےاور وہ بزرگی تک پہنچ گئے ہیں جس کی وجہ سے ان سے اب کام نہیں ہوتا۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ نئے مزدور لے کرآئیں، تاکہ ہمیں صحیح کام مل سکے، لیکن پرانے کاریگروں کو چھوڑنے کا بھی ہمارا دل نہیں کرتا۔ اس معاملے میں اسلام ہماری کیا راہ نمائی کرتا ہے؟ (شیخ فصیح الدین )
جواب: جو لوگ کام کرتے کرتے بزرگ ہوجاتے ہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ اگر کوئی ادارہ وقف کے پیسوں سے چل رہا ہے تو اس کے اپنے مسائل ہیں، لیکن اگر کوئی پرائیویٹ ادارہ ہے تو اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس بزرگ نے اپنے دور میں بہت کما کر دیا تھا، یہ جان لڑا دیتا تھا، اب اگر اس سے محنت نہیں ہوتی تو اس کے لئے کسی ہلکے پھلکے کام کا انتظام کرلیا جائےاور تنخواہ میں بھی کمی نہ کی جائے۔ یہ میرا مشورہ ہے، اس پر عمل کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ دنیا و آخرت کی بھلائیاں ملیں گی۔ہمیں نہیں پتا کہ کس کی بَرَکت سے اور کس کے صدقے میں ہمارا گھر اور کاروبار چل رہا ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ہم کسی ملازم کاناحق دل کھائیں، اس کا حق دبائیں، اس پر ظلم کریں، اسے ڈانٹیں، جھاڑیں، گالیاں بکیں اور بالکل حقیر سمجھیں، جبکہ وہ بے چارہ چپ رہے اور دل مسوس کر رہ جائے تو ہمارا دیوالیہ نکل جائے۔ آج کل اس طرح کے مظالم عام ہورہے ہوتے ہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں کس کا کیا مرتبہ ہے۔ ہمارے اخلاق اچھے ہونے چاہئیں۔ کبھی بھی کسی کو تکلیف مت دیجئے۔
…… مینڈک سوار بچھو، ص۲۴۔
…… مراٰۃ المناجیح، ۸/۱۴۴۔
…… بخارى، کتاب العلم، باب فضل العلم، ۱/۴۷، حدیث:۸۲۔
…… مستدرک، کتاب الطب، باب علیکم بألبان البقر، ۵/۵۷۵، حدیث:۸۲۷۴۔
…… ابو داؤد، کتاب الاشربة، باب مایقول اذا شرب اللبن، ۳/۴۷۶، حدیث:۳۷۳۰۔
…… مراٰۃ المناجیح، ۶/۸۰۔
…… اخلاق النبی و آدابه، شربه اللبن وقوله فیه، ص۱۲۲، رقم:۶۱۴۔
…… بخاری،کتاب الرقاق،باب کیف کان عیش النبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم واصحابه،۴/۲۳۴،حدیث:۶۴۵۲۔
…… دودھ پیتا مدنی منّا، ص۳۵-۳۶۔