دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Gunahon Ki Aadat Kaisay Khatam Ho? | گنا ہوں کی عادت کیسے ختم ہو؟

Tambe ki Zameen

book_icon
گنا ہوں کی عادت کیسے ختم ہو؟

محشر میں زمین تانبے کی ہوگی تو انسان زندہ کیسے رہے گا؟

سُوال: سُنا ہے کہ ’’بروزِ قیامت زمین تانبے کی ہوگی۔‘‘ اس سے کیا مراد ہے؟ اگر زمین تانبے کی ہو تو انسان کھڑا نہیں ہوسکے گا، تانبا تو جلدی گرم ہوجاتا ہے۔
جواب: قیامت  میں زمین تانبے کی ہوگی،( ) یہ بھی ایک قول ہے۔ بہرحال زمین جیسی بھی ہوگی اس پر کھڑے ہوئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوگا، یہ سب اللہ پاک کی قدرت ہے۔ جہنم میں لوگ جلیں گے، جہنم کی آگ تو اتنی خطرناک ہے کہ اگر جہنم کو سوئی کی نوک کے برابر بھی کھول دیا جائے تو دنیا میں جتنی مخلوق ہے وہ سب اس کی تپش سے ہی مرجائے،( ) لیکن جن لوگوں کو  جہنم میں عذاب دیا جائے گاوہ اللہ پاک کی قدرت سے جہنم میں زندہ رہیں گےاور انہیں موت نہیں آئے گی۔( ) یہ باتیں ہمیں معلوم ہیں، اس کے باوجود ہم گناہ کئے جارہے ہیں۔ ”اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ“ اے اللہ! ہمیں  جہنم کی آگ سے بچا۔
قیامت کے دن زمین تانبے کی ہونے کے باوجود اللہ پاک کی قدرت سے لوگ اس پر کھڑے رہیں گےاور زندہ بھی رہیں گے، جسموں سے پسینہ بہہ رہا ہوگا، کسی کا پسینہ ٹخنوں تک، کسی کا گھٹنوں تک،کسی کا کمر تک اور کوئی تو پورا ہی پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا،( ) شدت کی گرمی ہوگی اور سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔( ) پھر یہ میل کون سا ہوگا؟ بہار شریعت( ) میں ہے: اس حدیثِ پاک کے راوی کہتے ہیں کہ” معلوم نہیں، میل سے مراد سُرمہ کی سلائی ہے یا میلِ مُسَافت۔“( ) اگر سَوامیل ہو تب بھی برداشت نہیں ہوگا،کیونکہ اِس وقت جبکہ سورج کی پیٹھ ہماری طرف ہے تو ایسی گرمی ہوتی ہے کہ ہماری چیخیں نکل جاتی ہیں، بلکہ بعض اوقات تو لاشیں بھی گر جاتی ہیں اور  جب سورج ایک میل  پرہوگا، سورج کی پیٹھ نہیں، بلکہ سورج کا اگلا رُخ ہماری طر ف ہوگا تو اس وقت کی گرمی کا عالم کیا ہوگا!! اس وقت  زندہ رہنا ناممکن ہوگا، لیکن یہ اللہ کی قدرت ہوگی کہ سب زندہ رہیں گے۔ اس دن بعض خوش نصیب ایسے بھی ہوں گے جنہیں سورج کی گرمی سے کچھ تکلیف نہیں ہوگی۔( ) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ دعا فرماتے ہیں: 
یا الٰہی گرمیٔ محشر سے جب بھڑکیں بدن
دامنِ محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو (حدائقِ  بخشش)
اس آگ برساتی گرمی میں جس خوش نصیب کو دامنِ محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی ٹھنڈی ہوا کا سہارا مل جائے گا تو سورج کی کیا مجال کہ اُسے آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لے! یہ کرم جن پر ہوگا انہیں گرمی کا پتا بھی نہیں چلے گا۔قیامت کا دن 50 ہزار سال کا ہے،( )لیکن جس مسلمان پر رب کا کرم ہوگا تو اس کے لئے عصر اور مغرب کے درمیان جتنا وقت ہوتا ہے اس کے برابر قیامت کا دن ہوگا( )اور انہیں کسی طرح کی تکلیف بھی نہیں ہوگی۔ جبکہ غیر مسلم سخت اَذِیّت میں ہوں گے اور جو گناہ گار مسلمان ہوں گےوہ اپنے گناہوں کے حساب کی وجہ سے تکلیف میں ہوں گے۔ ہم سب کو اللہ کے کرم سے امید رکھنی چاہیے اور اپنی نیکیوں پر پھولنا نہیں چاہیے۔ قیامت کے دن جس پر اللہ کی رحمت ہوگی وہی بچے گا۔ آیتِ مبارکہ میں ہے: ﴿وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ(۵۹)﴾( ) (ترجمۂ کنز الایمان: اور آج الگ پھٹ جاؤ اے مجرمو!) ۔ حضرتِ سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام  کو حکم ہوگا کہ اپنی اولاد میں سے جنتیوں اور جہنمیوں کو الگ الگ کرو تو ایک ہزار  میں سے 999 مجرموں کی صف میں جائیں گے، جبکہ صرف ایک آدمی جنتیوں کی صف میں جائے گا۔( ) کیسا وقت ہوگا! اس وقت ہمارا کیا بنے گا!!ہم اپنی کیفیات اور اپنے کردار کو بخوبی جانتے ہیں کہ ہم کتنے پانی میں ہیں! ہم کتنی گڑبڑ کرتے ہیں! نمازیں صحیح نہیں پڑھتے، قرآنِ کریم صحیح پڑھنا نہیں آتا۔

روزے کے ضروری مسائل معلوم نہ ہونے کا نقصان

ہم روزے رکھتے ہیں تو صحیح معلومات نہیں ہوتی،کتنے لوگ اپنا روزہ توڑ دیتے ہیں، انہیں پتا ہی نہیں ہوتاکہ فجر کی اذانیں ہورہی ہوتی ہیں اور وہ کھاپی رہے ہوتے ہیں، شہروں میں مساجد دوردور ہوتی ہیں اور بیرونِ ملک میں تو ہوتی نہیں ہیں یا اگر ہوتی ہیں تو چاردیواری میں ہوتی ہیں جہاں کی اذان کا پتا نہیں چلتا۔ پھر یہاں کراچی میں بھی بڑے بڑے پلازےہیں جہاں اذان کی آواز نہیں پہنچ سکتی۔ ویسے بھی اذان کا تعلق نماز سے ہے، نہ کہ  روزے سے۔ روزے کا تعلق وقت سے ہے جب صبح صادق ہوجائے تو روزہ بند کرنا ہوگا، اس کے بعد کھانا پینا نہیں کرسکتے۔ آخر میں پانی پی کر روزہ بند کرنا بالکل ضروری نہیں، یہ سب بے احتیاطیاں معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کھاتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابھی فلاں مسجد کی اذان باقی ہے، اس طرح ان کا بھی روزہ نہیں ہوتا جبکہ اذان صبح صادق کے بعد ہورہی ہو۔ سنّت اذان کا وقت ہی صبح صادق کے بعد ہے،( ) اس سے پہلے سنّت اذان ادانہیں ہوگی۔ اللہ کریم علم دین حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

”فیضانِ نماز کورس“ کرنے کے فوائد

دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں مختلف کورسز کروائے جاتے ہیں جن میں سے ایک ”فیضان نماز کورس“بھی  ہے جو صرف سات دن کا ہوتا ہے، یہ کورس کرلیں گے تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ نماز کیسے پڑھتے ہیں۔ اگر چہ سات دن میں پوری نماز نہیں آئے گی، لیکن نماز کے بہت سارے ایسے مسائل جو آپ کو پہلے پتا نہیں تھے ان کی معلومات حاصل ہوگی اور نماز کی بہت سی غلطیاں دور ہوجائیں گی۔ اللہ پاک کے لئے وقت نکالیں اور اپنی آخرت کی بھلائی کریں۔ ہم دنیا میں بُوائی کررہے ہیں، یہاں جو بوئیں گے قیامت میں اسے کاٹیں گے۔اگر نیکیاں بوئیں گے توآخرت میں اس کا پھل ملے گا اور اگر گناہ بوئیں گے تو  آخرت میں گناہوں کا صلہ ملے گا،اس لئے نیکیاں کمائیں،نمازیں پڑھیں، ماں باپ کی فرماں برداری کریں، رشتے داروں،پڑوسیوں،دوستوں اور عام لوگوں سے بھی حسنِ اخلاق سے پیش آئیں،ہر ایک کے ساتھ حسنِ سُلوک کریں، اڑے ،اوئے ،منہ توڑدوں گا، مجھے جانتا ہے میں کون ہوں! یا ان جیسے جملے کہنے سے بچیں، کیونکہ موت کا تھپڑ پڑے گا تو پتا چل جائے گا کہ آپ کون ہو! موت نے بڑوں بڑوں کوسلادیا،بڑے بڑے پہلوانوں کوچاروں خانے چِت کرکے رکھ دیا۔ موت ہر ایک کو آنی ہے اس لئے پھوں پھاں نہ کریں،”میں میں“ نہ کریں اوراپنے مال یا سرمائے پر نہ اترائیں کہ میری تو پولیس کے ساتھ بڑی جان پہچان ہے،فلاں سیاسی لیڈر کے ساتھ گھر جیسے تعلقات ہیں، فوج کے فلاں اَفسر کو جب گھر بلاؤں، آجاتا ہے۔ میں یوں کردوں گاایسا کردوں گا، ویسا کردوں گا۔ ارے بھائی! آپ کچھ نہیں کرسکتے!! 
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے  وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
ظلم قیامت کا اندھیرا ہے۔( ) مرنے کے بعد آپ کی اپروچ (Approach)، آپ کی Source،آپ کی دولت اوربینک بیلنس کچھ کام نہیں آئے گا۔ اگر میری بات پر یقین نہیں آتا تو مر کر آزما لیں، ورنہ  مرنے سے پہلے ہی سدھر جائیں۔کسی پر ظلم نہ کریں،البتہ مظلوم بننے میں حرج نہیں ہے۔

کیا اب شریف بن کر رہنے کا زمانہ نہیں!!

سُوال: آج کل لوگ کہتے ہیں کہ دب کر اور شریف بن کر رہنے کا زمانہ نہیں ہے“آپ کیا فرماتے ہیں؟( )
جواب: ایسا نہیں ہے، بلکہ شریف بن کررہنے کا زمانہ تو اب ہے، کیونکہ جتنا ظلم اس دَور میں ہے اتنا پہلے نہیں تھا۔ آپ شریف بنیں، کیونکہ مظلوم کی تو قیامت میں چاندی ہے۔( ) قیامت کے دن مظلوم ہیرو  ہوگااور ظالم پھنسا ہوا ہوگا۔ مظلوم کا ہاتھ ظالم کے گریبان پر ہوگا۔ مظلوم قیامت کے دن ظالم کی نیکیاں لے گا،( ) اس لئے ظالم بننے کے مقابلے میں مظلوم بننے میں عافیت ہے۔ ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں کہ ہم ظالم بنیں اور اس سے بھی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم پرکوئی ظلم کرے یا مارے یا ستائے، اللہ پاک ہمیں عافیت عطا فرمائے، کیونکہ  ہم سے ظلم بھی برداشت نہیں ہوسکتا،ہم بے صبری اور گلے شکوے کرنے میں لگ جائیں گے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ جو بندہ مظلوم ہوتا ہے وہ خود ظالم بھی ہوتا ہے کہ اسے کوئی دبا رہاہوتا ہے اور یہ کسی کو دبا رہا ہوتا ہے۔ کسی کی جیب کٹ گئی تو وہ مظلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اس کی جیب میں ایسی رقم ہو جو اس نے کسی کو دھوکا دے کر حاصل کی ہو تو یوں  یہ ظالم بھی ہوگااور مظلوم بھی ہوگا، اس لئے ہمیں بس اللہ پا ک اور اس کے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی فرماں برداری میں زندگی گزارنی ہےاور اس فرماں برداری کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ہمیں ایک دن مرنا پڑے گا،موت ضرور آئے گی، ہم اس سے بچ نہیں سکتے، کیونکہ جو پیدا ہوگیا اسے موت ضرور آئے گی، یہ ایسےہی ہے جیسے کسی نے مچھلی پکڑنے کے لئے ڈور ڈالی اور مچھلی نے کانٹا نگل لیا، اب اس نے ڈور ڈھیلی چھوڑی کہ جتنا اچھل کودکرنا ہے کرلے، پھر جیسے ہی وہ ڈور کھینچے گا مچھلی اس کے پاس چلی جائے گی، ایسے ہی ہم نے پیدا ہوکر موت کا کانٹا نگل لیا ہے، اب جس دن ربِّ کریم کی طرف سے ڈور کھنچے گی تو کہیں بھی نہیں جاسکیں گے،قبر میں ہی جانا ہوگا۔ جب یہ یقینی اور اٹل معاملات ہیں تو ہم ایسی نادانیاں کیوں کریں اور اللہ پاک اور اس کے رسول کی نافرمانیاں کرکے، انہیں ناراض کرکے دنیا سے کیوں جائیں!! ہمیں بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس دنیا سے اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرکے جائیں۔اللہ پاک کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں گے اور گناہوں سے بچیں گے تو ربِّ کریم ضرور کرم فرمائے گا اور ہمیں جنت الفردوس میں داخلہ نصیب کرے گا۔

فوت شدہ مسلمان کو بُرائی کے ساتھ یاد کرنا کیسا؟

سُوال: یہ بات کہاں تک درست ہے کہ فوت شدہ مسلمان کو برائیوں کے ساتھ یاد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اچھائیوں کے ساتھ یاد کرنا چاہیے؟ (نگران شوری کا سُوال)
جواب: حدیثِ پاک میں یہ مضمون موجود ہے کہ مسلمان اپنے مُردوں کو بھلائی کے ساتھ یاد کریں۔( ) بعض لوگ تو مردے کی غیبت تک کردیتے ہیں، حالانکہ مردے کی غیبت زندہ آدمی کی غیبت کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ زندہ آدمی کی غیبت کرنے کی صورت میں اس سے معافی مانگ کر صلح کی جاسکتی ہے، لیکن مردہ دارُ العمل سے دارُ الجزا میں جاچکا ہوتا ہے اور اس سے معافی مانگنا ممکن نہیں ہوتا۔ جو مسلمان فوت ہوجائے اس کے لئے بس دعائے مغفرت کی جائےاور اس کا بُرا تذکرہ نہ کیا جائے۔ رہی بات زندہ انسان کی تو زندہ کی غیبت بھی کیوں کی جائے! اگر نماز میں اس کی کمزوری ہے، سود کھاتا ہے، گالیاں دیتا ہےیا اور کسی گناہ میں ملوث ہے تو یہ بات لوگوں کو بتانے کی کیا ضرورت ہے! اس کام سے کیا حاصل ہوگا!انسان کو چاہیے کہ اپنی فکر کرے۔ اگر ایک انگلی دوسرے کی طرف اٹھاتا ہے تو تین انگلیاں اپنی طرف ہوتی ہیں کہ اپنے آپ کو دیکھ! خود کیسا ہے۔

 …… فتاویٰ رضویہ، ۳۰/۷۱۷۔
 …… معجم اوسط، من اسمه ابراهیم،  ۲/۷۸، حدیث:۲۵۸۳۔
 …… مسلم، کتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها، باب النار يدخلها الجبارون والجنة يدخلها الضعفاء، ص۱۱۶۹، حديث:۷۱۸۱۔
 …… مسلم، کتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها، باب فی صفة یوم القیامة، ص۱۱۷۳، حديث:۷۲۰۶۔
 …… مسلم، کتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها، باب فی صفة یوم القیامة، ص۱۱۷۳، حديث:۷۲۰۶۔
 …… ’’بہار شریعت‘‘  حضرتِ مولانا مُفتی محمّد اَمجَد علی  اَعظمی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی شاندار تصنیف ہے۔ اِس کتاب میں عقائد، طَہارت، عِبادات، مُعامَلات اور روز مرّہ کے عام مسائل شامل ہیں۔ دعوتِ اسلامی کے شعبۂ تصنیف و تالیف ’’اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَۃ‘‘ کے مَدَنی عُلَما  نے سالوں محنت کرکے اِس کی تخریج کی ہے اور مکتبۃ المدینہ نے اِسے بہت خُوبصورت اَنداز میں 6 جلدوں میں شائع کیاہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت)
 …… بہار شریعت، ۱/۱۳۳، حصّہ:۱۔
 …… مصنف عبد الرزاق، کتاب العلم، باب قيام الساعة، ۱۰/۳۳۸، رقم:۲۱۰۱۴۔
 …… پ۲۹، المعارج:۴۔
 …… شعب الایمان، باب فی حشر الناس بعد ما یبعثون  من قبرھم، فصل فی صفة یوم القیامة، ۱/۳۲۵، حدیث:۳۶۲۔ 
 …… پ۲۳، یٰسٓ:۵۹۔
 …… بخاری، کتاب الرقاق، باب قوله  عزوجل: اِنَّ زَلْزَلَةَ  السَّاعَةِ  شَیْ ءٌ عَظِیْمٌ، ۴ /  ۲۵۴ ،  حدیث:۶۵۳۰۔
 …… رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الاذان، مطلب فی اذان الجوق، ۲/۶۲ ماخوذاً۔
 …… مسلم، کتاب البر والصلة، باب تحریم الظلم، ص۱۰۶۹، حدیث:۶۵۷۶۔
 …… یہ سُوال شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے۔(شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت)
 …… مسلم، کتاب البر والصلة، باب تحريم الظلم،   ص۱۰۶۹، حدیث:۶۵۷۹ ماخوذاً۔
 …… مسلم، کتاب البر والصلة، باب تحريم الظلم،   ص۱۰۶۹، حدیث:۶۵۷۹۔
 …… نسائی، کتاب الجنائز، باب النھی عن ذکر الھلکی الا بخیر، ص۳۲۸، حدیث:۱۹۳۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن