30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیتِ مُبَارَکہ
وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا ( پ٢٦،الحجرات: ١٢ )
ترجمۂ کنزالایمان: اورایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مَرے بھائی کا گوشت کھائے ۔
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
میں شبِ مِعْرَاج ایسی قوم کے پاس سے گزرا جو اپنے چہروں اور سینوں کو تانبے کے ناخُنوں سے نوچ رہے تھے ، میں نے پوچھا: اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: یہ لوگوں کا گوشت کھاتے ( یعنی غیبت کرتے ) تھے اور ان کی عِزّت خراب کرتے تھے ۔( [1] )
غیبت کے گُنَاہ میں مبتلا ہونے کے بَعْض اَسْبَاب
( 1 ): غصّہ ( 2 ): بُغْض وکینہ ( 3 ): حَسَد ( 4 ): زِیادہ بولنے کی عادت ( 5 ): ہنسی مذاق کی لَتْ ( ایسا شَخْص دوسروں کو ہنسانے کے لئے لوگوں کی نقلیں اُتار کر بھی بسا اَوْقَات غیبت میں مُبْتَلا ہو جاتا ہے ) ( 6 ): گھریلو ناچاقیاں ( ان حالات میں غیبت سے بچنا قریب بہ ناممکِن ہے ) ( 7 ): گلہ شکوہ کرنے کی عادت ( جہاں کسی کے بارے میں دوسرے سے شِکْوہ شروع کیا کہ شیطان نے بدگمانیوں، عیب دَریوں، غیبتوں، تہمتوں اور چُغْلیوں کا ڈھیر لگوا دیا! ) ( 8 ): بے جا تنقیدی ذِہْن ( تنقیدِ بے جا کا مَرِیض کسی کی براہِ رَاسْت اِصْلاح کرنے کے بجائے عموماً دوسروں کے آگے غیبتیں کرتا پِھرتا ہے کہ وہ یوں کر رہا ہے وغیرہ ) ۔( [2] )
٭ دِینی مشغلوں اور دنیا کے ضروری کاموں سے فراغت کے بعد خَلْوَت یعنی تنہائی اِختیار کیجئے یا صِرْف ایسے سَنْجیدہ اور سُنَّتوں کے پابند اِسْلامی بھائیوں کی صحبت اِخْتِیار کیجئے جن کی باتیں خوفِ خدا وعشقِ مصطفے ٰ عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں اِضَافے کا باعِث بنیں ۔ ٭ ذاتی دوستیوں سے قطعاً اِجْتِنَاب ( یعنی پرہیز ) کیجئے ۔ ٭ زبان کا قُفْلِ مَدِیْنَہ لگائیے کہ سب سے زیادہ غیبت زبان سے کی جاتی ہے لہٰذا اس کو قابو میں رکھنا بَہت ضروری ہے ۔ ٭ غیبت کے ہولناک عَذَابات کا مُطَالعہ کیجئے کہ کسی بھی مرض سے بچنے اور اس کا عِلاج کرنے کے لئے اس کے مُھْلِکَات یعنی تباہ کاریاں جاننا مُفِیْد ہوتا ہے ۔ ٭ اپنے عیبوں کی طرف تَوَجُّہ کیجئے اور انہیں دُور کرنے میں لگ جائیے ۔ ٭ وظیفہ: کسی مَجْلِس میں بیٹھتے اور اُٹھتے وقت یہ پڑھئے : ”بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم وَ صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد“ اس کی بَرَکت سے اللہ پاک ایک فرشتہ مُقَرَّر فرما دے گا جو آپ کو دوسروں کی اورآپ کے اُٹھنے کے بعد لوگوں کو آپ کی غیبت سے باز رکھے گا ۔( [3] )
مَدَنی مشورہ: غیبت کے عَذَابات اور اس کے مُتَعَلِّق تفصیلی اَحْکَام جاننے کے لئے شیخِ طریقت، اَمِیْرِ اہلسنت حضرت علَّامہ ابوبِلال محمد اِلیاس عطَّار قادِری دَامَتْ بَـرَکَاتُہُمُ الْعَالِـیَہ کی مایہ ناز کِتاب ”غیبت کی تباہ کاریاں“ کا مُطَالعہ کیجئے ۔
حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا
مُرْغ کی بانگ سُن کر پڑھنے کی دُعا
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُـکَ مِنْ فَضْلِکَ
ترجمہ: یا اِلٰہی! میں تجھ سے تیرے فَضْل کا سُوال کرتا ہوں ۔( [4] )
مُرْغ رَحْمَت کا فرشتہ دیکھ کر بولتا ہے ، اس وَقْت کی دُعا پر فِرِشتے کے اٰمین کہنے کی اُمید ہے ۔( [5] )
٭ …٭ …٭ …٭ …٭ …٭
[1] ابو داود ، كتاب الادب ، باب فى الغيبة ، ص٧٦٥ ، حديث: ٤٨٧٨.
[2] غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۲۴۸ ، ملتقطًا.
[3] القول البديع ، الباب الثانى فى ثواب الصلاة على رسول الله ، ص١٣٨.
[4] بخارى ، كتاب بدء الخلق ، ص٨٤٢ ، حديث: ٣٣٠٣ ، ماخوذاً ومدنی پنج سورہ ، ص۲۱۰.
[5] مراٰۃ المناجیح ، خاص وقتوں کی دُعائیں ، ۴ / ۳۲.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع