30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقت ضائع کرتا رہتا، اپنے انہی کرتوتوں کی وجہ سے اچھی صحبت کے بجائے بری صحبت میں گرفتار تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے پہل تو میں پریشان نظری کا شکار رہنے لگا اور پھر رفتہ رفتہ بد نگاہی کی آفت میں مبتلا ہوکر گناہوں کے راستے پر اتنا آگے نکل گیا کہ غیر محرم عورتوں سے ناجائز تعلقات قائم کرنے میں شرم وحیا بالکل آڑے نہ آتی۔ کبھی کبھار تنہائی میں یہ احساس اندر ہی اندر مجھے کھائے جاتا تھا کہ میں جو کچھ کررہا ہوں وہ غلط ہے مگر جب دوستوں کے جھرمٹ میں ہوتا تو اس احساسِ گناہ پر اوس پڑ جاتی اور میں حسب معمول گناہوں میں مبتلا ہوجاتا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بھلا کرے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا کہ جنہوں نے گناہوں کے سمندر میں ڈوبنے والے مجھ جیسے نجانے کتنے ہی مسلمانوں کو ہلاکت و بربادی سے بچاکر صلوٰۃ و سنّت پر عمل کرنے والا بنا دیا۔ میرے ساتھ کچھ اس طرح کا واقعہ پیش آیا کہ خوش قسمتی سے ایک دن میں نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ایک کیسٹ بیان بنام ’’لاشوں کا انبار‘‘ خریدا اور گھر جاکر تنہائی میں اس بیان کو توجہ سے سننے لگا، دل دہلا دینے والے اس رقت انگیز بیان میں گناہوں کے سبب قبر و آخرت میں ہونے والے عذابات کا تذکرہ سن کر مجھ پرسکتہ طاری ہو گیا، میں نے گڑگڑا کرروتے ہوئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا پختہ عہد کرلیا نیز توبہ پر استقامت پانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے منسلک ہوگیا، تادمِ تحریر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں زمانے کے ولیٔ کامل شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہو کر نماز پنجگانہ کا پابند، نگاہوں کی حفاظت کرنے والا اور دوسروں کونیکی کی دعوت دینے والا بن چکا ہوں ۔
اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(6)تلاوت کاذوق کیسے ملا؟
چکوال (پنجاب، پاکستان) سے چالیس میل دور قصبہ دولہہ کے رہائشی ایک اسلامی بھائی اپنی زندگی میں آنے والے مدنی انقلاب کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں ۔ میں نت نئے فیشن کا متوالا، گانے باجوں کا شوقین، ماں باپ کو ستانے والا انتہائی شریر نوجوان تھا۔ B.A تک دنیاوی تعلیم تو حاصل کی مگر دینی معلومات میں بالکل صفر تھا اسی وجہ سے نماز روزوں کی ادائیگی کی طرف بالکل توجہ نہ تھی، غالباً یہ ۱۴۲۴ ھ بمطابق 2003 ء کی بات ہے ان دنوں میں کاروبار کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی گیا ہوا تھا وہیں میری ملاقات دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوئی جو بڑی محبت سے ملے، پردیس میں ایک اجنبی کی اپنے ساتھ اسقدر اپنائیت دیکھ کر میں متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا کچھ عرصے بعد وہی اسلامی بھائی دوبارہ ملے اور اب کی بار انفرادی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے مجھے اپنے گھر میں ہونے والے کیسٹ اجتماع کی دعوت دی، میں انکار نہ کرسکا اور وقتِ مقرر پر ان کے ہاں پہنچ گیا، وہاں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابو بلال محمد الیاس عطّارقادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا پُرتاثیر بیان سن کر میرے دل کی دنیا زیر و زبر ہوگئی، مجھے اپنے طرز زندگی پر ندامت ہونے لگی، میں بے ساختہ کھڑا ہوا اور شرکائے اجتماع کے درمیان بلند آواز میں اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ’’ میں عمامہ شریف کا تاج سجانا چاہتا ہوں اور داڑھی شریف رکھنے کی بھی نیت کرتا ہوں ‘‘ میرے یہ جذبات جان کر وہاں موجود کئی اسلامی بھائیوں کے چہرے خوشی سے کھل اُٹھے، ایک اسلامی بھائی نے مجھے اپنی طرف سے ٹوپی اور عمامہ شریف تحفۃً پیش کرتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ میرے سر پرسبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجا دیا۔ سچ پوچھئے تو ان اسلامی بھائیوں نے اپنی محبت و شفقت سے میرا دل جیت لیا، بس پھر کیا تھا وقتاً فوقتاً سنّتوں بھرے اجتماعات میں میری شرکت ہوتی رہی، اس دوران میں نے داڑھی شریف سجالی، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مرید ہوگیا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ پنج وقتہ نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ تقریباً 16 سال کی قضا نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کرنا شروع کر دیا ہے۔ نیز مدنی ماحول کی برکت سے مجھے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ مدنی انعامات پر عمل کاجذبہ نصیب ہوا اور خصوصاًایک مدنی انعام (کہ کیاآج آپ نے کنز الایمان سے کم از کم تین آیات (بمع ترجمہ وتفسیر) تلاوت کرنے یاسننے کی سعادت حاصل کی) پرعمل کرنا شروع کیا اور روزانہ ایک رکوع ترجمۂ قراٰن کنز الایمان اور اس پر تفسیر ی حاشیہ خزائن العرفان پڑھنے لگا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر 2 بار پورا قراٰنِ پاک بمع ترجمہ و تفسیرمکمل کر چکاہوں اوراب تیسری بار بھی 22 پارے مکمل کر چکا ہوں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے کثرت کے ساتھ تلاوتِ قرآن کریم کی سعادت عطا فرمائے اور آخری دم تک مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ رکھے۔ آمین
’’کنز الایمان‘‘ یا خدا میں کاش! روزانہ پڑھوں
پڑھ کر تفسیر اِس کی پھر اُس پر عمل کرتا رہوں
اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(7)با بِ رحمت کھلا
باب المدینہ (کراچی) کے علاقے کھوکھرا پار ملیر توسیعی کالونیکے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے : مجھ پر اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کا بڑا فضل و کرم تھا کیونکہ مجھے دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر تھا اور میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابو بلال محمد الیاس عطّارقادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مرید بھی تھا یہی وجہ تھی کہ میں نماز روزوں کا پابند ،باعمامہ ،باریش، سفید لباس میں ملبوس، سنّتوں سے نہ صرف محبت کرنے والا بلکہ سنّتیں اپنانے والا معاشرے کا ایک باکردار مسلمان بن چکاتھا۔ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت کیا کرتا تھا اور صرف یہی نہیں بلکہ فیضانِ سنّت سے درس دینا اور سننا میرے روز مرّہ کے معمولات کا ایک حصہ تھا، علاقے میں کتنے ہی لوگ تھے کہ جومیری انفرادی کوشش سے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری پیاری سنّتوں کی چلتی پھرتی تصویر بن چکے تھے، لیکن اس کے باوجودجب میں اپنے بڑے بھائی کو دیکھتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع