دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Gulukar kaisay Sudhra | گلوکار کیسے سدھرا؟

book_icon
گلوکار کیسے سدھرا؟

آتش! میں  نہ جلوں  گا فردوس میں  رہوں  گا

جائوں  گا خلد کہہ کر عطار رہنما ہے

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(2)کرکٹ کا شوقین

        مرکز الاولیاء (لاہور) کے علاقے گرین ٹاؤن سیکٹرسی بلاک 2 کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے: بچپن ہی سے اچھا کرکٹر بننے کا خواب میری آنکھوں  میں  سمایا ہوا تھا۔ اس خواب کی عملی تعبیر کے لئے میں  نے روزانہ اپنے دن کا اچھا خاصا حصہ کرکٹ کھیلنے کے لئے وقف کر دیا اور بقیہ اوقات گانے باجے سننے اور فلمیں  ڈرامے دیکھنے میں  صرف ہو جاتا، صد ہزار افسوس! کہ دن بھر ان فضول کاموں  میں  مشغول رہنے کی وجہ سے میرے پاس تھوڑا سا بھی وقت ایسا نہ بچتا کہ جسے میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اور رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی فرمانبرداری والے کاموں  میں  گزار کر اپنی آخرت کی بہتری کاسامان کرتا، زندگی کے شب و روز یونہی غفلت میں  گزر رہے تھے کہ ایک دن میری ملاقات ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ہوئی، انہوں  نے محبت بھرے انداز سے مصافحہ کیا اور اس طرح گفتگو کرنے لگے جیسے مجھے برسوں  سے جانتے ہوں ، دورانِ گفتگو انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے فکر آخرت کا ذہن دیا، اس نوجوان مبلغ دعوتِ اسلامی کے چہرے کی نورانیت، حیا سے جھکی نگاہیں ، بدن پر سنّت کے مطابق سفید لباس، سر پر سبز عمامہ شریف کا تاج، سنّت کے مطابق زلفیں ، گفتگو کا باادب انداز اور ملنساری دیکھ کر دل کو روحانی سکون ملا، ملاقات کے اختتام پر انہوں  نے مجھے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیان کی کیسٹ ’’شیطان کے چار گدھے‘‘ تحفے میں  دی ،گھر جاکر میں  نے وہ کیسٹ دوسری کیسٹوں  کے ساتھ رکھ دی، ایک روز اپنے کمرے میں  بیٹھا ہوا تھا، اچانک مجھے اس کیسٹ کا خیال آیا جو چند دن پہلے اس اسلامی بھائی نے دی تھی، میں  نے وہ کیسٹ اٹھائی اور سنناشروع کر دی، بیان اس قدر پُرتاثیر اور مسحور کُن تھا کہ کچھ ہی دیر میں  میں  اپنے گردو پیش سے بے خبر ہوگیا، میں  نے خود کو بیان میں  موجود اس حدیث پاک کا مصداق پایا جس میں  رسولِ پاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے برے بندے کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’بُرا بندہ وہ ہے جو تکبُّر کرے اور اﷲ عَزَّوَجَلَّ  کو بھول جائے،بُرا بندہ وہ ہے جو ظلم و ستم کرے اور خدائے جَباّر و قَہاّر کو بھول جائے، بُرا بندہ وہ ہے جو کھیل کود میں  پھنسا رہے اور قبروں  میں  جا کر گلنے سڑنے کو بھول جائے، بُرا بندہ وہ ہے جو تکبُّر کرے اور حد سے بڑھے اور اپنی ابتداء و انتِہاء کو بھول جائے،بُرا بندہ وہ ہے جو دنیا کو دین کے ذَرِ یْعے دھوکا دے، بُرا بندہ وہ ہے جو دین کو شُبُہات کے ذَرِیْعے بگاڑ دے، بُرا بندہ وہ ہے جسے لالچ کھینچتا پھرے، بُرا بندہ وہ ہے جسے نفسانی خواہشات سیدھے راستے سے بہکادیں ،بُرا بندہ وہ ہے جسے اس کی خواہِشات ذَلیل کردیں  ۔‘‘

(ترمذی ج ۴ ص ۲۰۳ حدیث ۲۴۵۶ دارالفکر بیروت)

        مجھے اپنی زندگی کے گزرے ہوئے ان لمحات پر ندامت ہونے لگی جو عبادتِ الہٰی سے خالی اور گناہوں  سے پُر تھے ،ایک ولیٔ کامل کے پر تاثیربیان کے ذریعے اپنا احتساب کرتے ہوئے بے ساختہ میری آنکھوں  سے آنسو بہہ نکلے، میں  نے صدقِ دل سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے حضور اپنے گناہوں  کی معافی مانگی اور آئندہ گناہوں  سے باز رہنے کے پختہ ارادہ کے ساتھ گانوں  کی تمام کیسٹیں  توڑ ڈالیں  اور نماز روزہ کا اہتمام شروع کر دیا کبھی کبھار مجھے اپنے اس اجنبی محسن کی یاد آیا کرتی تھی جس نے بیان کی کیسٹ دے کر مجھ پر احسانِ عظیم کیا تھا، کافی عرصے بعد ایک مرتبہ میں  کہیں  جارہا تھا کہ اچانک میری نگاہ ایک باعمامہ اسلامی بھائی پر پڑی جو حیا سے نگاہیں  جھکائے ایک طرف بڑھے چلے جا رہے تھے، میری خوشی کی انتہا نہ رہی، میں  بے ساختہ ان کی جانب لپکا اور قریب جاکر باآوازِ بلند انہیں  سلام کیا، یہ وہ اسلامی بھائی نہیں  تھے جن سے میں  اس دن ملا تھا، اس کے باوجود انہوں  نے سلام کا جواب دیتے ہوئے خندہ پیشانی کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کیا اور میری طرف سوالیہ نظروں  سے دیکھنے لگے اس سے پہلے کہ وہ مجھ سے کچھ پوچھتے میں  نے اپنی زندگی میں  آنے والے مدنی انقلاب کی داستان اوّل تا آخر بیان کرنے کے بعد ان کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کر دیاکہ میں  بھی اسی مردِ قلندر کے دامن کرم سے وابستہ ہونا چاہتا ہوں  جس کے دامن سے میرے وہ محسن اور غالباً آپ بھی وابستہ ہیں ، میرے منہ سے یہ بات سن کر ان کے چہرہ پر مسکراہٹ کھیلنے لگی پھر انہوں  نے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتماع میں  پابندی سے شرکت کرنے کی تاکید کی، میں  سمجھ گیا کہ دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہونے اور نیکیوں  پر استقامت پانے کا ذریعہ ہفتہ وار اجتماع میں  شرکت کرنا ہے لہٰذا میں  ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتماع میں  شرکت کرنے لگا۔ رفتہ رفتہ میرا چہرہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّت (داڑھی شریف) سے سج گیا، میں  نے عمامہ شریف کا تاج اور سنّت کے مطابق سفید لباس بھی اپنا لیا اور یوں  دیکھتے ہی دیکھتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  مجھ جیسا گناہگار انسان ایک اسلامی بھائی کی تھوڑی سی توجہ اور انفرادی کوشش کی برکت سے تھوڑے ہی عرصے میں  سنّتوں  کے سانچے میں  ڈھل گیا۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ  کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3)پُرتاثیر الفاظ دل میں اتر گئے

        باب المدینہ (کراچی) کے علاقے گلستانِ جوہربلاک 7 کے رہائشی  اسلامی بھائی اپنی زندگی میں  آنے والی بہار کا تذکرہ کچھ یوں  کرتے ہیں : میں  اپنی زندگی کے قیمتی اوقات فضول کاموں  میں  برباد کررہا تھا، فلمیں  ڈرامے، گانے باجے دیکھنا سننا میرے روز مرہ کے معمولات کا حصہ تھا، برے دوستوں  کی صحبت نے میرے اخلاق کو دیمک کی طرح چاٹ لیا تھا، چھوٹے بڑے کا لحاظ کئے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن