30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فیضان سنت کی مقبولیت
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ! فیضان سنت دنیا بھر کی مقبول ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کتاب کو پڑھ سن کر اب تک لاکھوں افراد کو توبہ کی توفیق نصیب ہوچکی ہے اور اس کی وجہ سے اسلام لانے والوں کی بہاریں بھی موجود ہیں۔ فیضان سنت کا پہلا ایڈیشن 25 صفر المظفر 1409 ہجری مطابق 1988 عیسوی میں شائع ہوا ۔ فیضان سنت کا عربی، انگریزی، ہندی، گجراتی، سندھی، بنگالی وغیرہ بڑی زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ ستمبر 2006 تک اس کے درجنوں ایڈیشن لاکھوں کی تعدادمیں چھپے، لیکن اس کا جدید ایڈیشن (جلد اول) تخریج کے ساتھ پہلی بار رمضان المبارک 1427 ہجری مطابق اکتوبر 2006 کو چھپا، جو صفر المظفر 1439 ہجری مطابق نومبر 2017 تک 2 لاکھ 78 ہزار کی تعداد میں چھپ چکا ہے۔یعنی فیضان سنت اوسطاًروزانہ 69 ماہانہ 2074 جبکہ سالانہ 24895کی تعداد میں چھپی۔ جو یقیناً اس کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی طرح فیضان سنت جلد دوم کے دو ابواب غیبت کی تباہ کاریاں اور نیکی کی دعوت بھی خاصی مقبولیت اور پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔دنیا بھر میں کھپت پوری کرنے کے لئے تقریبا سارا سال ہی فیضان سنت کی چھپائی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جیّد علمائے کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہم نے فیضان سنت پر تقریظ بھی تحریر فرمائیں اور تأثرات بھی عطا فرمائے ہیں۔ آئیے! مختصرا سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ
فیضان سنت کے متعلق علما کے تأثرات
(1)خواجۂ علم وفن، استاذالعلماء والمشائخ، جامع معقول ومنقول حضرت علامہ مولاناخواجہ مظفر حسین صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: دعوت اسلامی کی مجلس رابطہ بالعلماءوالمشائخ کےنگران نے جب فیضان سنت جلد اول (1427ھ) کاجدید ایڈیشن بغرض مطالعہ وتقریظ حاضر کیا تو میرےدل کی کلیاں کھل اٹھیں اور قلم برداشتہ یہ تحریر حاضر کی۔ زبان وبیان کی روانی اور طرز تحریر کی شیرینی کےساتھ جب یہ کتاب سامنے آئی تو لوگ اسےبرستی آنکھوں اورترستے دلوں کےساتھ پڑھنے اور اس پر عمل کرنےلگے۔ بندہ ٔ ناچیز خود بھی اس کتاب سےاتنا متأثرہوا کہ جب اس کاپہلا ایڈیشن مجھے ملا تو باوضو بھیگی آنکھوں سےرحل پر رکھ کر پڑھتارہااور باربار پڑھتارہا۔ نیز اس کتاب کی ایک خاص اوراچھوتی خوبی یہ ہےکہ اس میں جگہ بجگہ تبلیغ قرآن سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوت اسلامی کےسنتوں کی تربیت کے قافلوں کی ایمان افروز بہاریں اپنی خوشبوئیں لٹارہی ہیں۔ میر ی معلومات کےمطابق کثیر الاشاعت ہونےکے اعتبارسے یہ پہلی اردو کتاب ہے جو پاکستان میں چھپی اور پھردیکھتے ہی دیکھتے دنیاکےکئی ممالک میں پہنچ گئی۔ میری اپیل ہےکہ لوگ اسےخرید کر اپنےگھر کےہر طاق پر سجائےرکھیں تاکہ جہاں سےجی چاہے اسے حاصل کرکے پڑھتے رہیں۔ دوستوں کو بطور تحفہ خرید کر پیش کریں۔ بہن، بیٹی کی شادی کے موقع پر بطور جہیز اس کتاب کو عنایت کریں۔ بالخصوص اہل ثروت اس کتاب کو خرید کر مساجد ،مدارس اور خانقاہوں میں وقف کریں۔تمام مبلغین ومبلغات دعوت اسلامی اور عوام وخواص بھی اس کا درس گھر گھر ،مسجد مسجد ،دکان دکان، کارخانوں ،بازاروں اور چوکوں پر جاری کریں۔
(2)شرف ملت حضرت مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: امیر دعوت اسلامی حضرت مولانا علامہ محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور دعوت اسلامی کے مبلغین کی مساعیٔ جمیلہ سے لاکھوں افراد نہ صرف نمازی بن گئے ہیں بلکہ سرکار دو عالم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی سنتوں پر عمل پیرا ہوگئے ہیں، اس کامیابی میں جہاں حضرت امیر دعوت اسلامی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شب وروز کوششوں اور ان کےبیانات کادخل ہے وہاں فیضان سنت کا بھی بڑاعمل دخل ہے،فیضان سنت فقیر کےاندازے کےمطابق پاکستان میں سب سے زیادہ شائع ہونےوالی کتاب ہے۔ اس کی زبان عام فہم او اندازناصحانہ اور مبلغانہ ہے۔
(3)محسن دعوت اسلامی، شیخ الحدیث، حضرت علامہ مولانامفتی محمد اسمٰعیل قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: حضرت نےاس کتاب میں وہ پیش قیمت مواد جمع کیا ہے جو سینکڑوں کتابوں کےمطالعےکےبعد ہی حاصل ہوسکتاہے، یہ کتاب بیک وقت مسائل شرعیہ کی نشاندہی کےساتھ ساتھ تصوف وحکمت کےلئے بھی مفید ہے۔ اَللّٰہُمَّ زِدْ فَزِدْ ۔ درجنوں موضوعات پر پیش کردہ آیات قرانی، احادیث نبوی واقوال اکابرین کےساتھ ساتھ دلچسپ حکایات نےاس کتاب کےحسن میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ احادیث وروایات اورفقہی مسائل کےحوالہ جات کی تخریج نےاس کتاب کو علما کےلئے بھی مفید تر بنادیا ہے۔ اس بات سےبہت خوشی ہوئی کہ حضرت نےمتعدد مقامات پر اکابرین اہل سنت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہم کاذکر خیربھی کیا ہے، جس سےان کی اپنے علماء اکابرین سےوالہانہ محبت ظاہرہوتی ہے۔ اللہ پاک اس کتاب کو اپنی بارگاہ میں قبولیت سےسرفراز فرمائےاور ہر مسلمان کو اس کامطالعہ کرنے اور حَتَّی الْوُسْع اس سے درس دینےکی توفیق دے۔
(4)شارِحِ بخاری حضرت علّامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے شہزادے حضرت علّامہ مولانا محمد محبّ الحق امجدی فرماتے ہیں: (ایک مرتبہ)والدِ گِرامی کولمبو سفر سے واپس آئے تو کسی عقیدت مند نے انہیں فیضان سنت تحفہ میں پیش کی تھی۔ جب غریب خانہ پر تشریف لائے تو فیضان سنت بھی ان کے پاس تھی۔ میں نے پہلی فرصت میں اس کا مطالعہ شروع کر دیا۔ جوں جوں مطالعہ کرتا گیا دل میں یہ بات اترتی گئی کہ یہ یقیناً مقبول بارگاہ کتاب ہے اور یقیناً اسے سچے عاشق رسول نے لکھا ہے۔ احقر نے فیصلہ کیا کہ اس کتاب کو تنہا نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ مسجد میں رکھ دیں اور امام صاحب سے گزارش کریں کہ آپ بعد نماز عصر اس کو پڑھیں (درس دیں) تاکہ سب لوگ فائدہ اٹھائیں۔
ہے تجھ سے دعا ربِّ رَحمت،مقبول ہو فیضانِ سنّت
گھر گھر مسجِدمسجِد پڑھ کر اسلامی بھائی سناتا رہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک بہت پیاری بہار آپ کے گوش گزار کرتا ہوں۔ چنانچہ
غوث اعظم کے ہاتھ میں فیضان سنت
ضلع رحیم یار خان (پنجاب پاکستان) کے ایک عالِم صاحب کی حلفیہ تحریر کا لُبِّ لُباب ہے کہ یہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کو پسند کرتے تھے مگر ذہن میں چند وَسوسے تھےمَثَلاً: (1)دعوتِ اسلامی کے مُبلِّغِین فیضانِ سنّت سے ہی کیوں دَرس دیتے ہیں؟ (2)امیرِاَہل سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا’’اجتماعی بیعت‘‘ کرانا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ (3)امیرِاَہل سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی موجودگی میں بیعت کا اعلان و ترغیب کیوں دی جاتی ہے؟ (4)عمامہ شریف سبز رنگ کا ہی کیوں؟ ایک رات جب یہ سوئے تو خواب دیکھا کہ ایک بس کھڑی ہے جس میں سبز عمامے والے سُوار ہیں۔ ایک باعمامہ اسلامی بھائی نے انہیں بغداد شریف میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔ یہ بھی بس میں سُوار ہو گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بغداد شریف آگیا اور سب غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے مزار ِپُر انوار کے سامنے جا پہنچے۔ قریب ہی ایک وسیع میدان میں بہت بڑااجتماع جاری تھا۔ ہر طرف سبز عماموں کی بہار تھی۔ یہ بھی اجتماع گاہ میں جاکربیٹھ گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ روضۂ پاک کے ساتھ تین منبر رکھے ہیں۔ ایک پر غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جلوہ فرماہیں اور دوسرے پر امیرِ اَہل سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور ان کے برابر والے منبر پر جو شخصیت جلوہ فرما تھیں یہ انہیں پہچان نہ سکے۔ حیرت انگیز طور پَر ان کی تَشَفّی کا سامان یوں ہوا کہ تینوں بزرگوں کے سروں پرسبز عمامہ شریف کا تاج سجا ہوا تھا اور غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے دستِ مبارک میں فیضان سنّت تھی اور آپ بیان فرما رہے تھے۔ بیان کے اختتام پر اجتماعی بیعت کیلئے غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی موجودَگی میں ترغیب پَر مبنی اعلان ہوا۔ پھر حضورِ غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے ایک ’’سنہری رَسّی‘‘ پھینکی جو حَدِّ نگاہ تک جاپہنچی، اُس رَسی کو تمام شرکا سمیت انہوں نے بھی تھام رکھا تھا۔ جن الفاظ کے ساتھ امیرِ اَہل سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بیعت کے کلمات ادا فرماتے ہیں کم و بیش انہی الفاظ کے ساتھ غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے بیعت کروائی، جب ان کی آنکھ کھلی اس وقت اذانِ فجر ہو رہی تھی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ! تمام وَسوسوں کی کاٹ ہو گئی۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! نیت کرلیجئے کہ روزانہ دو درس والے مدنی انعام پر عمل کی نیت کرتے ہوئے مسجدمیں یا چوک پر نیز اپنے گھر میں بھی درس فیضان سنت کی ترکیب بنائیں گے۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ ۔ آئیے! بیان کا خلاصہ سماعت کرتے ہیں۔ چنانچہ
*درس نیکی کی دعوت کا بہترین ذریعہ ہے *مسجد میں درس دینا مسجد کی تعظیم کی ایک صورت ہے *مسجد میں ذکر کے حلقے لگانے والوں پر اللہ پاک فخر فرماتا ہے *اپنی اصلاح کے ساتھ اہل خانہ کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے *گھر درس گھر میں مدنی ماحول بنانے کا بہترین ذریعہ ہے *بازار میں ذکر کرنے والے کا ہر بال قیامت میں نور ہوگا *چوک درس سلام عام کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع