30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4)اِحتِرام مسلم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَا نُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! جب کبھی داخلِ مسجد ہوں یاد آنے پر اعتکاف کی نیت کر لیا کریں ، کہ جب تک مسجد میں رہیں گے اعتکاف کا ثواب ملتا رہے گا ۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ مسجد کے اندر کھانے ، پینے ، سَحَری ، افطاری کرنے یہاں تک کہ آب زم زم یا دم کیا ہوا پانی پینے کی بھی شرعا اجازت نہیں ہے ۔ لیکن اگر اعتکاف کی نیت ہوگی تو یہ ساری چیزیں بھی ضمنا جائز ہوجائیں گی ۔ لیکن اعتکاف کی نیت صرف کھانے ، پینے یا سونے کے لئے نہ کی جائے بلکہ رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لئے کی جائے ۔
دُرُود شریف کی فضیلت
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سےروایت ہےکہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ پاک کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے دو بندے جب آپس میں سلام و مصافحہ کریں اور نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم (یعنی مجھ) پر درود پڑھیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔ (1)
مُژدہ باد اے عاصِیُو! شافع شہِ ابرار ہے
تَہْنِیَت اے مجرمو ! ذاتِ خدا غَفَّار ہے (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
فرمان مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: نِیّۃُ الْمُؤمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ ۔ یعنی مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ۔ (3)
1 اہم نکتہ:جتنی اچھی نیتیں زیادہ اتنا ثواب بھی زیادہ ۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! آئیے ! اللہ پاک کی رِضا پانے اور ثواب کمانے کے لئے بیان سننے سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرلیتے ہیں ۔
بیان سننے کی نیتیں
*…نگاہیں نیچی کئے خوب کان لگا کر بیان سنوں گا*…ٹیک لگا کر بیٹھنے کے بجائے عِلْمِ دین کی تعظیم کی خاطِر جہاں تک ہو سکا دو زانو بیٹھوں گا*…ضَرورَتاً سِمَٹ سَرَک کر دوسرے کے لئے جگہ کشادہ کروں گا*…دَھکَّا وغیرہ لگا تو صبرکروں گا*… گھورنے،جِھڑکنے اوراُلجھنے سے بچوں گا*…’’ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ ‘‘’’ اُذْکُرُوا اللّٰـہ ‘‘’’ تُوبُوْا اِلَی اللّٰـہ ‘‘وغیرہ سُن کر ثواب کمانے اور صدا لگانے والوں کی دل جوئی کے لئے بلند آواز سے جواب دوں گا *… بیان کے بعد خود آگے بڑھ کر سلام و مُصَافَحہ اور اِنْفرادی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پانچ دینار واپس کردئیے
حضر تِ سیِّدُنا محمد بن مُنکَدِر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ جلیل القدر بزرگ تھے، دکانداری کیا کرتے تھے ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کے پاس کئی قسم کے کپڑے ہوتے تھے کسی کی قیمت دس دینارتو کسی کی پانچ دینار۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کی عدم موجودگی میں آپ کے شاگرد نے پانچ دینار قیمت والا کپڑا دس دینار میں ایک اَعرابی (یعنی دیہاتی)کو فروخت کردیا۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ تشریف لائے اور اِس بات کا پتا چلا توسارا دن اَعرابی کو تلاش کرتے رہے۔ آخر جب وہ ملا تو فرمایا: وہ کپڑا پانچ دینار سے زیادہ قیمت کا نہیں تھا۔ اعرابی نے کہا: ہوسکتا ہے کہ میں نے بخوشی وہ کپڑا دس دینار سے خریدا ہو۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے فرمایا: جو چیزمیں اپنے لیے پسند نہیں کرتا دوسرے کسی مسلمان کے لئے بھی پسند نہیں کرتا،اس لئے یا تو بیع فَسْخ کرلو (یعنی کپڑا واپس کردو اور ساری قیمت لے لو)یا پانچ دینار واپس لے لو !یا میرے ساتھ آؤتا کہ دس دینار کی قیمت کا کپڑا دے دوں۔ اَعرابی نے پانچ دینار واپس لے لئے پھر کسی سے دریافت کیا :یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ محمد بن مُنکَدِرہیں تو کہنے لگا : سُبْحٰن اﷲ !یہ وہ ہستی ہیں کہ جب بارش نہیں ہوتی توہم میدان میں جا کر اِن کا نام لیتے ہیں تو پانی برسنے لگتا ہے۔ (4)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے !ہمارے بزرگان دین میں احترام مسلم کا کیسا جذبہ تھا ، ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کی ذات سے کسی مسلمان کو تکلیف نہ ہو اور کبھی انجانے میں کسی کا نقصان ہوجاتا تو فوراً اس کی تلافی کرتے ، جیسا کہ مذکورہ واقعے میں حضرتِ سیِّدُنا مُنْکَدِر رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ خادم نے پانچ دینار والا کپڑا دس دینار میں فروخت کردیا تو بے چین ہوگئے اور اُس خریدنے والے کو تلاش کرکے اُس کے پانچ دینار واپس لوٹادیے، اے کاش! ہمارے اندر بھی احترام مسلم کا جذبہ پیدا ہوجائے ، ہماری ذات سے کسی مسلمان کا تقدس پامال نہ ہو ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ! شیخ طریقت امیر اہل سنت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اُمت مسلمہ کی فکر رکھتے ہیں ، آپ نے جہاں معاشرے کی دیگر برائیوں کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے ہیں وہاں احترام مسلم کو فروغ دینے کی بھی کوششیں کی ہیں ،آپ اس چیز کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول میں چاہے بیانات ہوں یا مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کوئی کتاب سب میں ’’پیارے پیارے اسلامی بھائیو‘‘ کہہ کر لوگوں سے خطاب ہوتا ہے ، سُبحٰنَ اللہ ! اِس جملے میں جہاں ایک مسلمان کے ساتھ دینی بھائی چارے کے عظیم رشتے کا ذکر ہے وہاں اپنے مسلمان بھائی سے محبت کا بھی اظہار ہے ۔ اتنا ہی نہیں امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے بیانات، مدنی مذاکروں اور اپنی تحریرکتابوں میں بھی جا بجا احترام مسلم کی ترغیب دلاتے رہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ نے آسانی سے نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کے طریقوں پر مشتمل شریعت و طریقت کا جامع مجموعہ بنام ’’مدنی انعامات‘‘ میں بھی ’’اِحترام مسلم ‘‘ کا مدنی انعام شامل فرمایا ہے ۔
چنانچہ اسلامی بھائیوں کو عطا کردہ 72مدنی انعامات میں مدنی انعام نمبر 7میں ارشاد فرماتے ہیں : آج آپ نے (گھر میں اور باہر بھی )ہر چھوٹے بڑے حتی کہ والدہ (اور اگر ہیں تو اپنے بچوں اور ان کی امی)کو بھی تُو کہہ کر مخاطب کیا یا آپ کہہ کر ؟نیز ہر ایک سے دوران گفتگو ہیں کہہ کر بات کی یا جی کہہ کر ؟ (آپ کہنا ، جی کہنا درست جواب ہے )۔ اس کے علاوہ مدنی انعام نمبر 34میں فرماتے ہیں : آج آپ نے دوسرے کی بات اطمینان سے سننے کے بجائے اس کی بات کاٹ کر کہیں اپنی بات تو شروع نہیں کردی ؟ نیز بات سمجھ جانے کے باوجود بے ساختہ :ہیں ؟ جی ؟ یا کیا ؟ بول کر یا ابرو یا چہرے کے اشارے سے دوسروں کو خوامخواہ اپنی بات دہرانے کی زحمت تو نہیں دی ؟ اسی طرح مدنی انعام نمبر 48 میں فرماتے ہیں : کیا آج آپ نے (گھر میں اور باہر) مذاق ، مسخری ، طنز ، دل آزاری اور قہقہہ لگانے (یعنی کھل کھلا کر ہنسنے) سے بچنے کی کوشش کی ؟ (یاد رکھئے ! کسی مسلمان کا دل دکھانا گناہ کبیرہ ہے)۔ اسی طرح جیل خانہ جات کے اسلامی بھائیوں کو عطا کردہ 52مدنی انعامات میں مدنی انعام نمبر 40 میں فرماتے ہیں : آج آپ نے کسی سے گالی گلوچ ، لڑائی جھگڑا تو نہیں کیا ؟ نیز جیل کے ماحول کو سازگار بنانے کی کوشش کی ؟ یوں ہی مدنی منوں کو عطا کردہ 40مدنی انعامات میں مدنی انعام نمبر 06میں فرماتے ہیں : کسی کا نام بگاڑنا حکم قراٰنی کے خلاف ہے۔ کسی کو (بلا اجازت شرعی) لمبا ، ٹھگنا ، موٹا وغیرہ تو نہیں کہتے ؟ اِنہیں کے مدنی انعام نمبر 08میں فرماتے ہیں: خدانخواستہ توتکار کی عادت تو نہیں ؟ خواہ ایک دن کا بچہ بھی ہو اس سے آپ کہہ کر مخاطب ہوں ، پیچھے سے بھی جمع کا صیغہ استعمال کریں ، مثلاً زید آیا ، زید کہتا تھا کی جگہ زید آئے ، زید کہتے تھے وغیرہ ۔
اِن سب مدنی انعامات کو دیکھ کر یہ بات بخوبی سمجھ آتی ہے کہ جس انداز سے بھی ممکن ہو ہر مسلمان چاہے وہ بچہ ہو یا بوڑھا ، مرد ہو یا عورت ، ہمیں سب کا احترام کرنا چاہیے ۔ آئیے قراٰن مجید کی 1 آیت مبارکہ اور 3حدیثیں سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ، تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ مسلمان کتنی عزت و شان کا مالک ہے ۔ چنانچہ
ہرمومن عزت والا ہے
اللَّه پاک ارشاد فرماتا ہے : ’’ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ‘‘( پ ۲۸ ، المنٰفقون: ۸)( ترجمۂ کنز الایمان : اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لئے ہے)۔
حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یارخان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اس آیتِ مبارکہ کےتحت فرماتےہیں:اِس سےچند مسئلےمعلوم ہوئے:۔ (1) ایک یہ کہ ہر مومن عزت والا ہے، کسی قوم کو ذلیل جاننا یااُسےکمین کہناحرام ہے (2) دوسرے یہ کہ مومن کی عزت ایمان و نیک اعمال سےہے،روپیہ پیسہ سے نہیں (3) تیسرے یہ کہ مومن کی عزت دائمی ہے ،فانی (ختم ہونےوالی)نہیں ،اس لئے مومن کی نعش اور قبر کی بھی عزت ہے(4)چوتھے یہ کہ جومومن کو ذلیل سمجھےوہ اللہ کے نزدیک ذلیل ہے،غریب مسکین مومن عزت والاہے،مالدار کافر کتےسےبدتر ہے۔ (5)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(1)مسلمان کی عزت کرو!
حضورِ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ حرمت نشان ہے : کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہ، وَمَالُہ، وَعِرْضُہ ، یعنی ہر مسلمان کا خون ،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔ (6)
حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے ، کسی کی آبروریزی نہ کرے ، کسی مسلمان کو ناحق اور ظُلمًا قتل نہ کرے ،کہ یہ سب سخت جُرْم ہیں ۔ (7)
مفتی صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو ! نہ اُسے حقارت کے الفاظ سے پکارو ! یا بُرے لَقَب سے یاد کرو ! نہ اس کا مذاق بناؤ ! آج ہم میں یہ عیب بہت ہے ، پیشوں ، نَسَبُوں ، یا غُرْبت و اِفلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں کہ وہ پنجابی ہے ، وہ بنگالی ، وہ سندھی ، وہ سرحدی ، اسلام نے یہ سارے فرق مٹا دیئے۔ شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو اُن کا نام شہد ہوجاتا ہے ۔ یوں ہی جب حضور کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے ،حبشی ہو یا رُومی !۔ (8)
دامنِ مصطفےٰ سے جو لپٹا یگانہ ہوگیا
جس کے حضور ہوگئے اُس کا زمانہ ہوگیا
(2)مومن کی عزت ملائکہ سے زیادہ
مکی مدنی حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان عالیشان ہے : ’’ اَلْمُؤْمِنُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ بَعْضِ مَلَائِكَتِهٖ ‘‘یعنی مومن اللَّه پاک کے نزدیک بعض فرشتوں سے زیادہ عزت والا ہے ۔ (9)
حکیم الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : عام مؤمنین افضل ہیں عام فرشتوں سے ، اور خاص مؤمنین افضل ہیں خاص فرشتوں سے۔یہ بھی خیال رہے کہ خاص مؤمنین سے مراد حضرات انبیاء و رُسُل و مُرسلین ( عَلَیْہِمُ السَّلَام ) ہیں، اور خواص ملائکہ سے مراد ہیں حضرت جبرئیل و میکائیل وغیرہ اشرافِ ملائکہ ( عَلَیْہِمُ السَّلَام )، اور عوام مؤمنین سے مراد ہیں صالحین مُتَّقِین جن میں خلفاء راشدین ، خاص خاص تابعین اولیاء اللہ مراد ہیں، لہٰذا حضراتِ خلفاء راشدین ،حضور غوث پاک،امام اعظم ابوحنیفہ( رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم ) عام فرشتوں سے بھی افضل(ہیں)۔ہاں انسانیت (یعنی انسان ہونا)افضل ہے مَلَکِیَّت (یعنی فرشتہ ہونے) سے ۔ (10)
حضرتِ سیِّدُنا علّامہ عبدالرءوف مَناوی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: فرشتوں میں برائی کی طرف لےجانے والی شہوت اورخبیث نفس نہیں ہے،جبکہ مؤمن پر ہلاکت میں ڈالنے والی شہوت ، شیطان اور مومن کا سب سے بڑا دشمن نفس اَمّارہ مُسَلَّطْ ہیں لہٰذا (ان مذ کورہ چیزوں کی وجہ سے) مومن کو ہمیشہ سخت پریشانیوں اور مصیبتوں کا سامنا رہتاہے اوراَجْرو بزرگی کا مدار مشقت پر ہے(یعنی جتنی مشقت اور پریشانی زیادہ، اتنانیک عمل کاثواب زیادہ)۔حضرتِ سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : اگر مومن گناہ نہ کرتا توکائنات میں پرندے کی طرح پرواز کرتا رہتالیکن اللہ پاک نے گناہوں کےسبب اِسے اس بات سے روک دیا۔ (11)
(3)مؤمن کی حُرمت کعبہ سے زیادہ ہے
شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے کعبہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا :تُو خود اور تیری فضا کتنی اچھی ہے، تُو کتنی عظمت والا ہے اور تیری عزت و حُرمت کتنی عظیم ہے، اُس ذات پا ک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ( صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ) کی جان ہے! اللہ پاک کے نزدیک مؤمن کی جان ومال اور اُس سے اچھا گمان رکھنے کی عزت و حُرمت تیری حرمت سے بھی زیادہ ہے۔ (12)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! مسلمان کس رفعتِ شان کا مالک ہے کہ اس کی عزت و حرمت کعبۂ مشرفہ سے بھی بڑھ کر ہے ۔ یاد رکھئے ! جہاں قراٰن و حدیث میں مسلمان کی عزت و حرمت کا بیان ہے وہیں اس کی عزت کو کسی بھی انداز سے پامال کرنے ، اس کی دل آزاری کرنے ، مذاق اڑانے ، گھورنے جھڑکنے وغیرہ سے بچنے کا بھی ذکر ہے ۔ آئیے اس سلسلے میں 02 آیات اور ان کی وضاحت سماعت کرتے ہیں ۔ چنانچہ
(1)مسلمان کا مذاق اڑانا منع ہے
اللَّه پاک ارشاد فرماتا ہے : ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ‘‘( پ ۲۶ ، الحجرات: ۱۱) ( ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو !نہ مرد مَردوں سے ہنسیں !عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں ،اور نہ عورتیں عورتوں سے !دور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوں،اور آپس میں طعنہ نہ کرو! اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو! کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانااور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں)۔
حضرتِ سیّدُنا امام ضحّاک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتےہیں: یہ آیت” بَنِی تمیم “ کےان افراد کےبارےمیں نازل ہوئی جوحضرتِ عمّار،حضرتِ خبّاب،حضرتِ بلال، حضرتِ صُہَیب ،حضرتِ سلمان اور حضرتِ سالم وغیرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ غریب صحابہ کرام کی غربت دیکھ کر ان کا مذاق اڑایاکرتےتھے،ان کےبارےمیں یہ آیت ناز ل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مردوں سےنہ ہنسیں،یعنی مال دار غریبوں کا ، بلند نسب والےدوسرے نسب والوں کا ،تندرست اپاہج کااور آنکھ والےاس کامذاق نہ اڑائیں جس کی آنکھ میں عیب ہو،ہوسکتاہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سےصدق اور اخلاص میں بہتر ہوں۔ (13)
نوٹ: آیتِ مبارکہ میں عورتوں کا جداگانہ ذکر اس لئے کیاگیا کہ عورتوں میں ایک دوسرے کامذاق اڑانےاور اپنے آپ کو بڑا جاننے کی عادت بہت زیادہ ہوتی ہے ،نیز آیاتِ مبارکہ کا یہ مطلب نہیں ہےکہ عورتیں کسی صورت آپس میں ہنسی مذاق نہیں کرسکتیں، بلکہ چند شرئط کےساتھ ان کا آ پس میں ہنسی مذاق کرنا جائزہے،جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتےہیں:(عورتوں کی ایک دوسرےسے) جائز ہنسی جس میں فحش ہو،نہ ایذئے مسلم ،نہ بڑوں کی بےادبی ،نہ چھوٹوں سےبد لحاظی ،نہ وقت ومحل کےنظر سےبےموقع ،نہ اس کی کثرت اپنی ہمسرعورتوں سےجائز ہے۔ (14)
اس آیت سےتین مسئلےمعلوم ہوئے:۔ (1) مسلمانوں کی کوئی قوم ذلیل نہیں ،ہر مومن عزت والاہے (2) عظمت کادارومدار محض نسب پر نہیں تقوی و پرہیزگاری پر ہے (3) مسلمان بھائی کو نسبی طعنہ دینا حرام اور مشرکوں کاطریقہ ہے آج کل یہ بیماری مسلمانوں میں عام پھیلی ہوئی ہے۔نسبی طعنہ کی بیماری عورتوں میں زیادہ ہے، انہیں آیت سے سبق لینا چاہیے، نہ معلوم بارگاہ الہی میں کون کس سے بہتر ہو۔ (15)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(2)مسلما ن کو اذیت دینا بدترین جرم ہے
اللہ پاک قراٰن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :’’ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا ‘‘ ( پ ۲۲ ، الاحزاب : ۵۸) ( ترجمۂ کنز الایمان : اور جو ایمان والے مَردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کُھلا گناہ اپنے سر لیا)۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اِس آیت کے تحت تفسیر ’’خزائن العرفان‘‘ میں لکھتے ہیں : یہ آیت اُن منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت علی مرتضٰی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کو ایذا دیتے تھے اور ان کے حق میں بدگوئی کرتے تھے ۔ حضرت فضیل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا کہ کتّے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں ، تو مومنین و مومنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جُرم ہے۔ (16)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ان آیات پر غور کیجئے ! کہ مسلمان کی ناموس اور اس کی حرمت کا کیا عالم ہے کہ خود ربِّ کائنات انہیں ایذا دینے ، برے لقب سے پکارنے ، طعنہ زنی کرنے وغیرہ سے منع فرمارہاہے ۔ آئیے اب 05 وہ احادیث کریمہ سنتے ہیں جن میں مسلمان کی عزت کا پاس رکھتے ہوئے اسے تکلیف دینے ، ستانے وغیرہ سے منع کیا گیا ہے ۔ چنانچہ
(5) فرامین مصطفےٰ
(1) بے شک کسی مسلمان کی ناحق بےعزتی کرنا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ (17) (2) مسلمان کی ناحق بےعزتی کرناسود کھانے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ (18)(3)جو کسی مسلمان کو ڈرانے کے لئے گھور کر دیکھے گا اللّٰہ پاک اسے روزِقیامت خوف میں مبتلا فرمائے گا۔ (19)
حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :بھائی سے مراد مسلمان بھائی ہے یعنی جوشخص کسی مسلمان کو بلاقُصور تیز نظر سے گھور کر ڈرائے۔ ورنہ قصورمند کو گھورنا ڈرانا ضروری ہے۔ (مزید لکھتے ہیں:)اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کو رحمت کی نظر سے دیکھنا ثواب ہے کہ اللّٰہ تعالٰی اُسے پاک اُسے عنایت کی نظر سے دیکھے گا۔ (20)
(4)سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ دو سرے مسلمان کی طرف آنکھ سے اِس طرح اشارہ کرے جس سے تکلیف پہنچے۔ (21)(5) کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔ (22)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں یقینا غورو فکر کرنےکی حاجت ہے کہ ہم کتنا مسلمان کا احترام کرنے اور اس کی عزت کا پاس رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ آئیے اب 04 عظیم بزرگوں کے فرمودات بھی سننے کی سعادت حاصل کر لیتے ہیں ۔ چنانچہ
(1)مسلمانوں کا خدا حافظ ہے
تابعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا قَتادہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : مسلمانوں کو تکلیف دینے سے بچو !کیونکہ اللہ پاک ان کا حافظ ہوتا ہے اور ان کی خاطر غضب فرماتا ہے۔ (23)
(2)مسلمانوں کو تکلیف دینے کا عذاب
حضرتِ سیِّدُنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : جہنمیوں پر ایک قسم کی خارش مُسَلَّط کر دی جائے گی ، جس کی وجہ سے وہ اپنے بدنوں کوکھجائیں گے یہاں تک کہ اُن میں سے کسی کی ہڈی ظاہر ہو جائے گی تو ندا کی جائے گی : اے فلاں ! کیا تجھے اِس کی وجہ سے تکلیف ہو رہی ہے ؟ تو وہ کہے گا : ہاں ! تو منادی کہے گا : یہ اُس کا بدلہ ہے جو تو مسلمانوں کو تکلیف دیتا تھا۔ (24)
(3)عزت کے ہزار چاند لگادیے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: مسلمان ہونے سے دونوں جہان کی عزت حاصل ہوتی ہے۔مزید فرماتے ہیں :اسلام کی عزت کے برابر اور کیا عزت ہے، اِس (یعنی اسلام)نے تو اِسے (یعنی عزت کو)اور بھی چار چاند نہیں ، بلکہ ہزار چاند لگادئے، اگر کوئی چمار (یعنی موچی) بھی مسلمان ہو تو مسلمان کے دین میں اُسے حقارت کی نگاہ سے دیکھنا حرام اور سخت حرام ہے وہ ہمارا دینی بھائی ہوگیا۔ (25)
(4)مسلمان کی تحقیر سخت حرام ہے
حضرت علاّمہ عبد المصطفےٰ اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتےہیں: اِہانت اور تحقیر کیلئے زبان یا اشارات، یا کسی اور طریقے سے مسلمان کا مذاق اڑانا حرام و گناہ ہے، کیونکہ اس سے ایک مسلمان کی تحقیر اور اُس کی ایذاء رسانی ہوتی ہے اور کسی مسلمان کی تحقیر کرنا اوردکھ دینا سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (26)ایک اور مقام پرفرماتےہیں: کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اور اس کی تحقیر کرنے کے لیے اس کی خامیوں کو ظاہر کرنا ،اس کا مذاق اڑانا،اس کی نقل اتارنایا اس کو طعنہ مارنا یا عار دلانا یا اس پر ہنسنا یا اس کو برے برے القاب سے یاد کرنا اور اس کی ہنسی اڑانا مثلا آج کل کے بزعم خود اپنے آپ کو عرفی شُرَفاء کہلانے والے کچھ قوموں کو حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں اور محض قومِیّت کی بنا پر ان کا تَمَسْخُر اور اِستہزاء کرتے اور مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور قسم قسم کے دل آزار اَلقاب سے یاد کرتے رہتے ہیں۔ کبھی طعنہ زنی کرتے ہیں۔ کبھی عار دلاتے ہیں یہ سب حرکتیں حرام و گناہ اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔ لہٰذا ان حرکتوں سے توبہ لازم ہے، ورنہ یہ لوگ فاسق ٹھہریں گے۔ اسی طرح سیٹھوں اور مالداروں کی عادت ہے کہ وہ غریبوں کے ساتھ تمسخر اور اہانت آمیز القاب سے ان کو عار دلاتے اور طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں اور طرح طرح سے ان کا مذاق اڑایا کرتے ہیں۔ جس سے غریبوں کی دل آزاری ہوتی رہتی ہے۔ مگر وہ اپنی غربت اور مفلسی کی وجہ سے مالداروں کے سامنے دم نہیں مار سکتے۔ ان مالدارو ں کو ہوش میں آ جانا چاہیے کہ اگر وہ اپنے ان کرتوتوں سے توبہ کرکے باز نہ آئے تو یقینا وہ قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو کر جہنم کے سزاوار بنیں گے اور دنیا میں ان غریبوں کے آنسو قہر خداوندی کا سیلاب بن کر ان مالداروں کے محلات کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائیں گے۔ (27)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارےاسلامی بھائیو!آپ نے بزرگانِ دین کے فرمودات ملاحظہ کئے، آئیے بزرگوں کے چند واقعات بھی سنتے ہیں ، تاکہ احترام مسلم کا جذبہ مزید بیدار ہو ۔
مسلمان کو دھوکا نہیں دوں گا
حضرتِ سیِّدُنا سَری سَقَطی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے باداموں کا ایک ’’کُرّ‘‘ (ایک پیمانہ) 60 دینار میں خریدا اور اپنے روزنامچے (ہرروزکے حساب لکھنے کی کتاب ) میں اس کا نفع تین دینار لکھ دیا ، گویا کہ اُنہوں نے ہر دس دینار پر صرف آدھا دینار نفع لینا بہتر خیال فرمایا ۔ کچھ ہی دنوں میں باداموں کا ایک ’’کُرّ‘‘90 دینار کا ہو گیا ۔ دَلّال (کمیشن ایجنٹ/Commission Agent) آیا اور اس نے بادام طلب کئے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا : لے لو ! ۔ اُس نے پوچھا : کتنے کے ؟ فرمایا : 63 دینار کے ۔ دلّال بھی نیک لوگوں میں سے تھا ، اس نے کہا : اس وقت یہ بادام 90دینار کے ہو چکے ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا : میں نے ایک عہد کیا ہے جسے میں ہرگز نہیں توڑ سکتا ، لہٰذا میں انہیں63 دینار میں ہی فروخت کروں گا ۔ دَلّال نے جواب دیا: میں نے بھی اپنے اور اللّٰہ پاک کے مابین اِس بات کا عہد کررکھا ہے کہ کسی مسلمان کو دھوکا نہیں د وں گا۔ اس لئے میں آپ سے یہ بادام90دینار میں ہی خریدوں گا ۔ (28)
میرا کسی غیر عورت سے کیا تعلق !!
منقول ہے کہ ایک بزرگ نے اپنی زوجہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تو اُن سے پوچھا گیا : زوجہ کے بارے میں آپ کو کس چیز نے شک میں ڈالا ؟ اُنہوں نے فرمایا : عقل مندآدمی اپنی بیوی کی پردہ دَرِی نہیں کرتا ۔ جب اُنہوں نے اُس عورت کو طلاق دے دی توپھر پوچھا گیا : آپ نے اُسے طلاق کیوں دی ؟ فرمایا : میرا کسی غیر عورت سے کیا تعلق!! (یعنی میں کیوں کسی اجنبی عورت کے بارے میں کچھ کہوں) ۔(29)
سُبحٰن الله ! كيا عظيم سوچ ہے کہ رشتہ قائم ہوتے ہوئے تیسرے فرد کو گھر کے معاملات میں دخل نہ دینے دیا ، اور رشتہ ختم ہونے کے بعد بھی ایک مسلمان عورت کی کردار کشی سےمحفوظ رہے ۔ اللہ پاک ہمیں بھی نصیب فرمائے ۔
گناہ سے نفرت ہے ، گناہگار سے نہیں
مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو دَرْداء رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا جس نے کوئی گناہ کیا تھا اور لوگ اسے لعن طعن کر رہے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے اگر تم اس آدمی کو کسی کنویں میں گرا دیکھو تو اسے نکالو گے نہیں ؟ وہ بولے : بالکل نکالیں گے ۔ فرمایا : تو اپنے بھائی کو لعن طعن مت کرو ! اور اللہ پاک کی حمد بیان کرو کہ اس نے تمہیں اس گناہ سے محفوظ رکھا ! وہ بولے : کیا آپ کو اس پر غصہ نہیں آرہا ؟ فرمایا : مجھے صرف اس کے عمل سے بیر (یعنی دشمنی)ہے ۔ جب یہ وہ عمل چھوڑ دے تو یہ بھی میرا بھائی ہے ۔(30)
اصلاح کرنے میں لعن طعن سے گریز
ایک نوجون اپنا تہبند زمین پر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا صِلَۃ بن اَشْیَم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے ساتھیوں نے اُسے سرزنش کرنا چاہی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا : رہنے دو ! تمہارا یہ کام میں کر دیتا ہوں ۔ پھر اس نوجوان سے فرمایا : اے بھتیجے ! مجھے تم سے ایک کام ہے ۔ وہ بولا : جی ! وہ کیا ؟ فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی شلوار اوپر کرلو !۔ وہ بولا : جی کیوں نہیں ، آپ کا حکم ماننا تو اعزاز کی بات ہو گی ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنی شلوار اوپر کرلی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : جو تم کرتے یہ اس سے بہتر تھا ۔ کیونکہ اگر تم اس کو لعن طعن کرتے اور اسے تکلیف دیتے تو وہ بھی تمہیں گالیاں دیتا ۔ (31)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ اگر کسی مسلمان کی اصلاح کرنی ہو تب بھی اسے جھڑکنے یا ذلیل کرنے کے بجائے پیار محبت سے اسے سمجھایا جائے کہ بھلے وہ گناہگار یا بدکار ہے لیکن ہے ہمارا ہی مسلمان بھائی ، اور ہمیں مسلمان کے احترام کا حکم قراٰن و حدیث سے اور اس حکم پر عمل کا جذبہ اقوال و افعال بزرگان دین سے ملتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی سنتے چلئے کہ جس طرح ایک مسلمان کی کردار کشی یا اس کی عزت بے عزتی کرنے سے بچنا ہم پر لازم ہے اسی طرح کہیں مسلمان کی بے حرمتی ہوتے دیکھ کر قدرت ہونےکی صورت میں اس کی مدد کرنا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ
اپنے بھائی کی عزت بچائیے
حضرتِ سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’جو اپنے بھائی کی عزت بچائے گا اللہ پاک قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم سے دور کردے گا ۔‘‘ ایک روایت میں ہے : جس نے اپنے بھائی کی عزت بچائی اللہ پاک قیامت کے دن اس سے اپنا عذاب دور فرمادے گا۔ پھر رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:’’وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ ‘‘( پ، ۲۱ ، الروم : ۴۷) ( ترجمۂ کنزالایمان : اور ہمارے ذمہ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا)۔ ([32])
جہنم کے پل پر کسے روکا جائے گا؟
حضرتِ سیِّدُنا سہل بن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہيں کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جس نے کسی مؤمن کو منافق سے بچایا اللہ پاک ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم سے بچائے گا اورجس نے کسی مسلمان کو رُسوا کرنے کے لئے کوئی بات کہی اللہ پاک اسے جہنم کے پل پر روک لے گا یہاں تک کہ وہ اپنے کہے کی سزا بھگت لے۔ (33)
1…… مسند ابو یعلی ، مسند انس بن مالک ، ۳ / ۹۵ ، حدیث : ۲۹۵۱ ۔
2…… حدائق بخشش ، ص ۱۷۶۔
3…… معجم کبیر، ۶ / ۱۸۵ ،حدیث: ۵۹۴۲ ۔
4…… کیمیائے سعادت ، رکن دوم در معاملات ، اصل سوم ، ١ / ٣٣٣۔
5…… نور العرفان، ص۸۸۶۔
6…… مسلم،کتاب البر والصلة،باب تحریم ظلم المسلم … الخ،ص ۱۳۸۶ ،حدیث: ۲۵۶۴ ۔
7…… مراٰۃالمناجیح،٦ / ٥٥٣۔
8…… مراٰۃ المناجیح ، ٦ / ٥٥٢۔
9…… ابن ماجه، کتاب الفتن ، باب المسلمون فی ذمة الله ، ۴ / ۳۲۶ ، حدیث : ۳۹۴۷ ۔
10…… مراٰۃ المناجیح ، ۷ / ۶۰۵۔
11…… فیض القدیر ، حرف المیم ، ۶ / ۳۳۲ ، تحت الحدیث : ۹۱۵۵ ۔
12…… ابن ماجه، ابواب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، ۴ / ۳۱۹ ، حدیث: ۳۹۳۲ ۔
13…… خازن،پ ۲۶ ،الحجرات،تحت الآیة: ۱۱ ، ۴ / ۱۶۹ ۔
14…… فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۱۹۴۔صراط الجنان،پ۹ / ۴۲۶۔
15…… صراط الجنان،۹ / ۴۳۲۔
16…… خزائن العرفان ، ص ٧٨٩۔
17…… ابو داؤد، کتاب الادب ، باب فی الغیبة ، ، ۴ / ۳۵۳ ،حدیث: ۴۸۷۷ ۔
18…… ابو داؤد، کتاب الادب ، باب فی الغیبة ، ، ۴ / ۳۵۳ ،حدیث: ۴۸۷۶ ۔
19…… شعب الایمان،باب فی طاعة اولی الامر،فصل فی ذکر … الخ، ۶ / ۵۰ ،حدیث: ۷۴۶۸ ۔
20…… مراٰۃ المناجیح،٥ / ٣٦٩۔
21…… احیاء العلوم ،کتاب آداب الالفة … الخ،الباب الثالث، ۲ / ۲۴۳ ۔
22…… ابوداود،کتاب الادب،باب من یاخذ … الخ، ۴ / ۳۹۱ ، حدیث: ۵۰۰۴ ۔
23…… الدرالمنثور ،الاحزاب ، تحت الاٰیة : ۵۸ ، ۶ / ۶۵۷ ۔
24…… احیاء العلوم ،کتاب آداب الالفة، ۲ / ۲۴۲ ۔
25…… فتاوی ٰرضویہ،۱۱ / ۷۱۹۔
26…… جہنم کےخطرات، ص ۱۷۳۔
27…… جہنم کےخطرات،ص،۱۷۵۔
28…… احیاء العلوم ، ۲ / ۱۰۲ ۔
29…… احیاء العلوم ، ۲ / ۷۳ ۔
30…… منھاج القاصدین ،ربع العادات ، کتاب الامربالمعروف والنھی عن المنکر، ۱ / ۵۲۴ ۔
31…… منھاج القاصدین ،ربع العادات ، کتاب الامربالمعروف والنھی عن المنکر، ۱ / ۵۲۵ ۔
32…… التر غیب والتر ھیب ،کتاب الادب ، الترہیب من الغیبة ...الخ، ۳ / ۳۳۴ ،حدیث : ۴۳۷۱ ۔
33…… ابو داؤد، کتاب الادب ، باب من رد عن مسلم غیبة ، ، ۴ / ۳۵۴ ،حدیث: ۴۸۸۳ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع